ابھی آنے والا ہے Wed 6:00 PM  AEST
ابھی آنے والا ہے شروع ہوگا 
Live
Urdu radio
ایس بی ایس اردو

آسٹریلیا ایوارڈز اسکالرشپ کیسے حاصل کیا جا سکتا ہے اور اس کے فوائید کیا ہیں؟

Australian international scholarships and fellowships promoting development, creating leaders and building bridges between people and nations since 1951. Source: Australia Awards

آسٹریلیا ایوارڈز اسکالرشپ آسٹریلین حکومت کے محدود مدتی ایوارڈز ہیں جن کا مقصد نہ صرف پاکستان جیسے ترقی پزیر ممالک کے ہونہار نوجوانوں کو آسٹریلیا میں اعلیٰ تعلیم کے مواقع فراہم کرنا ہےبلکہ انہیں اپنے ملک واپس جاکر حاصل کردہ علم و تجربے کے استعمال کے ذریعے فعال کردار ادا کرنے کے قابل بنانا ہے۔ آسٹریلیا ایوارڈ اسکالر شپ پر تعلیم مکمل کرکے پاکستان لوٹنے والے سید محسن شایان اس اسکالر شپ کی اہمیت کے ساتھ اپنے تجربے کی روشنی میں آسٹریلیا اور پاکستان کے تعلیمی اور کاروباری ماحول کا موازنہ کر رہے ہیں۔

پاکستانی شہریوں کے لئے  ٓآسٹریلیا ایوارڈ اسکالر شپ کی درخواستیں یکم فروری سے ۲۹ اپریل تک ۲۰۲۲ تک وصول کی جارہی ہیں۔ 

آسٹریلیا ایوارڈ اسکالر شپ پر تعلیم مکمل کرکے پاکستان لوٹنے والے سید محسن شایان اس اسکالر شپ کی اہمیت کے ساتھ اپنے تجربے کی روشنی میں آسٹریلیا اور پاکستان کے تعلیمی اور کاروباری ماحول کا موازنہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ پاکستان اور آسٹریلیا کے تعلیمی اور کاروباری کلچر میں کافی فرق ہے۔

 محسن کے مطابق آسٹریلیا میں تعلیم کے دوران ہی طالب علم کو پُر اعتماد بنایا جاتا ہے اور ساتھ ہی مختصر مگر جامع ریسیومی بنانے سے لے کر ملازمت کی درخواست کے مراحل سے لے کر پروفیشنل  زندگی میں کام آنے والے تجربات سے گزرنا پڑتا ہے۔  

#AustraliaAwards has supported access to world-class education in Australia for close to 100,000 future leaders from our region and beyond!
Australia Award Scholarship winner Mohsin Shayan helps in incubating businesses from scratch in Pakistan۔
Syed Mohsin Shayan

 آسٹریلیا ایوارڈ اسکالر شپ  کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق  یہ اسکالر شپ جنوبی ایشیا کے ممالک کے افراد کے لیے اعلیٰ تعلیمی مواقع فراہم کرتا ہے۔ اس پرگرام میں آسٹریلین حکومت کو آسٹریلوی یونیورسٹیوں اور ٹیکنیکل اینڈ فردر ایجوکیشن کے اداروں کا تعاون حاصل ہے جہاں  کل وقتی انڈرگریجویٹ یا پوسٹ گریجویٹ تعلیم دی جاتی ہے۔ آسٹریلیا ایوارڈز اسکالرشپس کے ذریعہ فراہم کردہ مطالعہ اور تحقیق کے مواقع افراد کی مہارتوں اور علم کو فروغ دیتے ہیں تاکہ وہ  واپس لوت کر اپنے ملک میں مثبت تبدیلیاں لانے میں لیڈینگ کردار ادا کر سکیں اور ساتھ ہی اپنے ممالک کی ترقی میں حصہ لیں۔

 آسٹریلیا ایوارڈ اسکالر شپ  کی ویب سائیٹ کے مطابق اس کی خاص خاص شرائیط مندرجہ ذیل ہیں:

 آسٹریلیا ایوارڈز اسکالرشپ کے لیے اہل ہونے کے لیے، آپ کو انگریزی زبان کی مہارت کے کچھ معیارات پر پورا اترنا ہوگا، 

اسکالر شپ کی درخواستیں دینے کی تاریخ

  • The closing date for 2023 intake applications is AEST 11:59 Friday 29 April 2022
  • Country: Pakistan
  • Opening Date: 1 February 2022
  • Closing Date: 29 April 2022
  • Contact: info@australiaawardspakistan.org

 

 اسکالرشپ کی گرانٹ بنیادی طور پر میرٹ پر ہوتی ہے اور طلباء کو اس اسکالرشپ کے لیے اپنی اہلیت کا مظاہرہ کرنا ہوتا ہے جس کے لیے وہ درخواست دے رہے ہیں۔ آسٹریلیا ایوارڈز اسکالرشپس آسٹریلوی اعلیٰ تعلیمی ادارے کے توسط سے تعلیمی پروگرام پیش کرتا ہے۔ اس اسکالر شپ کو حاصل کرنے والے طلبا و طالبات کے ندرجہ ذیل اخراجات اس اسکالر شپ سے پورے ہوتے ہیں۔

مکمل ٹیوشن فیس

واپسی کا ہوائی سفر – آسٹریلیا جانے اور واپسی کے لیے اکانومی کلاس کا ہوائی کرایہ
قیام الاؤنس – رہائش کے اخراجات، نصابی کتب، مطالعاتی مواد کے لیے بطور شراکت صرف ایک بار ادائیگی
رہنے کے اخراجات میں شراکت (CLE)

– محکمہ کی طرف سے متعین کردہ شرح پر ادا کی جانے والی بنیادی زندگی کے اخراجات کے لیے ایک پندرہ روزہ تعاون۔
تعارفی تعلیمی پروگرام (IAP) – آسٹریلیا میں رہنے اور تعلیم حاصل کرنے کے بارے میں معلومات کا احاطہ کرنے والے رسمی تعلیمی مطالعات کے آغاز سے پہلے ایک لازمی پروگرام
اوورسیز اسٹوڈنٹ ہیلتھ کور (او ایس ایچ سی) ایوارڈ کی مدت کے لیے (صرف ایوارڈ ہولڈر کے لیے) - اسکالر کے بنیادی طبی اخراجات کو پورا کرنے کے لیے فراہم کیا جاتا ہے۔
 پری کورس انگلش (PCE) فیس – اگر ضروری سمجھا جائے تو PCE طلباء کے لیے اندرون ملک اور/یا آسٹریلیا میں تربیت کی سہولت حاصل ہوتی ہے۔
اسکالر کی تعلیمی کامیابی کو یقینی بنانے یا ان کے تعلیمی تجربے کو بڑھانے کے لیے ضمنی تعلیمی مدد دستیاب ہو سکتی ہے۔
فیلڈ ورک :ریسرچ ایوارڈز اور کورس ورک کے لحاظ سے ماسٹرز کے لیے جس میں ایک تحقیقی جزو ہوتا ہے جہاں فیلڈ ورک لازمی ہوتا ہے

ایوارڈ کی شرائط
درخواست دہندگان جو آسٹریلیا ایوارڈز اسکالرشپ کو قبول کرنا چاہتے ہیں انہیں دولت مشترکہ کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کرنا ہوتے ہیں اس معاہدے کے تحت  اسکالرشپ کی تمام شرائط بشمول تعلیم کی تکمیل پر وطن واپسی کی تعمیل کرنا ہوتی ہے۔

اسکالر کو اپنی اسکالرشپ مکمل کرنے کے دو سال بعد آسٹریلیا چھوڑنا ہوگا۔ ایسا کرنے میں ناکامی کے نتیجے میں اسکالر کو ان کی اسکالرشپ کی کل جمع شدہ لاگت کا قرض ادا کرنا پڑے گا۔

آسٹریلیا ایوارڈز اسکالرشپ کے لیے درخواست کیسے دیں؟
درخواست دینے سے پہلے اپنے ملک کے لیے اسکالر شپ کھلنے اور درخواست دینے کی آخری تاریخیں چیک کریں، اور اہلیت، ترجیحی علاقوں اور درخواست دینے کے طریقہ کے بارے میں مخصوص معلومات کے لیے حصہ لینے والے ممالک کی فہرست سے پاکستان منتخب کریں۔

جو افراد درخواست دینے کا ارادہ رکھتے ہیں، انہیں آسٹریلیا ایوارڈز اسکالرشپس پالیسی ہینڈ بک کو ضرور پڑھنا چاہئے۔ جس میں اہلیت کے عمومی تقاضے، انتخاب کے عمل، حقوق اور  درخواست دینے والے کی ذمہ داریاں بتائی گئی ہیں۔ آسٹریلیا کا محکمہ خارجہ اورمحکمہ تجارت کسی بھی وقت نوٹس کے بغیر ہینڈ بک پر نظر ثانی اور اپ ڈیٹ کر سکتا ہے۔
کچھ ممالک میںر آپ کو آن لائن درخواست دینے کی اجازت ہے جبکہ دوسروں کو ہارڈ کاپی ایپلی کیشنز کی ضرورت ہوتی ہے۔ مزید معلومات کے لیے پاکستان کا پروفائل دیکھیں۔

 کچھ مخصوص ایوارڈز جو صرف پاکستانی شہریوں کے لیے دستیاب ہیں:۔

  • اینڈیور پاکستان ریسرچ فیلوشپ ایوارڈز اعلیٰ پاکستانی محققین کو آسٹریلیا میں قلیل مدتی پوسٹ گریجویٹ یا پوسٹ ڈاکٹریٹ تحقیق کرنے کے قابل بنائے گا۔
  • اینڈیور پاکستان ایگزیکٹیو ایوارڈز حکومت، کاروبار، صنعت اور تعلیم کے شعبوں میں اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے پاکستان کے پیشہ ور افراد کے لیے ہیں جو آسٹریلیا میں ہم منصب ادارے/تنظیم میں پیشہ ورانہ ترقی کا موقع فراہم کرتے ہیں۔
  • اینڈیور پاکستان ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ایجوکیشن (VTE) ایوارڈز پاکستانی طلباء کو ایک آسٹریلوی ادارے (سرکاری اور نجی فراہم کنندگان) میں ڈپلومہ یا ایڈوانسڈ ڈپلومہ کی سطح پر پیشہ ورانہ اور تکنیکی تعلیم حاصل کرنے کے قابل بنائے گا۔

سید محسن شایان کا کہنا ہے کہ  ملک واپس آکر آسٹریلیا میں حاصل کردہ عملی اور تعلیمی تجربات کو  عملی جامہ پہنانا ایک چیلینج ضرور ہوتا ہے کیونکہ دونوں ممالک کا تعلیمی اور کاروباری ماحول مختلف ہے۔ مثال کے طور پر آسٹریلیا میں مختصر مگر جامع  سی وی  بنانے کے ساتھ ساتھ اس کے فالو اپ پر بھی توجہ دی جاتی ہے۔ درخواست دینے والا انٹرویو کال آنے پر ملازمت دینے والے سے رابطہ کرکے مزید معلومات لے سکتا ہے مگر پاکستان میں ایسا کرنا ملازمت کے مروجہ طریقے پر اثر انداز ہونے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔محسن نے ایس بی ایس اردو کو بتایا کہ یہاں واپس آکر سب سے بڑا فائیدہ یہ ہوتا ہے کہ ہمارا اپنا ایک نیٹ ورکنگ گروپ اور بنیادے سپورٹ پہلے ہی سے موجود ہاتی ہے جو کامیابی کے لئے ایک اہم عنصر ہے۔ ساتھ ہی یہاں واپسی پر آپ کو ایسے عہدے پر ملازمت کی پیشکش کے امکانات ذیادہ ہوتے ہیں جہاں آپ تبدیلیاں لانے اور نئی تکنیک متعارف کرنے کے مجاز ہوتے ہیں۔ آسٹریلین اسکالر شپس کے متعلق محسن کہتے ہیں کہ  اس کے لئے پیشگی تیاری ضروری ہے درخواست دینے کے طریقہ کار سے واقفیت کے ساتھ ساتھ مانگے گئے  ڈاکومنٹس ، جن میں تعلیمی اسناد بھی شامل ہیں بروقت جمع کروانا اہم ہیں۔ اس کے علاوہ کام کی جگہ سے منظوری، شرائیط و ضوابط  کو سمجھنا اور انگریزی زبان کی مہارت کا بروقت نتیجہ جمع کرانا بھی ضروری ہیں۔

نوٹ : اس آرٹیکل اور پوڈ کاسٹ میں دی گئی معلومات کو مشورے کے بجائے صرف عام معلومات  کے لئے استعمال کریں

#AustraliaAwards has supported access to world-class education in Australia for close to 100,000 future leaders from our region and beyond! Apply today: https://bit.ly/39Eu3IR


اس پوڈکاسٹ کو سننے کے لئے سب سے اوپر دئیے ہوئے  اسپیکر آئیکون پر کلک کیجئے یا  نیچے دئے اپنے پسندیدہ پوڈ کاسٹ پلیٹ فارم سے سنئے

Coming up next

# TITLE RELEASED TIME MORE
آسٹریلیا ایوارڈز اسکالرشپ کیسے حاصل کیا جا سکتا ہے اور اس کے فوائید کیا ہیں؟ 28/02/2022 2:00:08 ...
آسٹریلوی سیاستدان اسقاط حمل کے حقوق کے بارے میں کیا سوچ رکھتے ہیں؟ 03/07/2022 00:08 ...
نئے مالی سال میں کچھ ویزہ ہولڈرز کے لئے پی آر کی آسان ہوتی راہ 02/07/2022 07:00 ...
حالاتِ حاضرہ ۔ وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے لئے ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا حکم اور اتحادی جماعتیں شہباز شریف سے غیر مطمئین کیوں؟ 30/06/2022 00:09 ...
ماڈرن آسٹریلیا کی نمائندہ، کمیونیکیشن منسٹر مشیل رولینڈ سے ایک ملاقات 29/06/2022 15:16 ...
پاکستان ہائی کمیشن کا مینگو فیسٹول ، پاکستان آسٹریلیا کے مابین سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل 29/06/2022 07:56 ...
پاکستان آسٹریلیا سے پچز درآمد نہیں کررہا : اسپورٹس راونڈ اپ 26/06/2022 09:53 ...
پاکستان کے نوجوان فلمساز بنے آسٹریلیا میں نیو یارک فلم اکیڈمی کے مہمان 25/06/2022 29:08 ...
حکومت نے بجلی کی بلا تعطل فراہمی کا پلان تیار کر لیا 21/06/2022 15:05 ...
تارک وطن افراد " ٹیف " سے کیسے فائدہ اٹھائیں 21/06/2022 09:48 ...
View More