ابھی آنے والا ہے Sun 6:00 PM  AEDT
ابھی آنے والا ہے شروع ہوگا 
Live
Urdu radio
ایس بی ایس اردو

خدارا اِن کو بولنے دیجئے

Source: KM Choudary-AP

پاکستان میں طلبہ تنظیموں پر جنرل ضیا اُلحق کے زمانے میں یہ کہہ کر پابندی لگائی گئی تھی کہ یہ تنظیمیں سیاسی جماعتوں کی آلہ کار بن گئی ہیں اور قتل و غارت گری اور تشدد میں ملوث ہیں۔ اب لگ بھگ نصف صدی بعد ملک میں طلبہ تنظیموں پر پابندی ختم کرنے کی فضا ہموار ہوئی ہے مگر حالیہ دنوں میں لاہور اور اسلام ٓباد کی جامعات میں ہونے والے کچھ پُر تشدد واقعات نے پھر سیاسی اور لسانی وابستگیوں کی بنیاد پر طلبا تنظیموں کی سرگرمیوں پر سوالات اٹھائے ہیں ۔ معروف ریڈیو براڈکاسٹر اور صحافی شفیع نقی جامعی سنہ ستر کی دہائی میں طلبہ تنظیموں کے عروج و زوال کے نہ صرف چشمِ دید گواہ رہے بلکہ انِ طلبہ تنظیموں سے بھرپورطور پر وابستہ بھی رہے۔ وہ طلبا تنظیموں پر پابندی ختم کرنے کے حق میں ہیں مگر کچھ حلقے تعلیمی اداروں میں سیاسی بنیادوں پر قائیم طلبہ تنظیموں کے مخالف ہیں۔

پاکستان میں آج کل طلبہ تنظیموں کی بحالی پر بحث و مباحثہ جاری ہے اور ایک طویل عرصے بعد طلبہ کی سرگرمیاں پھر سے زیرِ بحث ہیں۔ معروف ریڈیو براڈکاسٹر اور صحافی شفیع نقی جامعی سنہ ستر کی دہائی میں طلبہ تنظیموں کے عروج و زوال کے نہ صرف چشمِ دید گواہ رہے بلکہ  انِ طلبہ تنظیموں سے بھرپورطور پر وابستہ بھی رہے۔۔وہ طلبا تنظیموں پر پابندی کی مخالفت کرتے ہیں۔ 

خدارا ان پر پابندیاں مت لگائیے ورنہ لاوا اندر ہی اندر پکے گا اور  آج نہیں تو کل یہ لاوا پھٹے گا

مگر کئی حلقے طلبہ تنظیموں کو تعلیمی معیار کی گراوٹ اور صحت مندانہ نصابی سرگرمیوں سے دور لے جانے کا سبب قرار دیتے ہیں۔جبکہ کچھ مبصر ایک سخت ضابطہ اخلاق کے ساتھ طلبہ تنظیموں کی محدود  غیر سیاسی سرگرمیوں کے حامی ہیں۔ 

  پاکستان میں طلبہ یونین پر پابندی ۔ کب کیا ہوا؟

پاکستان بھرکے تعلیمی اداروں میں طلباء یونین اور طلبہ تنظیموں پر پابندی کو لگ بھگ 35 سال بیت چکے ہیں۔ سنہ ساٹھ اور ستر کی دہائی میں طلبہ کی تنظیمیں تعلیمی اداروں میں طاقت پکڑتی گئیں۔ ان میں اسلامی جمعیت طلبہ اور نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن قابلِ ذکر تھیں۔ ستّر اور اسّی کی دہائیوں میں ان تنظیموں میں تشدد کا عنصر پرورش پانے لگا اور جنرل ضیاء الحق نے ان پر پابندی عائد کر دی۔ تب سے بیشتر تعلیمی اداروں میں بظاہر امن قائم ہے، مگر پابندی کے مخالفین کہتے ہیں کہ اس پابندی کے نتیجے میں لسانی ، گروہی اور انتہا پسندی  کے رحجانات کو فروغ ملا جبکہ تخلیقی اور قائدانہ صلاحیتوں کا فقدان ہوا ہے ۔

 نواز شریف کی حکومت نے بھی تعلیمی اداروں میں طلباء تنظیموں اور یونینوں پر پابندی لگانے کا فیصلہ برقرار رکھا تھا۔ اس سے قبل 1988ء میں اور بعد میں 2008ء میں طلباء یونین پر عائد پابندی اٹھانے کا اعلان کیا گیا تھا تاہم اس پر بوجوہ دیگر عمل درآمد ممکن نہیں ہوسکا۔ ملک میں ایک طویل عرصے تک فوجی حکمرانی رہی ہے اور جمہوری حکومتوں پر بھی فوج کے اثرات سے کسی کو انکار نہیں رہا۔ پھر افغان جنگ کے دوران روس کے بڑھتے اثرات کا خوف ملک میں سوشلزم اور کمیونیزیم  کی طرف جھکاو رکھنے والی طلبہ تنظیموں کو ملک دشمن قرار دینے  کی فضا بنانے میں مدد گار  بنا جبکہ مذہبی انتہا پسندی کا جِن اسی دور میں باہر نکل آیا جس پر آج تک مکمل طور پر قابو نہیں پایا جا سکا۔

Student unions
AFP

انیس سو اٹھاسی میں اس وقت کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے قومی اسمبلی میں طلبہ تنظیموں کو 100 دن کے اندر اندر بحال کرنے کا اعلان کیا لیکن یہ معاملہ آج بھی جوں کا توں ہے۔ 

آسٹریلیا میں طلبہ تنظیمیں کیسے کام کرتی ہیں؟

نیشنیل یونین آف اسٹوڈنٹ آسٹریلیا میں طلبہ کی  سب سے بڑی اور مرکزی تنظیم ہے جو انڈر گریجوٹ طلبا کی نمائیندہ تنظیم کہلاتی ہے۔  یہ مرکزی تنظم  تمام  یو  umbrella organizationنیورسٹیز کی ایسوایشنز اوریونینوں کےچارٹر کے مطابق دیگر چھوٹی طلبہ تنظیموں کے ساتھ مل کر

 کے طور پر کام کرتی ہے۔  نیشنیل یونین آف اسٹوڈنٹ کی صدر دیساری کائی کا کہنا ہے کہ قومی سطح کی یہ مرکزی طلبہ تنظیم ملک میں مساوی تعلیم اور سب کے لئے یکساں فلاحی نظام کے ساتھ ساتھ  طلبہ کی زندگی میں حقیقی تبدیلیاں لانے کے لئے کوشاں رہتی ہے۔۔ یونین سب کے لئے نسل ، صنف ، جنسیت ، یا مذہب سے قطع نظر۔ برابری کے مواقع پیدا کرنے ، نوجوانوں کے لئے ملازمت کے امکانات کو بڑھانے کے لئے کام کرتی ہے۔

  شفیع نقی جامعی نےبرطانیہ کے معروف تعلیمی ادارے لندن اسکول آف اکنامکس میں بھی تعلیم حاصل کی اور وہاں بھی اسٹوڈنٹ یونین کے جنرل سکریٹری رہے جو یونین صدر سے بھی ذیادہ طاقتور ہوتا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ مغربی ممالک میں بھی طلبہ تنظیمیں سیاسی وابستگیاں رکھتی ہیں۔ اور اپنے اپنے ایجنڈوں پر کام کرتی ہیں ۔ کیونکہ آسٹریلیا ، برطانیہ اور امریکہ جیسے ممالک میں عوامی مسائیل کی نوعیت مختلف ہوتی ہے اس لئے یہاں مطالبوں اور احتجاج کے نکات و موضوعات بھی مختلف ہوتے ہیں۔ مگر یہاں بھی کسی کا جھکاو دائیں بازو کی طرف ہے تو کسی کا بائیں بازو کی جانب ، کوئی گرینز اور ماحولیات کی فکر میں ہے تو کوئی جنگ کے خلاف مہم چلا رہا ہے، جس طرح کے مسائیل اسی طرح کی بحث ۔ پاکستان جیسے ممالک میں پبلک ٹرانسپورٹ سے لے کر فیسوں کے بڑھنے کے جنجال تک اور کولر لگوانے سے لے کر سڑکیں بنانے تک کے مطالبے مظاہروں میں سنائی دیتے ہیں اور چھوٹی چھوٹی باتیں بھی بڑے بڑے مسائیل بن جاتے ہیں جن کے حل کے لئے جلوس نکالنا پڑتے ہیں۔  جبکہ مغربی دنیا کے تعلیمی اداروں میں مسائیل مختلف ہیں۔ ان کا کہنا تھا جامعہ کراچی کی یونین کے صدر کے طور پر انہوں نے طلبا و طالبات کے لئے بسوں کا پوائینٹ سسٹم شروع کیا، جامعہ کراچی تک سڑک بنوائی مگر یہ سب اس وقت کے پاکستانی یونیورسٹی کےطلبا کے مسائیل تھے اور شائید آج بھی ہیں۔ انہوں نے مغرب میں طلبا کے مسائیل کو یکسر مختلف پایا 

آسٹریلیا میں پاکستانی طلبا کیا پڑھ رہے ہیں؟
00:00 00:00

 نیشنل یونین کے جنوبی آسٹریلیا کے سابق صدر علی امین کا کہنا ہے کہ یہاں تعلیمی اداروں میں تشدد یا سیاسی وابستگیوں پر امتیاز کا رحجان نہ ہونے کے برابر ہے حالانکہ سیاسی وابستگی اور سیاسی رحجانات رکھنے والے گرپس یہاں بھی موجود ہیں  اورسیاسی جماعتوں کے ونگز یہاں کی جامعات میں بھی کام کرتے ہیں۔ اسی طرح غیر ممالک کے طلبہ کی اپنی اپنی سوسائیٹیز اور دینی رحجانات رکھنے والی تنظیمیں  بھی موجود ہیں ۔طلبہ کی منتخب نمائیندہ تنظیموں کو یونیورسٹیوں کی طرف سے گرانٹ دی جاتی ہے۔ ہر یونیورسٹی میں ا انفرادی انجمنیں یا سوسائیٹیز بنی ہوئی ہیں جس کے عہدے دار ہر سال منتخب ہوتے ہیں ۔ یہ  سوسائیٹیز طلبا کے  مسائیل کے حل کے لئے نہ صرف آواز اٹھاتی ہیں بلکہ دیگر تنظیموں کے ساتھ مل کر قومی سطح کے سیاسی اور معاشرتی مباحثوں میں بھی طلبا کی نمائیندگی کرتی ہیں۔  اس کے علاوہ نوجوانوں کی صلاحیتوں کے اظہار کے لئے ہر تعلیمی ادارے میں مختلف انجمینیں اور سوسائیٹیٹاں کام کرتی ہیں۔ 

تعلیمی اخراجات، رہائیش ، جنسی تشدد،  فیسوں کا نطام اورتعلیمی ورک لوڈ جیسے مسائیل  آسٹریلیا میں طلبا کے بڑے مسائیل سمجھے جاتے ہیں

 آسٹریلیا کی سیاسی جماعتوں کی طرح تعلیمی اداروں میں اُن کی ذیلی  طلبہ تنظیموں میں بھی عدم تشدد اور ایک دوسرے کو برداشت کرنے کا  رحجان غالب ہے۔

 درجہ ذیل طلبہ یونینز قومی یا نیشنل سطح پر کام کرتی ہیں

 پاکستانی طلبہ تنظیموں کے کردار پر  مختلف نقطہ نظر

طلبہ یونین کی بحالی کے مخالفین کا کہنا ہے کہ طلبہ سیاست اور طلبہ یونینز تعلیمی اداروں کا پرامن ماحول خراب کرتی ہیں اور غنڈہ گردی اور اسلحہ کلچر کو فروغ  ۔دیتی ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ لسانی اور فرقہ ورانہ تنظیمیں بھی تعلیمی اداروں میں پھلتی پھولتی رہی ہیں۔مجیب الرحمان شامی ستر کی دہائی میں پنجاب یونیورسٹی میں طلبہ تنظیم کےمنتخب صدر رہے اور انہوں نے ساہیوال کالج اسٹوڈنٹس یونین کے صدر کی حیثیت سے محترمہ فاطمہ جناح کی انتخابی مہم کے دوران قائدانہ کردار بھی ادا کیا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ پاکستان کا  مفاد اسی میں ہے کہ ایک ضابطۂ اخلاق کے تحت طلبہ تنظیموں کو بحال کیا جائے تاکہ قیادت سازی کا عمل دوبارہ شروع ہو سکے۔

 ماضی میں طلبہ یونینز سیاسی جرائم کا ارتکاب کرتی رہی ہیں۔ وہ طلبہ کو شائستگی، میانہ روی اور برداشت کی تربیت دینے کے بجائے ٹریڈ یونین کے طور پر استعمال کرتی تھیں اب یہ سلسلہ مکمل طور پر ختم ہونا چائیے 

 ان کا کہنا تھا کہ اب ملک میں ایک قانون کے تحت پرائیویٹ یونیورسٹیوں کو بھی اسٹوڈنٹس یونین کے قیام کا پابند کرنا ہوگا جس کے لئےتمام تعلیمی اداروں میں کام کرنے والی طلبہ تنظیموں کے لئے ایک ہمہ پہلو ضابطۂ اخلاق نافذ کرنا ہو گا۔ شفیع نقی جامعی اپنے دورِ طالب علمی کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ انہوں نے جامعہ ملیہ کراچی میں چودہ سال تک تعلیم حاصل کی، کئی گولڈ میڈیل جیتے اور ان کے نام کے ساتھ جامعی بھی جامعہ ملیہ کی روایات کا حصہ ہے کہ وہاں سے فارغ التحصیل  طلبا فخریہ طور پر نام کے ساتھ جامعی لگاتے تھے۔ انہوں نے اپنے تعلیمی دور میں طلبہ تنظیموں کی سرگرمیوں میں بھرپور طریقے سے حصہ لیا اور جامعہ کراچی کے منتخب صدر رہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ ضیا الحق کے دور سے پہلے طلبہ بھرپور طریقے سے نصابی اور غیر نصابی سرگرپیوں میں حصہ لیتے تھے اور ہر میدان میں صحت مندانہ سرگرمیاں جاری تھیں۔ سقوطِ ڈھاکہ کے بعد بھی  طلبہ ہر سماجی، سیاسی، اور معاشرتی تبدیلی کی تحریک کا حصہ رہے مگر جنرل ضیا کے دور میں طلبہ تنظیموں پر شکنجہ کسا گیا اور آخِر کار اس دور میں جمہوری روایات کے لئیے آواز اٹھانے والے ہراول دستے کا راستہ بند کرنے کے لئے حیلے بہانوں سے پورے ملک میں طلبہ تنظیموں پر پابندی لگا دی گئی جو آج بھی برقرار ہے۔

Student unions
peoplesdispatch.org

 صحافی اور تجزیہ نگار شفیع نقی جامعی کہتے ہیں کہ پاکستان کی  جامعات میں تشدد کی ہر گز کنجائیش نہیں مگر بات کرنے پر پابندی اس کا علاج نہیں ۔ 

پابندیاں گھٹن پیدا کرتی ہیں اس لئیے انہیں بولنے دیجئیے۔ یہ نہیں بولیں گے تو کون بولے گا

 ایک طرف کئی حلقے طلبہ تنظیموں کو تعلیمی معیار کی گراوٹ اور صحت مندانہ نصابی سرگرمیوں سے دور لے جانے کا سبب قرار دیدتے ہیں۔تو دوسری طرف  کچھ مبصر ایک سخت ضابطہ اخلاق کے ساتھ طلبہ تنظیموں کی محدود مگر غیر سیاسی سرگرمیوں کے حامی ہیں مگر شفیع نقی جامعی کا کہنا ہے کہ  تعلیمی اداروں میں غنڈہ گردی، تشدد اور اسلحے کا استعمال تب شروع ہوا جب طلبہ کے بولنے پر اور ان کی صحتمندانہ سرگرمیوں پر پابندیاں لگائی گئیں۔ وہ تشدد اور عدم برداشت کے سخت مخالفت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ طلباء تنظیمیں نوجوانوں کو شعور و آگہی فراہم کرتی ہیں جب کہ پابندی ان کی صلاحیتوں کو زنگ آلود کردیتی ہیں۔

 ان نوجوانوں کے پاس دیکھنے والی آنکھیں، سننے والے کان اور سوچنے والے ذہن ہیں خدا کے واسطے ان کا راستہ مت روکئے کیونکہ یہ اس ملک کا آنے وال کل ہیں

 

 نوٹ: یہ آرٹیکل سابقہ اور موجودہ طلبہ رہنماوں کے اپنے خیالات پر مبنی ہے۔

Coming up next

# TITLE RELEASED TIME MORE
خدارا اِن کو بولنے دیجئے 17/12/2019 12:30 ...
طلسمِ ہوشربا کا جادو اب انگریزی میں 27/02/2020 11:21 ...
ایس بی ایس اردو خبریں ۲۷ فروری 27/02/2020 11:21 ...
آنکھوں کا معائینہ اہم کیوں؟ 26/02/2020 10:46 ...
ہر سکھیاں ۔ تین بہنوں کی صوفی گائیگی کا سفر 26/02/2020 14:03 ...
سیاحت میں اضافہ ہوگیا، اب مرحلہ ہے ذمہ داری کا۔ 25/02/2020 08:16 ...
سلام فیسٹیول ۲۰۲۰۔ میلبورن میں اسلامی ثقافت کا رنگا رنگ میلہ 25/02/2020 08:50 ...
ایس بی ایس اردو خبریں ۲۴ فروری ۲۰۲۰ 24/02/2020 14:55 ...
ہائر کار کیا ہوتی ہے اور کیسے کام کرتی ہے؟ 21/02/2020 10:05 ...
ایس بی ایس اردو خبریں ۲۰ فروری ۲۰۲۰ 21/02/2020 14:59 ...
View More