ابھی آنے والا ہے Sun 6:00 PM  AEDT
ابھی آنے والا ہے شروع ہوگا 
Live
Urdu radio
ایس بی ایس اردو

پاکستانی ریسرچر کے پروجیکٹ کی آسٹریلین ایوارڈ کے لئے نامزدگی

Disease Networks and Mobility : DiNeMoڈینگی وائیرس کو سائنٹیفک انداز میں تلاش کرنے کا نیٹ ورک نظام ہے ۔ کامران نجیب اللہ سایئنسدانوں کے گروپ لیڈر ہیں جنہوں نے اس پر کام کیا ہے۔ اُن کی تحقیق کو یونیورسٹی آف نیو ساوتھ ویلز سڈنی کے یوریکا ایوارڈ کے لئے نامزد کیا گیا ہے۔ سنئے کامران نجیب اللہ سے بات چیت۔

 

 سی ایس آئی آر او ادارے سے تعلق رکھنے والے کامران نجیب اللہ  کے پروجیکٹ کا نام "ڈیزیز نیٹورک  موبیلیٹی" ہے۔

اس پروجیکٹ کو یونیورسٹی آف نیو ساؤتھ ویلز کے" یوریکا پرائز فار ایکسیلینس اِن انٹرڈسپلینری سائنٹیفک ریسرچۤ" کے لئے نامزد کیا گیا ہے۔

حال ہی میں آسٹریلیا میوزم یوریکا پرائز  کے فائنلسٹ  کی لسٹ جاری کی گئی ہے جس میں اس پراجکٹ کا نام بھی شامل ہے۔

پروجیکٹ کے گروپ لیڈر کامران نجیب اللہ کا کہنا ہے کہ اس پراجیکٹ کے ذریعے ڈینگی بیماری کی تلاش کی جاتی ہے۔

"آسٹریلیا میں رہنے والے جب بیرونِ ملک جاتے ہیں اور جب واپس آتے ہیں تو اپنے ساتھ  [عموماً] وائرس بھی لے آتے ہیں۔ ایسے وائرس جو آسٹریلیا میں موجود نہیں ہیں۔

کچھ وائرس ایسے ہوتے ہیں جو دوسرے لوگوں کو بھی متاثر کردیتے ہیں۔"

کامران کا کہنا ہی کہ اگرچہ کورنٹین کے باعث اکثر وائرس کو قابو کرلیا جاتا ہے لیکن پھر بھی کورنٹین صرف ان وائرس کو روکتا ہے جو پہلے ہی سے ظاہر ہوچکے ہوں۔

"اگر آنے والا مریض پہلے ہی سے بیمار ہوچکا ہے اور اس کی علامات بھی ظاہر ہوچکی ہیں تب ہی اسے کورنٹین میں پکڑا جا سکتا ہے۔ لیکن اگر علامات آسٹریلیا میں آکر ظاہر ہوتی ہیں تو پھر اس کی پکڑ نہیں ہوتی۔

"ہم ایک مخصوص ڈینگی وائرس پر کام کررہے ہیں۔ ڈینگی وائرس مچھر کے ذریعے پھیلتا ہے اور آسٹریلیا میں کوئینز لینڈ کی ریاست میں یہ موجود ہے۔

"آسٹریلیا میں اگرچہ ڈینگی وائرس نہیں لیکن اس کا "کیرئیر" جو ڈینگی مچھر ہے، وہ موجود ہے۔"

Dinemo Research
Kamran Najeebullah (Supplied)

ریسرچر کامرن کا کہنا ہے کہ ڈینگی کی علامات میں بخار اور زکام شامل ہیں۔ لوگ اسے عام بخار یا بیماری سمجھتے ہیں اور زیادہ توجہ نہیں دیتے۔ ہمیں انتظار ہی کرنا پڑتا ہے جب کوئی کیس رپورٹ ہوتا ہے۔

رپورٹنگ کے لئے ہم زیادہ سے زیادہ یہی کر سکتے ہیں کہ لوگوں میں آگاہی پیدا کرسکیں کہ جب یہ علامات ظاہر ہوں تو اسپتال جائیں اور اپنا ٹیسٹ کرائیں۔

مسئلہ یہ نہیں ہے کہ لوگ بیمار ہوں گے، مسئلہ یہ کہ لوگ دوسروں تک اس بیماری کو پھیلانے کا سبب بنیں گے۔

جب مچھر ایسے لوگوں کو کاٹتا ہے اور پھر کسی اور شخص کو کاٹتا ہے تو اسے یہ بیماری ہوجاتی ہے۔ اسی طرح یہ مرض پھیلتا ہے۔

کامران کا کہنا ہے کہ وہ ان مریضوں سے متعلق معلومات جمع کرتے ہیں جو اسے رپورٹ کرتے ہیں۔

"ہم یہ دیکھتے ہیں کہ یہ مریض کس موسم اور کس ملک سے آسٹریلیا آرہے ہیں۔

مریضوں سے متعلق معلومات ہم کوئینزلینڈ ہیلتھ سے اکھٹا کرتے ہیں جبکہ موسم کی معلومات ہم میٹیورولوجی ڈیپارٹمنٹ سے حاصل کرتے ہیں۔"

ایوارڈ فائنلسٹ بننے پر کامران کا کہنا تھا کہ ہماری ٹیم کے افراد مختلف شعبوں سے تعلق رکھتے ہیں اور انٹرڈسیپلینری ہیں۔

"ہماری پاس ایکسپرٹ اسٹیٹسکس سے ہیں، ایپڈیمیالوجی سے ہیں، اور بِگ ڈیٹا سے ہیں اوراس ریسرچ کا خاصہ بھی یہی ہے کہ اس ٹیم میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے ماہرین موجود ہیں۔"

 

 

 

 

 

 

 

 

Coming up next

# TITLE RELEASED TIME MORE
پاکستانی ریسرچر کے پروجیکٹ کی آسٹریلین ایوارڈ کے لئے نامزدگی 25/08/2019 08:09 ...
اردو خبریں ۲۲ جنوری ۲۰۲۰ 22/01/2020 15:07 ...
ایس بی ایس اردو خبریں ۲۰ جنوری ۲۰۲۰ 19/01/2020 12:22 ...
آسٹریلیا ڈے کے موقع پر آسٹریلیا کو اپنا گھر بنانے والے کیا کہتے ہیں؟ 19/01/2020 12:26 ...
ایس بی ایس اردو خبریں سولہ جنوری ۲۰۲۰ 15/01/2020 10:59 ...
بائک پر ۱۴ ہزار کلومیٹر کا سفر- کیا آپ نے ایسا سوچا ہے؟ 14/01/2020 11:25 ...
ایس بی ایس اردو تیرہ جنوری ۲۰۲۰ 12/01/2020 11:58 ...
ایس بی ایس اردو خبریں نو جنوری ۲۰۲۰ 09/01/2020 08:49 ...
کیا مرد اپنی دماغی صحت کو نظر انداز کرتے ہیں؟ 08/01/2020 06:18 ...
آسٹریلین بش فائر : فضائی آلودگی سے کیسے بچیں؟ 07/01/2020 10:09 ...
View More