ابھی آنے والا ہے Wed 6:00 PM  AEST
ابھی آنے والا ہے شروع ہوگا 
Live
Urdu radio

آسٹریلیا میں مفت قانونی مدد کیسے حاصل کی جائے؟

Source: Getty Images/Julius Adamek/EyeEm

آسٹریلیا کا قانونی نظام عام لوگوں کے لیے الجھن کا باعث بن سکتا ہے ، اور مشاورت کے لیے پیشہ ورانہ وکیل کی مدد ضرورت ہو سکتی ہے۔ لیکن وکلاء سینکڑوں ڈالر فی گھنٹہ کے حساب سے فیس وصول کرتے ہیں ،جس کی ادائیگی ہر ایک کے بس کی بات نہیں ۔ مگر آسٹریلیا میں آپ قانونی مدد کے لئے وکلا تک مفت رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔

    پسماندہ افراد  اور ضرورت مند افراد جنہیں قانونی مدد کی ضرورت ہوتی ہے وہ اپنی ریاست یا علاقے میں لیگل ایڈ کمیشن سے مدد لے سکتے ہیں یا کمیونٹی لیگل سینٹرز یا ایبورجینل اور ٹورس آبنائے آئلینڈر لیگل سروسز سے بھی  رابطہ کیا جا سکتا ہے۔ موناش یونیورسٹی میں قانون کے پروفیسر ڈاکٹر جیف گڈنگز کا کہنا ہے کہ لیگل ایڈ اتھارٹیز کے پاس محدود فنڈنگ ہوتی  ​​ہے ، اس لیے فوری طور پر ضرورت مندوں کو ترجیح دی جاتی ہے۔

man and the phone
Legal Aid commissions provide free legal information and advice over phone
Getty Images/LumiNola

 مینسِ اینڈ میرٹ ٹیسٹ کے ذریعے آپ کےاثاثوں ، ذرائیع آمدنی  اور قانونی مسئلے کی نزاکت کو جانچتا ہے اور اسی نتیجے کی روشنی میں مفت قانونی مدد کا فیصلہ کیا جاتا ہے-  یہ مفت مدد مجرمانہ ، سول یا خاندانی نوعیت کے مقدمات کے لئے حاصل کی  جاسکتی ہے۔

ایک فرد کو صرف قانونی معلومات یا قانونی معاملے کے بارے میں مخصوص مشورے کی ضرورت ہو سکتی ہے۔ لیکن اگر کسی کو مقدمے میں نمائندگی کی ضرورت ہو تو  قانونی امداد کے لیے باقاعدہ  درخواست دینا ہوتی ہے۔  

سڈنی یونیورسٹی کے لاء پروفیسر سائمن رائس کا کہنا ہے کہ عام طور پر متوسط آمدنی والے افراد قانونی امداد کی گرانٹ کے اہل نہیں ہوتے۔

انہوں نے جولائی 2020 اور مئی 2021 کے درمیان آسٹریلیا کے قومی قانونی امداد کے اعدادوشمار کا تجزیہ کیا  جس سے معلوم ہوا کہ حکومتی گرانٹ حاصل کرنے والوں میں 65 فیصد مرد اور33 فیصد خواتین تھیں



meeting between two man
Everybody who contacts community legal centres will at least get help in legal information and guidance for self-help resources
Getty Images/Weekend Images Inc

ملک بھر میں ، 170 آزاد ، غیر منافع بخش کمیونٹی قانونی مراکز مفت قانونی مدد فراہم کرتے ہیں ، مفت قانونی مدد میں ماہرانہ معلومات ، حوالہ جات ، قانونی تعلیم ، مشورہ ، کیس ورک اور نمائندگی کی خدمات شامل ہیں۔

 نیشنل پیکِ باڈی کمیونٹی لیگل سینٹرز آسٹریلیا کے سی ای او نسیم ارریج کا کہنا ہے کہ کمیونٹی لیگل سینٹرز کمیونٹی کے ماہرین اور نمائیندوں پر مشتمل ہوتے ہیں جس کے باعث ان لیگل سنٹرز نے مقامی کمیونٹی سروسز کے ساتھ  ایک مضبوط نیٹ ورک قائیم کر رکھا ہے۔

Lawyer back view
In Australia for family and civil law matters, you may choose to represent yourself in court
Getty Images/Chris Ryan

مسٹر اریج کا کہنا ہے کہ کمیونٹی لیگل سینٹرز فیصلہ کرتے ہیں کہ وہ کس قسم کی قانونی مدد فراہم کرسکتے ہیں۔

 ہر وہ شخص جو کمیونٹی کے قانونی مراکز سے رابطہ کرتا ہے اسے بنیادی قانونی مشاورت اور خود معلومات جمع کرنے کے طریقوں کے بارے میں رہنمائی فراہم کی جاتی ہے۔ گھریلو تشدد کا شکار، ارجنٹائنا کی ایک مہاجر نے لیگل ایڈ نیو ساؤتھ ویلز اور لیگل کمینوٹی مراکز کے توسط سے  قانونی امداد اور حاصل کرنے کی تگ و دو میں ایک سال گزارا 

 



legal desk
At local courts and tribunals, anyone can approach a duty lawyer for assistance if they have a matter at court that day and do not have their lawyer
Getty Images/seksan Mongkhonkhamsao

ویمنز  لیگل سروسز وکٹوریہ کا ادارہ خراب گھریلو تعلقات  اور اسکے نتیجے میں ہونے والے تشدد سے نمٹنے کے لئے خواتین کو مفت قانونی خدمات فراہم کرتا ہے۔ سی ای او ہیلن میتھیوز کا کہنا ہے کہ محدود فنڈنگ ​​اور تربیت یافتہ عملے کی  کمی کی وجہ سے یہ تنظیم بہت کم خواتین کو قانونی مشورے اور نمائندگی فراہم کر پا تی ہے۔

 

ملک بھر میں ، مقامی عدالتوں اور ٹربیونلز میں اپنے وکیل کی غیر موجودگی کی صورت میں  کوئی بھی  مدعی مدد کے لیے ڈیوٹی وکیل سے رجوع کر سکتا ہے ۔ ڈیوٹی وکیل کی  خدمات مفت ہیں۔  مگر ڈیوٹی وکلاء صرف اس دن محدود مدد فراہم کرسکتے ہیں۔ اگر آپ کا معاملہ پیچیدہ ہے تو ، ڈیوٹی وکیل آپ کی عدالت میں پیشی کو بعد کی تاریخ میں بدلنے میں مدد کر سکتا ہے۔

 آسٹریلیا میں فوجداری عدالت کے سامنے پیش ہونے والے شخص کی نمائندگی قانونی پیشہ ور وکیل کے ذریعے ہونی چاہیے۔ جبکہ خاندانی اور سول قانون کے معاملات میں  آپ خود اپنی نمائندگی کر سکتے ہیں۔

 سڈنی یونیورسٹی کے لاء پروفیسر سائمن رائس کا کہنا ہے کہ اگرچہ عدالتیں خود نمائندگی کرنے والے افراد کے لیے ممکنہ قابل عمل انتظامی ماحول بناتی ہیں ، پھر بھی آپ کو عدالتی دستاویزات تیار کرنے اور عدالت اور ٹربیونل سے بات کرنے کے لیے قانونی سمجھ بوجھ نا چاہیے ۔

قانون کے پروفیسر ڈاکٹر جیف گڈنگز کا کہنا ہے کہ موناش یونیورسٹی ایک فیملی لاء اسسٹنس پروگرام چلاتی ہے جو فیملی لاء لیٹیگیشن کے تحت خود نمائندگی کرنے والے افراد کی مدد کے لیے بنایا گیا ہے۔

   آسٹریلیا کے کچھ  دوسرے لاء اسکول خود نمائیندگی کرنے کرنے والوں کو  کلینیکل ٹرائیل پروگرام میں شامل کرکے ان کی تربیت کر تے ہیں۔  گریفتھ یونیورسٹی ، ڈیکن یونیورسٹی ، بانڈ یونیورسٹی اور کئی تعلیمی ادارے ایسے پروگرام چلاتی ہیں۔ قانون کے کلینک میں ، ایک اہل اور تجربہ کار وکیل کی نگرانی میں ، طلباء قانونی عمل اور عدالت کے طریقہ کار کے بارے میں عام لوگوں کو مفت معلومات اور مدد فراہم کرتے ہیں۔ ویب سائٹس کی ایک وسیع رینج آپ کو عدالتی نظام کو سمجھنے میں مدد دینے کے ساتھ مفت قانونی معلومات فراہم کرتی ہے۔ ماریہ کا وہ  قانونی مقدمہ  ابھی جاری ہے جس میں اُن کے بچوں کی تحویل کا معاملہ بھی  شامل ہے ۔

 مورگیج پر ایک گھر کی ملکیت  رکھنے کے باعث وہ  مفت قانونی امداد کی اہل نہیں تھیں اور کئی سال گزرنے کے باوجود وہ ایسے وکیل کی تلاش میں ہیں جو ان کا مقدمہ بونس کام کے طور پر لے سکے۔جسے پروبونو کہتے ہیں

 ۔ اپنی ریاست یا علاقے میں پرو بونو خدمات کے بارے میں معلومات کے لیے ، آسٹریلوی پرو بونو سینٹر کی ویب سائٹ دیکھئے۔

 نیشنل لیگل اسسٹنس  پروگرام کے تحت آسٹریلین حکومت  پانچ سالوں میں 2.3 بلین ڈالر سے زیادہ کی رقم تمام ریاستوں اور علاقوں کو قانونی معاونت کے شعبے کے لیے فراہم کرے گی  لیکن اس حکومتی گرانٹ میں  تواتر سے کٹوتی کے باعث مفت قانوںی مدد کی خدمات میں کمی ہوتی جا رہی ہے۔

 

 

https://www.nationallegalaid.org/


 پوڈ کاسٹ سننے کے لئے نیچے دئے اپنے پسندیدہ پوڈ کاسٹ پلیٹ فارم سے سنئے 

 

 

This story is also available in other languages.