ابھی آنے والا ہے Wed 6:00 PM  AEST
ابھی آنے والا ہے شروع ہوگا 
Live
Urdu radio
ایس بی ایس اردو

"نہ ہی کوئی ہیلپ ڈیسک لگایا گیا اور نہ ہی کوئی نظام بنایا گیا"۔ طیارہ حادثے میں مرنے والوں کے لواحقین مشکلات کا شکار

Relatives attend the funeral of a victim of a plane crash in Karachi, Pakistan, 25 May 2020. Source: AAP/EPA/REHAN KHAN

لاہور سے کراچی آنے والی پی آئی اے کی پرواز کے تیارہ حادثے کو ایک ہفتے سے زیادہ ہوچکا ہے۔ واقعے میں ستانوے افراد لقمہ اجل بنے۔

ملک کے سب سے بڑے تجارتی مرکز کراچی میں عوامی سہولیات کی بدتری اور سرکاری اداروں کی کارکردگی کے ساتھ ساتھ کئی اداروں کے درمیان رابطے کے فقدان کا پول بھی اس حادثے کے بعد کھل گیا۔

طیارہ حادثے میں صرف دو مسافر ہی زندہ بچ سکے۔ معجزانہ طور پر بچ جانے والے مسافروں میں سے ایک محمد زبیر اور ان کے بھائی سے ایس بی ایس اردو کے نمائندے محمد فراز نے گفتگو کی۔

 "جب جہاز دو تین دفعہ  زمین سے ٹکرایا ہے تو پھر اس کی اڑان ہموار ہوگئی تھی۔

"سب کو ایسا لگا کہ جہاز اب لینڈ کررہا ہے پر کسی وجہ سے وہ دوبارہ اُڑگیا۔

"آخر وقت تک یہی لگ رہا تھا کہ جہاز لینڈ کرے گا۔ سب اپنے معمول کے حساب سے بیٹھے ہوئے تھے۔" محمد زبیر کی ایس بی ایس اردو سے گفتگو۔

عملے کی طرف سے جہاز میں کوئی اعلان نہیں کیا گیا کہ اس کے انجن میں مسئلہ ہے یا ٹائر نہیں کھل رہے۔

                                           ""جب آخری اعلان ہوا تو اس میں بھی پائلٹ نے کہا کہ میں لینڈ کرنے والا ہوں۔

(Left) Plane crash survivor Muhammad Zubair; (right) wreckage of state run Pakistan International Airlines, Airbus A320 is lying in a residential area, Karachi.
(Left) Plane crash survivor Muhammad Zubair; (right) wreckage of state run Pakistan International Airlines, Airbus A320 is lying in a residential area, Karachi.
AAP/EPA/SHAHZAIB AKBER

محمد زبیر کا کہنا تھا کہ اگر پہلے سے پتہ ہوتا کہ جہاز کریش کرنے والا ہے تو سب زہنی طور پر تیار ہوتے۔

"میرے دائیں بائیں مسافر اطمینان سے بیٹھے تھے اور کسی کو نہیں پتہ تھا کہ جہاز کریش کرنے والا ہے۔

اچانک سے جہاز کا بایاں پَر ایک عمارت سے ٹکرا گیا اور اسی لمحے

جہاز میں آگ لگ گئی۔

اس کے بعد جہاز [کراچی کے علاقے] ماڈل کالونی کے مکانات پر گرجاتا ہے۔"

ہر طرف اندھیرا تھا، چیخوں کی آوازیں تھیں، بچوں کی، عورتوں کی، مردوں کی، بوڑھوں کی۔

"ساتھ والا شخص تک نظر نہیں آرہا تھا، اتنا اندھیرا تھا۔"

زبیر نے بتایا کہ اس نے اپنا  سیٹ کا بیلٹ کھولا اور قریب ہی روشنی کی طرف گیا۔ جہاز سے باہر آیا تو معلوم ہوا کہ وہ جہاز کے پَر کے اوپرا کھڑا ہے۔

"میں نے نیچے دیکھا تو ایک گھر تھا، تقریباً دس فٹ کی اونچائی تھی جس سے میں نے چھلانگ لگائی۔"

Relatives attend the funeral of Ansar Naqvi, a journalist who was killed in plane crash in Karachi, Pakistan, 30 May 2020.
Relatives attend the funeral of Ansar Naqvi, a journalist who was killed in plane crash in Karachi, Pakistan, 30 May 2020.
AAP/EPA/REHAN KHAN
 

دوسری جانب محمد زبیر کے بھائی نے ایس بی ایس اردو سے گفتگو میں بتایا کہ وہ جمعے کی نماز پڑھنے کے بعد اپنے بھائی کا انتظار کررہے تھے کہ انھیں طیارہ حادثے کی اطلاع ملی۔

"جب ٹی وی پر دیکھا کہ فلائٹ کریش کرگرئی ہے تو ہمارے پاوں تلے زمین نکل گئی۔"

لیکن چند ہے لمحوں بعد زبیر نے اپنے گھر والوں کو فون کرکے بتایا کہ وہ حادثے میں بچ گیا ہے۔

پاکستان میں ہوابازی کے وفاقی وزیر محمد سرور کا حادثے کے بعد تحقیقات کے بارے میں کہنا تھا کہ بائیس جون تک پارلیمنٹ اور عوام کے سامنے تحقیقاتی رپورٹ پیش کردی جائے گی۔

" ہمیں خدا کے سامنے حاضر ہونا ہے اور میں یہ برداشت نہیں کرسکتا کہ یہاں کسی کے ساتھ زیادتی ہو یا کسی کو ریلیف دیا جائے۔ یہ کمٹمنٹ عمران خان کی بھی ہے اور میری بھی ہے۔"

 

Plane crash survivor Muhammad Zubair
Plane crash survivor Muhammad Zubair.
Supplied

لیکن کئی لواحقین ایسے ہیں جو اپنے پیاروں کی لاش کا ابھی  تک انتظار کررہےاور حکومتی اداروں کی اس حادثے سے متعلق کارکردگی پر شدید نالاں ہیں۔

عنبر ناصر نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ انہیں اپنے بھائی کی لاش کے حصول کے لئے دربدر کی ٹھوکریں کھانا پڑ رہی ہیں

عنبر ناصر کا بھائی بھی اس حادثے میں لقمہ اجل بن گیا تھا۔

"واقعے کے ایک ہفتے بعد بھی کسی حکومتی ادارے کے اہلکار نے نہ ہم سے رابطہ کیا، نہ ہمیں کچھ بتایا گیا ہے۔

ناہی کوئی ہیلپ ڈیسک لگایا گیا اور نہ ہی کوئی نظام بنایا گیا ہے کہ کس طرح ہماری اور باقی لواحقین کی مدد کی جائے گی جو اپنے پیاروں کو ڈھونڈتے پھررہے ہیں۔

"کبھی ایک آفس، کبھی دوسرا آفس۔ کبھی ایک ہسپتال، کبھی دوسرا ہسپتال۔ مکمل بد انتظامی، کسی نے ہماری مدد نہیں کی۔"

Coming up next

# TITLE RELEASED TIME MORE
"نہ ہی کوئی ہیلپ ڈیسک لگایا گیا اور نہ ہی کوئی نظام بنایا گیا"۔ طیارہ حادثے میں مرنے والوں کے لواحقین مشکلات کا شکار 01/06/2020 09:18 ...
اردو خبریں 12جولائی 2020 12/07/2020 13:00 ...
ایس بی ایس اردو خبریں 11 جولائی 2020 11/07/2020 03:12 ...
اردو خبریں 10 جولائی 2020 10/07/2020 1:00:03 ...
اردو خبریں 09 جولائی 2020 09/07/2020 2:00:03 ...
اردو خبریں 8 جولائی 2020 08/07/2020 12:53 ...
کیااب بین الاقوامی طلباء کو اپنی بینک سٹیٹمنٹ کو ثابت کرنا پڑے گا؟ 08/07/2020 07:27 ...
نیا گھر بنانے پر حکومتی گرانٹ ۔۔۔ اصل فائدہ کس کا ہوگا ۔ 08/07/2020 00:07 ...
ایس بی ایس اردو خبریں 07 جولائی 2020 07/07/2020 04:41 ...
ایس بی ایس اردو خبریں 05/07/2020 10:28 ...
View More