ابھی آنے والا ہے Sun 6:00 PM  AEST
ابھی آنے والا ہے شروع ہوگا 
Live
Urdu radio
ایس بی ایس اردو

آسٹریلیا میں یوم یکجہتی کشمیر پر ریلیز ، سمینار اور نمائیشیں

People crying while holding of their relatives during a day-long hunger strike in Srinagar, the summer capital of Indian Kashmir.(Archive) Source: EPA

یوم یکجہتی کشمیر اس سال بھی ۵ فروری کو منایا جا رہا ہے۔ اس موقع پر آسٹریلیا میں بھی کئی پروگرام اور ریلیز منعقد ہو رہی ہیں۔

 ایک طرف آسٹریلیا سمیت دیگر ممالک اور پاکستان میں یوم یکجہتی کشمیر پر ریلیز ، سمینار اور نمائیشیں منعقد ہورہی ہیں تو دوسری طرف  اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی رپورٹ میں بھارتی حکومت کی کشمیر پالیسوں پر تنقید کی ہے۔

 اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی رپورٹ

 اقوام متحدہ کے مطابق کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی سے قبل اور اس کے بعد تواتر سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی متعدد رپورٹس سامنے آ چکی ہیں۔جولائی میں، اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے دفتر نے 43 صفحات پر مشتمل ایک رپورٹ جاری کی جس میں کشمیر کے ہندوستانی اور پاکستانی دونوں حصوں میں ریاستی سیکورٹی فورسز اور مسلح گروپوں کی طرف سے بدسلوکی پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔

رپورٹ میں پتا چلا ہے کہ "2016 کے بعد سے ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں ہندوستانی سیکورٹی فورسز نے ہجوم کو کنٹرول کرنے والے ہتھیار کے طور پر پیلٹ فائرنگ شاٹ گن کا استعمال جاری رکھا ہے، اس کے باوجود بڑی تعداد میں حادثاتی شہریوں کی ہلاکتوں اور زخمیوں کی"۔

اس میں یہ بھی بتایا گیا کہ کشمیر کے علاقے کو انٹرنیٹ تک رسائی میں رکاوٹوں کا سامنا ہے کیونکہ حکام اکثر انٹرنیٹ خدمات کو من مانی طور پر معطل کرتے ہیں۔

اقوام متحدہ  کے انسانی حقوق پر نظر رکھنے والے ذیلی ادارے ہیو من رائیٹس واچ کے مطابق بھارتی حکومت نے جموں و کشمیر میں اگست 2019 میں 18 ماہ کی انٹرنیٹ بندش کو ہٹا دیا تھا جس سے پہلے بھارت نے ریاست کی آئینی خودمختاری کو منسوخ کر دیا اور اسے دو وفاقی حکومت والے علاقوں میں تقسیم کر دیا۔ کشمیر میں صحافیوں کو ہراساں کرنے میں اضافہ ہوا اور کچھ کو دہشت گردی کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ اقوام متحدہ کے ماہرین نے کشمیر میں ہونے والی زیادتیوں پر تشویش کا اظہار کیا، جس میں صحافیوں کی من مانی حراست، مبینہ حراست میں قتل، اور "مقامی آبادی کے خلاف استعمال ہونے والے بنیادی حقوق کی منظم خلاف ورزیوں کے بڑھتے ہوئے واقعات شامل ہیں۔

 یوم یک جہتی کشمیر پر پروگرام 

پاکستان ہائی کمیشن کینبرا کے زیرِ اہتمام کشمیریوں کے ساتھ یک جہتی پر چار فروری کی شام کو ایک زوم کانفرنس کے ذریعے لائیو ویبینار کا انعقاد کیا گیا۔ 

 آسٹریلیا میں پاکستان کے ہائی کمشنر زاہد حفیظ چوہدری کی سربراہی  میں ہونے والے ویبینار میں سنیٹر مہرین فاروقی , سنیٹر  ڈیویڈ شو بریج اور سنیٹر جینت رائیٹ  اور کے گرینز کی سابقہ ممبر لی ریھنین کے علاوہ یونیورسٹی آف ویسٹیرن آسٹریلیا کی پروفیسر سمینہ یاسمین  اور پاکستان سے سابقہ سفیر اعزاز چوہدری سمیت کئی شرکا نے خیالات کا اظہار کیا۔۔کشمیریوں کے ساتھ یک جہتی کے اظہار کے لئے سڈنی کینبرا، برسبین،  پرتھ اور ایڈیلیڈ سمیت دیگر شہروں سے بھی لوگ ویبینار میں شریک تھے۔ مقررین نے  کشمیر میں ہونے والی زیادتیوں پر تشویش کا اظہار کیا۔

Webinar on “Standing with Kashmiri People.
High Commission for Pakistan, Canberra organized a webinar on “Standing with Kashmiri People”.
High Commission for Pakistan, Canberra

آسٹریلیا میں ہونے والے پروگراموں میں کشمیریوں کے ساتھ یک جہتی کے لئے  ۵ فروری کو کشمیریوں کے حامی گروپس کی جانب سے اس مشترکہ ریلی کا اہتمام کیا گیا ہے۔ دیگر حاضرین کے ساتھ پاکستانی ہائی کمشنر حفیظ چوہدری نے مسئلہ کشمیر کو اقوامِ متحدہ  کی قرارداوں کے مطابق حل کرنے پر زور دیا۔ 

ملبورن میں بروز ہفتہ، ۵ فروری ۲۰۲۲، شام 6 بجے فڈریشن سکویر میں یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کا مظاہرے کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔ اس مظاہرے کا انعقاد پاکستانی برادری کے سربراہ میاں آصف نعیم اور کارکنان، سماجی اور انسانی حقوق کی کارکن کرن ولی اور کشمیری حقوق کی حق میں آواز اٹھانے والی ایک کشمیری تنظیم، “سٹینڈ ود کشمیر” کر رہے ہیں۔منتظمین کے مطابق اس مظاہرے کا مقصد کشمیری عوام پر کئی دہایوں سے ہوتے آ رہے مبینہ مظالم کے خلاف آواز اٹھانا ہے۔ اس کے علاوہ اس کا مقصد کشمیری عوام کو یہ پیغام دینا بھی ہے کہ آزادی کی اس جدوجہد میں وہ اکیلے نہیں ہیں۔ منتظمین نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس مظاہرے میں بھرپور شرکت کریں۔ میلبورن سی بی ڈی میں اس پُر امن ریلی  کا انعقاد ہو رہا ہے جس میں کشمیریوں کی حمایت کرنے والے کئی آسٹریلین کمینوٹی گروپس شریک ہو رہے ہیں اس کے علاوہ سڈنی اور دیگر شہروں میں بھی اس موقع کی مناسبت سے پروگرام ہوں گےہیں۔

 میلبورن پرتھ، سڈنی اور دیگر آسٹریلین شہروں  کے ساتھ دنیا کے دیگر ممالک میں اس سے پہلے ۲۰۱۹ بھی کشمیری عوام کے حامیوں کی طرف سے آرٹیکل 370 اور 35 اے کے خاتمے کے خلاف  ریلیاں نکالی گئی تھی  ۔ 

پہچان میڈیا نیٹ ورک کی ماہ رخ کے مطابق سنیچر پانچ فروری کو پاکستان آسٹریلیا ایسوایشن اور آسٹرلین فلسیطنی گروپ اور دوسری کمیونٹی تنظیموں کے اشتراک سے پینٹ دی پین کے عنوان سے مصوری کی نمائش کا اہتمام  12 بجے سے شام 4 بجے تک کیا  گیا ہے۔  ڈیوڈ شوبرج تقریب کا افتتاح کریں گے جبکہ  پاکستان کے ہائی کمشنر زاہد حفیظ چوہدری   بہترین مصوری پر انعامات تقسیم کریں گے۔ یہ پروگرام ٹیپ گیلری سرے ہل  سڈنی میں منعقد ہو رہاہے۔

 

Kashmir Solidarity Day 2022
Large crowd gathered in Perth CBD on Sunday, September 2019 to express their solidarity with the Kashmiri people.
supplied

 دو ہزار انیس میں  جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کے بھارتی حکومت کے فیصلے نے آسٹریلوی مقامی کمیونٹیز کو تقسیم کر دیا تھا جس میں ایک طرف خطے میں انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کے خلاف احتجاج اور مظاہرے ہوئے تھے تو دوسری طرف  آسٹریلیا میں موجود بھارت نواز حلقوں نے اس بھارتی اقدام کی حمایت  کی تھی۔۔

  میلبورن میں کشمیری پنڈت کلچرل ایسوسی ایشن کے صدر نے اسے "تاریخی فیصلہ" قرار دیا تھا۔ اندو کول نے ایس بی ایس ہندی کو بتایا تھا کہ "کشمیر کے لوگوں کی اکثریت جیسے ڈوگرہ، لڈکھی، پنڈت کشمیر پر مودی سرکار کے فیصلے سے خوش ہیں، تاہم، بقول ان کے چند کشمیری مسلمان خوش نہیں ہیں لیکن جب بھارتی کشمیر میں ترقی ہوگی تو یہ خیال بھی بدل جائے گا۔"

سکھ انٹرفیتھ کونسل آف وکٹوریہ ان تنظیموں میں شامل تھی جس کے اراکین  اس سے پہلے بھی میلبورن کے احتجاج کے دوران موجود تھے۔

کونسل کے چیئرمین جسبیر سنگھ نے ایس بی ایس پنجابی کو بتایا کہ "سکھ ہمیشہ ناانصافی کے خلاف کھڑے ہوئے ہیں اور یہ کوئی مختلف نہیں ہے۔"

 یوم یکجہتی کشمیر منانے کا سلسلہ گزشتہ 30 سال سے بلا تعطل جاری ہے۔ کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے پاکستان میں سرکاری سطح پر تقریبات کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ اس بار سینٹ اور قومی اسمبلی کے خصوصی اجلاس منعقد ہو رہے ہیں اور ملک میں ۵ فروری کو عام تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے۔اس دن کی مناسبت سے پاکستان کے طول وعرض میں سیاسی اور مذہبی جماعتوں کی طرف سے بھی احتجاجی جلسے جلوس منعقد کیے کئے جاتے ہیں۔بھارت کشمیر کو اہنا اندرونی معاملہ قرار دیتے ہوئے وہاں کی شورش کی وجوہات کا ذمہ دار مبینہ طور پر پاکستانی دراندازی کو قرار دیتا ہے جس کی پاکستان تردید کرتا ہے۔



 

Coming up next

# TITLE RELEASED TIME MORE
آسٹریلیا میں یوم یکجہتی کشمیر پر ریلیز ، سمینار اور نمائیشیں 04/02/2022 00:05 ...
حالاتِ حاضرہ ۔ وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے لئے ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا حکم اور اتحادی جماعتیں شہباز شریف سے غیر مطمئین کیوں؟ 30/06/2022 00:09 ...
ماڈرن آسٹریلیا کی نمائندہ، کمیونیکیشن منسٹر مشیل رولینڈ سے ایک ملاقات 29/06/2022 15:16 ...
پاکستان ہائی کمیشن کا مینگو فیسٹول ، پاکستان آسٹریلیا کے مابین سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل 29/06/2022 07:56 ...
پاکستان آسٹریلیا سے پچز درآمد نہیں کررہا : اسپورٹس راونڈ اپ 26/06/2022 09:53 ...
پاکستان کے نوجوان فلمساز بنے آسٹریلیا میں نیو یارک فلم اکیڈمی کے مہمان 25/06/2022 29:08 ...
حکومت نے بجلی کی بلا تعطل فراہمی کا پلان تیار کر لیا 21/06/2022 15:05 ...
تارک وطن افراد " ٹیف " سے کیسے فائدہ اٹھائیں 21/06/2022 09:48 ...
ابھی تو بس وارم اپ ہوا ہے: پاور ومن اپنی شاندار فتح کے بعد مزید سنسنی خیز مقابلوں کیلیے پرعزم 20/06/2022 45:14 ...
میلبرن میں منعقد فیکا کا آنکھوں دیکھا احوال 18/06/2022 11:01 ...
View More