ابھی آنے والا ہے Sun 6:00 PM  AEST
ابھی آنے والا ہے شروع ہوگا 
Live
Urdu radio
ایس بی ایس اردو

گھر سے کام کے دوران کمپیوٹر کا محفوظ استعمال کیسے کریں

Source: GETTY Images

کرونا وائرس کے خوف ہراس کے اس زمانے میں بھی جعلسازوں اور فراڈ کرنے والون کا گروہ سادہ لوح افراد کو لُوٹنے کے لئے نت نئے ہتھکننڈے اپنا رہا ہے۔ جب آپ گھر سے کام کر رہے ہوں تو معلومات کی چوری سے لے کر فڑاد کے ذریعے بنک اکاونٹ سے رقم ہتھیانے تک کے واقعات ہو سکتے ہیں ۔ گھر سے کام کرتے وقت آن لائین جعلسازوں سے کیسے بچا جائے؟

 کرونا وائرس کے پیشِ نظر لاک ڈاؤن اور لوگوں کے گھروں تک محدود رہنے کے باعث انٹرنیٹ کا استعمال بھی بڑھ گیا ہے۔ انٹرنیٹ کے ذریعے دفاتر میں سماجی دوری کی پالیسی کے باعث  گھر سے کام ( ورک فرام ہوم  ) کرنے والوں کی تعداد میں بڑا  اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس سے بہت سے کاروبار بڑے منفی اثرات سے بچ گئے ہیں مگر گھر پر کمپیوٹر پر کام کرنے والوں کو سائیبر کرائیم کے ذریعے ہیکرس اور جعلسازوں کا بھی سامنا ہے۔

  • کورونا وائرس کے دوران انٹرنیٹ پر سائیبر جرائیم میں اضافہ ہوا ہے
  • گھر سے کام کرنے والے ملازمین کا سائبرسیکیوریٹی میں اہم کردار ہے

 ڈاکٹر آفتاب رضوی انفارمیشن سیکیوریٹی کے ماہر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ گھر سے کام کرتے وقت نیٹ کے محفوظ استعمال کے لئے ہیکنگ کے خطرات سے آگاہی ضروری ہے۔

Cyber security during COVID-19 crisis
Supplied

ڈاکٹر آفتاب رضوی کے مطابق گھریلو صارفین اور انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کو اینٹی اسپیم اور اینٹی وائیرس سافٹ وئیرز کے ساتھ موبائیل اور نیٹ کے محفوظ استعمال کے طریقوں سے واقفیت  ضروری ہے۔پاس ورڈ کی تبدیلی اورمشکل پاس ورڈ رکھنا بھی ایک اچھی ابتدا ہو سکتی ہے مگر مشکوک پیغامات کو پہچاننا اس حفاظت کی کنجی ہے۔ بنک اکائونٹ کی معلومات، ذاتی تصاویرکا تبادلہ نجی معلومات کا تبادلہ ، رقم کی ادائیگی، انٹرنیٹ شاپنگ اور شناخت کو ظاہر کرنا وغیرہ آن لائین کئیے جانے وہ کام ہیں جن میں فراڈ کی شرح سب سے ذیادہ ہے۔

 

حالیہ جائیزوں کے مطابق بزرگ، خواتین اور بچے اِن فراڈ کا با آسانی نشانہ بنتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ موبائل فونز،اسمارٹ فونز، لیپ ٹاپس وغیرہ کو محفوظ رکھا جائے ۔

 سائبر جرم  میں کسی کو جدید ٹیلی کمیو نیکیشن نیٹ ورکس مثلاً: انٹرنیٹ، ای میلز یا موبائل فون کے ذریعے بھیجے جانے والے کے پیغامات کے ذریعے نقصان پہنچانے کی کوشش کی جا سکتی ہے

سائبر جرائم میں جو جرائم شامل ہیں اُن میں کریڈیٹ کارڈ کی دھوکہ دہی، ، غیر قانونی ڈاؤن لوڈنگ،  جاسوسی ، کمپیوٹر وائرس پھیلا نا ، اسپیم میسیجز جیسے جرائم شامل ہیں جو کہ انٹرنیٹ کی مدد سے  کئے جاتے ہیں۔

 ڈاکٹر آفتاب اِن معاملات میں خاص احتیاط کا مشورہ دیتے ہیں

  • اپنا ای۔ میل ایڈریس ہر ایک سے شئیر نہ کریں
  •  فری سافٹ ویئر کو ڈائون لوڈ کر نے سے گریز کریں
  •  بغیر تحقیق کے ہر لکھی چیز کودرست تسلیم  نہ کریں اور نہ دوسروں کو فارورڈ کریں
  •  براوزنگ سے پہلے ایڈرس بار میں ویب ایدریس کی جانچ کریں ۔ ہجے کی غلطی جعلی ایڈریس کا پتہ دے سکتی ہے 
  • گیم، میوزک اور ویڈیوز کی ڈاون لوڈنگ، غیر متوقع انعامات یا مفت آفرز کے لنکس جعلسازوں کا آزمودہ حربہ ہے
  • آن لائن خریداری ، بنک کاری اوررقوم کی ادائیگی  میں ذیادہ فراڈ دیکھننے میں آتے ہیں
  • دفتری لیپ ٹاپ پر ذاتی کاموں سے گریز کریں
  • دفتر یا کام سے ملنے والے کمپیوتر پر یو ایس بی اور بیرونی ھارڈ ڈرائیو  نہ لگائیں

ڈاکٹر آفتاب کا کہنا ہےکہ اسپیمنگ یا بغیر مانگے کسی کو  کمرشیل اای میل  بھیجنا جرم ہے

دفتری کام کے کمپیوٹر سے اسپیم میلز بھیجنےکے خطرناک نتائیج ہو سکتے ہیں

 آسٹریلین کمیونیی کیکیشن  اینڈ میڈیا آٹھارٹی کے  مطابق  جن پیغامات میں جذبات ابھار کر خیرات، عطیات یا چئیریٹی کا ذکر کیا جائیے اور انہیں فارورڈ کرنے پر اکسایا جائے ان کو بغور پڑھیئے اور سوچئیے کہ کہیں آپ بغیر تصدیق کئیے افواہیں اور غلط معلومات پھیلانے کا ذریعہ تو نہیں بن رہے۔ڈاکٹر آفتاب کہتے ہیں کہ  بلک میسیجز فارورڈ کرنےسے  انٹرنیٹ کو اوور لوڈ  کر کے آپ  سروس کو جام کرنے یا ڈینائیل آف سروس کا سبب بن سکتے ہیں۔۔ 

 

Australian Cybercrime Online Reporting Network آسٹریلیا کی وفاقی حکومت کا ایسا ادارہ ہے جہاں سے نہ صرف سائیبر جرائیم کی معلومات حاصل کی جاسکتی ہے بلکہ جعلسازی کی رپورٹ بھی کی جا سکتی ہے۔

اگر آپ کا واسطہ کسی مشکوک میسیج سے پڑے تو اسکی رپورٹ اسکیم واج پر کیجئیے (https://www.scamwatch.gov.au/report-a-scam)

یا Australian Cybercrime Online Reporting Network سے رابطہ کیجئیے

 اسکیم واچ عوام کو آن لائن محفوظ رہنے میں مدد کرنے کے لئے مختلف اقسام کے سائبرکرائمز کو پہچاننے اور اس سے بچنے کے بارے میں مشورہ فراہم کرتا ہے۔

 ڈاکٹر آفتاب کے مطابق کرونا وائیرس کی وبا کے دوران انٹیرنیٹ نہ صرف اہم  کاروباری ضرورت ہے بلکہ اس کے متاثرین کے لئے بروقت مدد کا ذریعہ بھی ہے۔ اس بحرانی وقت میں  کمپیوتر اور انٹیرنیٹ کے محفوظ اور ذمہ دارانہ استعما ل کی ضرورت اور بھی بڑھ گئی ہے۔

اگر آپ سائبر کرائم کا شکار ہبنے ہیں تو حکومتی مدد مل سکتی ہے۔ آن لائن جعلسازی سے  نمٹنے یا شناخت کی چوری سے متعلق مشورے کے لئے آسٹریلین حکومت کے اسٹے آن لائین اسمارٹ سے رابطہ کیا جا سکتا ہے۔۔


 کرونا وائیرس کے بارے میں ہدایات

وفاقی حکومت کی ویب سائٹ کے مطابق کرونا وائرس کی علامات، ہلکی بیماری سے لے کر نمونیا کی علامات کی طرح ہوسکتی ہیں۔علامات میں بخار، کھانسی 

خراب گلا، تھکن یا سانس لینے میں دشواری شامل ہیں۔ اگر آپ میں بیرونِ ملک سے واپسی پر چودہ دن کے اندر یہ علامات پیدا ہوتی ہیں یا کسی کووڈ ۔ ۱۹ سے متاثرہ مریض سے رابطے میں آئے ہیں، تو فوری طبّی امداد حاصل کریں۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کو ٹیسٹ کرانا ہے تو اپنے معالج سے رابطہ کریں یا قومی کرونا وائرس ہیلتھ معلوماتی ہاٹ لائن پر فون کریں۔

فون نمبر۔ 1800020080

کرونا وائرس سے متعلق مزید خبریں اور معلومات ایس بی ایس اردو کی ویب سائٹ پر حاصل کریں۔


 

Coming up next

# TITLE RELEASED TIME MORE
گھر سے کام کے دوران کمپیوٹر کا محفوظ استعمال کیسے کریں 07/04/2020 09:37 ...
ایس بی ایس اردو خبریں 30 مئی 2020 30/05/2020 04:44 ...
ایس بی ایس اردو خبریں 29 مئی 2020 29/05/2020 04:00 ...
ایس بی ایس اردو خبریں 28 مئی 2020 28/05/2020 00:03 ...
ایس بی ایس اردو خبریں 27 مئی 2020 27/05/2020 10:47 ...
ایس بی ایس اردو خبریں 26 مئی 2020 26/05/2020 04:27 ...
اس بار ماں سے دور رہ کر عید اور مدرز ڈے منانا پڑا 26/05/2020 10:03 ...
ایس بی ایس اردو خبریں 25 مئی 2020 25/05/2020 03:23 ...
ایس بی ایس 24 مئی 2020 24/05/2020 12:40 ...
ایس بی ایس اردو خبریں 23 مئی 2020 23/05/2020 03:27 ...
View More