ابھی آنے والا ہے Sun 6:00 PM  AEST
ابھی آنے والا ہے شروع ہوگا 
Live
Urdu radio

مصالحت کاری کی خدمات سے پاکستانی تارکین وطن کیوں گھبراتے ہیں؟

Source: Getty Images – fstop123

مغرب میں رہنے والی مائیگرینٹ کمیونیٹیز کے لئے کہا جا تا ہے کہ وہ ہر مفت سروس کو استعمال کرکے اور پھر اپنے آبائی وطن میں مقیم رشتہ داروں کو اس کے بارے میں بتا کر بڑا سرور محسوس کرتی ہیں مگر پھر آسٹریلیا میں مصالحت کاری یا میڈئیشن کی مفت خدمات سے فائیدہ اٹھانے والوں میں تارکین وطن کی تعداد اتنی کم کیوں ہے؟

 دنیا بھر میں مائگرینٹس یا تارکینِ وطن کئی مشترکہ رویے رکھتے ہیں اور کسی بھی ترقی پزیر یا خوشحال ملک میں مقیم تارکینِ وطن  اس ملک میں موجود مفت ملنے والی سہولیات کو  نہ صرف سب سے ذیادہ استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں بلکہ اس کا ذکر آبائی وطن میں مقیم عزیزوں سے فخریہ طور پرکرنا بھی نہیں بھولتے۔ آسٹریلیا میں کئی اور کمیونیٹی  خدمات کی طرح مصالحت کاری کی خدمات بغیر کسی خرچ کے بھی حاصل کی جاسکتی ہیں ۔ سماجی کام کرنے والے کارکنان اس بات پر متفقق ہیں کہ تارکینِ وطن میں عام  طور پر اور پاکستانیوں میں خاص طور پر  پروفیشنل  مصالحت کاری کی خدمات حاصل  کرنے کا رحجان نہ ہونے کے  برابر ہے اور اس کی کئی وجوہات ہیں۔ ثالثی ایک ایسا عمل ہے جہاں دو فریقین تنازعے کے حل کے لئے عدالت میں جائے بغیر  اپنے معاملات حل کرسکتے ہیں ۔

عدیل احمد گلِ آسٹریلین اٹارنی جنرل کے دفتر سے منظور شدہ فیملی تنازعات کے حل کے پریکٹیشنر اور نیشنل ایکریٹیریڈ ثالث ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ 

 اس کے کئی فوائید ہیں۔ 


  • مصالحت کاری میں کم وقت لگتا ہے 
  • ثالثی ایک مؤثر طریقہ کار مانا جاتا ہے
  • مصالحتی خدمات عدالتی مقدمے کے مقابلے میں یا تو مفت ہیں یا بہت سستی ہوتی ہیں
  •  مصالحت کاری کے دوران فریقین کی معلومات کو بالکل خفیہ رکھا جاتا ہے

عدیل کا کہنا ہے کہ مصالحت کاری کا طریقہ عدالتی عمل کے مقابلے میں بہت آسان کم خرچ  اور  موثر ہے۔

Professional mediation service is the last a pakistani migrant can think of.
Adeel Ahmed is an accredited family dispute resolution practitioner from Attorney General's Office and also a National Accredited Mediator
Supplied

ثالث یا میڈئیٹر یہ فیصلہ نہیں کرتا کہ فریقین کے لئے کیا اچھا ہے۔بلکہ ثالث تجاویز دینے کے بعد یہ فیصلہ خود فریقین پر چھوڑ دیتا ہے کہ ان کےخاندان کے لئے بہترین حل کیا ہے

بتول گیلانی ایک سوشل ورکر اور ماہرِ نفسیات ہیں اور میلبورن میں سات سال سے ذیادہ عرصے سے کمینوٹی کا فلاحی گروپ چلا رہی ہیں ان کی خصوصی توجے ایسی  پاکستانی خاندانوں کی طرف ہے جو اپنے گھریلو مسائیل دوسروں سےشئیر نہیں کرنا چاہتے۔

مس بتول کہتی ہیں کہ  مصالحتی خدمات کے استعمال نہ کرنے کا یہ مطلب نہیں کہ کمیونیٹی میں مسائیل نہیں ہے بلکہ اس کی اصل وجہ وہ معاشرتی رویہ ہے جس میں   کسی باہر کے ادارے کا دخل سخت ناپسندیدہ عمل سمجھا جاتا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ مرد اپنے غصے، گالم گلوچ اور مار پیٹ تک کے واقعات کا ذمےدار عورت کو قرار دینے کی کوشش کرتے ہیں اور یہ رویہ پاکستان سمیت دیگر  معاشروں میں بھی عام ہے

 بتول گیلانی کا کہنا ہے کہ عورت کا بحث کرنا، اس کو کم تر جاننا،  یہاں آنے والوں کا بھی عام رویہ ہے۔ وہ  مثال دیتے ہوئے بتاتی ہیں کہ  گھریلو تشدد یا ڈومیسٹک وائیلنس کا نام سنتے ہی ہماری کمونیٹی اس سے انکار کرنے لگتی ہے اور یہ سننے میں آتا ہے کہ ہمارے یہاں ایسا کچھ نہیں ھو سکتا اور اس میں اکثر مذہب کو بھی درمیان میں لا کر کہا جاتا ہے کہ مسلمان تو  تششد کر ہی نہیں سکتا مگر درونِ خانہ کئی دوسرے طریقوں سے گھریلو تششد ہو رہا ہوتا ہے جس میں گالی گلوچ، طعنےبازی، الزام تراشی، حقارت سے بات اور بعض دفعہ دھکے دینا اور مارنا تک شامل ہو تا ہے۔  ہم لفظ گھریلو تشدد استعمال کرنے کے بجائے کمیونٹی کی مدد کے پروگرام کو  

compassionate community affairs program 

کہتے ہیں  اور اس کے بہت اچھے نتائیج نکل رہے ہیں

 پروفیشنیل مصالحت کار عدیل احمد اس بات سے اتفاق کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ثالثی کے لئے موجود خدمات گھریلو تشدد،اور خودکشی کے رحجانات کو روکنے میں بھی مددگار ہوتی ہیں اور مصالحت کار اس بات کا پابند ہوتا ہے کہ خطرناک صورتحال کی اطلاع حکام کو دے اور اس بارے میں فریۡین کو بھی پہلے سے بتا دیا جاتا ہے۔  مگر آسٹریلیا جیسے ملک میں آنے کے بعد بھی ہماری کمیونٹی میں گھریلو تنازعات کے بارے میں کسی پروفیشنیل خدمات فراہم کرنے والے  مصالحت کار سے بات کرنے کو سخت معیوب سمجھتا جاتا  ہے۔

 ثالثی کے لئے پاکستانی کمیونٹی اکثر اپنے ملک میں مقیم رشتہ داروں اور عزیزوں سے مدد لینے کی کوشش کرتی ہے مگر اکثر وہاں رہنے والوں کو صورتحال کا  درست  اندازہ نہیں ہوتا اور نہ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ آسٹریلیا میں پروفیشنیل مصالحت کار  تمام معلومات کو مکمل طور پر صیغہ راز میں رکھنے کا پابند ہے اور اس کی خلاف ورزی پر سزا بھی ہو سکتی ہے۔ بتول گیلانی کہتی ہیں کہ بیرونِ ملک مقیم رشتے دار عام طور پر صورتحال کو اور بگاڑنے کا سبب  بن جاتے  ہیں۔

تارکین وطن کے بیرون ملک مقیم رشتہ دار ان مسائیل کو نہیں سمجھتے جو یہاں درپیش ہیں اس لئے پروفیشنل مدد حاصل کر نا ضروری ہے

 بتول گیلانی اور عدیل احمد دونوں مصالحت کاری کو عدالتوں تک لے جانے پر ترجیح دیتے ہیں لیکن اگر تنازعات ثالثی کے ذریعے حل نہیں ہوسکتے تو معاملے کو عدالت میں جانے کی ضرورت پڑسکتی ہے۔ عدالت جانا ایک طویل ،ذہنی دباؤ والا اور مہنگا عمل ہے۔ ثالثی کا مقصد صورتحال کو اس مقام تک پہنچنے سے بچانا ہے۔

 آسٹریلین حکومت کے  فیملی ریلیشن شپِ پروگرام کے مطابق خاندانی قوانین کا نظام گھرانے کو تحفظ دینے کی کوشش کرتا ہے تا کہ خاندان عدالت یا مصالحت کے ذریعے اپنے بچوں کی دیکھ بھال کے اپنے انتظامات کرسکے۔ یہ کئی مختلف طریقوں سے کیا جاسکتا ہے

  • والدین کے مابین گفتگو
  • مدد کرنے کیلئے دوست یا کنبہ کے ممبر کا استعمال کرنا
  • غیر رسمی عمومی ثالثی

To access 24/7 counselling and support call 1800RESPECT on 1800 737 732 

فیملی ریلیشن شپ ایڈوائس لائن ایک قومی ٹیلیفون سروس ہے جو تعلقات یا علیحدگی کے معاملات سے متاثرہ خاندانوں کی مدد کرتی ہے ۔ اس نمبر پر کال کرنے والوں کو مقامی مصالحتی یا میڈیشن کی خدمات کے بارے میں مدد اور معلومات بھی فراہم کی جاتی ہے۔


 کرونا وائیرس کے بارے میں اہم معلومات

آسٹریلیا میں لوگوں کو ایک دوسرے سے رابطے کے دوران کم ازکم ڈیڑھ میٹر کا فاصلہ رکھنا چاہیئے ۔ جمعہ ۱۵ مئی سے نیو ساؤتھ ویلز میں  پانچ سے زائد افراد کی ملاقات پر پابندی ہے تاہم ایک ہی گھر میں رہنے والے افراد اس شرط سے مثتثنٰی ہیں ۔ اگر آپ کو شک ہے کہ آپ کا کسی طرح وائرس سے رابطہ ہوا ہے تو فورا اپنے ڈاکٹرکو کال کریں تاہم ڈاکٹر کے پاس جانے سے گریز کریں یا پھر کرونا وائرس انفارمیشن ہاٹ لائن 080 180020 پر رابطہ کریں۔

اگر آپ کو طبی ایمرجنسی یا سانس لینے میں دشواری پیش آرہی ہے تو فری ہیلپ لائن 000 پر رابطہ کریں

ایس بی ایس آسٹریلیا کی متنوع آبادی کو کووڈ ۱۹ سے متعلق پیش رفت کی آگاہی دینے کے لئے پرعزم ہے ۔ یہ معلومات تریسٹھ زبانوں میں دستیاب ہے۔ 

 

Coming up next

# TITLE RELEASED TIME MORE
مصالحت کاری کی خدمات سے پاکستانی تارکین وطن کیوں گھبراتے ہیں؟ 12/05/2020 13:43 ...
SBS Urdu News 7 May 2021 07/05/2021 10:00 ...
How COVID-19 affected the religious practices in Australia during Ramadan 06/05/2021 14:07 ...
Urdu News Wed 5 May 2021 05/05/2021 09:45 ...
ایس بی ایس اردو خبریں 4 مئی 2021 04/05/2021 08:00 ...
'Un-Australian': Community vlogger beaten with spirit level in Sydney 04/05/2021 09:00 ...
Mouthwatering Chana Chaat-Ramadan Recipe Drive (Part 2) 04/05/2021 03:55 ...
اردو خبریں 03 مئی 2021 03/05/2021 03:34 ...
Urdu News Sunday 2 May 2021 02/05/2021 09:28 ...
کیا پُرتکلف افطار پارٹیوں میں کھانوں کا ضیاع ہوتا ہے؟ 02/05/2021 06:59 ...
View More