ابھی آنے والا ہے Sun 6:00 PM  AEST
ابھی آنے والا ہے شروع ہوگا 
Live
Urdu radio
ایس بی ایس اردو

بو کاٹا: سڈنی میں پتنگ بازی کے تہوار نے بسنت کی یادیں تازہ کردیں

People engaged in kite flying at the Kite Flying Festival in Castle Hill Showground Source: Nida Tahseen

پتنگ بازی کی مقبولیت اب صرف جنوبی ایشیا تک ہی محدود نہیں رہی بلکہ آسٹریلیا میں بھی یہ تہوار چند سالوں سے منایا جارہا ہے۔ یہاں کہ منتظمین ہر سال مختلف شہروں میں اس کا انعقاد کراتے ہیں جہاں لوگوں کی ایک بڑی تعداد اس فیسٹیول یا تہوار میں شرکت کرتی ہے۔ گزشتہ ہفتے کاسل ہل شوگراونڈ سڈنی میں کائٹ فلائنگ فیسٹیول کا انعقاد کیا گیا جہاں پاکستان، انڈیا، سری لنکا سمیت دیگر ممالک کے افراد نے اس میں بھرپور شرکت کی اور پیچے لگائے۔

کہا جاتا ہے کہ اگرآسمان میں آپکو رنگ برنگی پتنگیں اڑتی نظر آئیں تو سمجھ لیں کہ بہار کی آمد آمد ہے۔ بنیادی طور پر پاکستان سمیت جنوبی ایشیا میں بسنت کا تہوار اس بدلتے موسم کو خوش آمدید کرنے کا ایک بہترین طریقہ ہے۔ جسے بھرپور انداز میں منانے کیلیے لوگ ہزاروں روپے خرچ کرتےہیں اور اپنے گھر کی چھتوں پر جشن کا سا سماں باندھتے ہیں۔ اس تہوار کو جنوبی ایشیا کے مختلف ممالک جن میں پاکستان، انڈیا، بنگلادیش، نیپال اور سری لنکا شامل ہیں مختلف ناموں سے جانا جاتا ہے۔ ابتدائی طور پر یہ ایک ہندو تہوار تھا لیکن تیرویں صدی میں صوفی شاعر امیر خسرو نے اپنے مرشد حضرت نظام الدین اولیا کی خانقاہ پر بسنت کا تہوار منایا جس سے یہ تہوار مسلمانوں میں بھی مقبول ہونے لگا۔ پھر انیسویں صدی میں مہاراجہ رنجیت سنگھ نے لاہور میں سماجی، ثقافتی اور موسمی سرگرمیوں کوعام کرنے کیلیے بسنت کی سرگرمیوں میں پتنگ بازی کو ایک سالانہ میلے کے طور پر منانا شروع کیا۔

Kite Flying Festival in Castle Hill Showground
Kite Flying Festival in Castle Hill Showground
Nida Tahseen

اس تہوار کی مقبولیت اب صرف جنوبی ایشیا تک ہی محدود نہیں رہی۔ بلکہ آسٹریلیا میں بھی یہ تہوار چند سالوں سے منایا جاتا ہے۔ یہاں کے منتظمین ہر سال مختلف شہروں میں اس کا انعقاد کراتے ہیں جہاں لوگوں کی ایک بڑی تعدار اس فیشٹیول یا تہوار میں شرکت کرتی ہے۔ گزشتہ ہفتے کاسل ہل شوگراونڈ سڈنی میں کائٹ فلائنگ فیسٹیول کا انعقاد کیا گیا۔  لاہور سے تعلق رکھنے والے ارسلان خان نے اس میں شرکت کی، آئیے سنتے ہیں کہ انکا اس کے بارے میں کیا کہنا ہے،

’میں دو سال سے اس فیسٹیول کا انتظار کر رہا تھا۔ جب میں آسٹریلیا نیا نیا آیا تھا تب میں نے اسے سیلیبریٹ کیا تھا، اسکے بعد یہاں کووڈ آگیا۔ پر اب بہت مزا آرہا ہے، بہت سارے لوگ یہاں پر آئے ہوئے ہیں۔ میں بہت اکسساٹڈ ہوں کہ پتنگ بازی کا مجھے موقع مل رہا ہے۔ یہاں آکے وہ یاد تازہ ہوگئی ہے جب ہم دس سال پہلے لاہور میں اپنی فیملی، ماموں اور کزنز کے ساتھ بسنت مناتے تھے، مجھے تو بہت مزا آرہا ہے۔‘

ہزارہ سے تعلق رکھنے والی زرنین پاکستان اور آسٹریلیا کی ثقافت کے ملاپ سے پرامید ہیں اور کہتی ہیں کہ وہ اپنے بچوں کے ہمراہ اس تہوار میں شرکت کر کے بہت خوش ہیں،

’آج ہم اپنے بچوں کو پتنگ بازی کے کلچر سے انٹروڈیوز کرانے لائے ہیں کیونکہ انکو تو ہمارے اس ثقافتی کھیل کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا۔ اب وہ بہت مزا کر رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم نے پاکستان جا کے بھی لاہور میں بسنت منانی ہے۔ میرے شوہر نے پتنگ خریدی ہے اور ہم بہت خوش ہیں کہ آسٹریلیا میں ہمارے کلچر کو بھی پروموٹ کیا جاتا ہے۔ اچھا لگ رہا ہے کہ انڈین، پاکستانی اور آسٹریلوی کلچر کے افراد ایک ساتھ ایک تہوار منا رہے ہیں۔ پاکستان زندہ باد۔‘

 

Pakistani family at the Kite Flying Festival
Pakistani family enjoying the festivities of kite flying at the Kite Flying Festival in Castle Hill Showground
Nida Tahseen

گجرات کے عثمان ایاز بھی اپنی فیملی کے ساتھ پہلی بار اس فیسٹیول میں شریک ہوئے،

’ہم پہلی بار اس فیسٹیول میں شرکت کر رہے ہیں اور کووڈ کے بعد پہلی بار اتنی گہما گہمی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ ‘

عثمان کو آسٹریلیا کی بسنت پاکستان سے مختلف لگی۔ وہ کہتے ہیں،

 ’آسٹریلیا اور پاکستان کی بسنت کا کوئی مقابلہ نہیں۔ ہاں ہمیں یہاں پتنگیں دیکھنے کو مل رہی ہیں اور رونق ہے مگر پاکستان میں تو ہم ایک رات پہلے ہی تیاریاں شروع کر دیتے تھے اور خوب مستی کرتے تھے۔ مگر یہاں کی بسنت بھی فیملی کے ساتھ اچھا وقت گزارنے کا ایک اچھا ذریعہ ہے۔‘

بھشنت پٹیل کا تعلق انڈیا سے ہے اور وہ اپنے بیٹے کو پتنگ بازی کا جوہر سکھانا چاہتے ہیں۔ کورونا کے باعث سویٹی اپنی چھ سالہ بیٹی سے دو سال بعد ملیں وہ کہتی ہیں کہ جب ہم نے اپنی بیٹی کو آج کے فیسٹیول کے بارے میں بتایا تو وہ بہت خوش ہوئی اور ہم اچھا اچھا تیار ہوکر پتنگ بازی کرنے آئے۔  

 

Dharmista and Lizz enjoying kite flying
Dharmista and Lizz enjoying kite flying at the Kite Flying Festival
Nida Tahseen

دہلی کی دھرمشتا کافی دور سے پتنگ بازی کرنے آئی ہیں اور انہیں کافی دیر قطار میں لگنے کے بعد پتنگ ملی۔ انھوں نے بتایا کہ انھوں نے تین پتنگیں خریدی ہیں پر گڈی اڑانے سے پہلے انھوں نے کھانا کھایا کیونکہ لمبی قطار میں کھڑے ہونے سے انھیں بھوک لگ گئی تھی اور کھانا بہت مزے کا تھا۔ 

پتنگ بازی اپنے اندر ہی ایک مزیدار کھیل ہے جس سے آسٹریلیا کے مقامی باشندے بھی متاثر ہوئے بنا نہیں رہ سکے، واگا واگا کی لز نے کہا کہ وہ اگلے سال اپنے مزید ساتھیوں کے ہمراہ اس فیسٹیول میں شرکت کرینگی۔


 

پوڈکاسٹ کو سننے کے لئے سب سے اوپر دئیے ہوئے اسپیکر آئیکون پر کلک کیجئے یا نیچے دئے اپنے پسندیدہ پوڈ کاسٹ پلیٹ فارم سے سنئے:

 Spotify PodcastApple Podcasts, Google PodcastStitcher Podcast

Coming up next

# TITLE RELEASED TIME MORE
بو کاٹا: سڈنی میں پتنگ بازی کے تہوار نے بسنت کی یادیں تازہ کردیں 11/05/2022 54:07 ...
نئے مالی سال میں کچھ ویزہ ہولڈرز کے لئے پی آر کی آسان ہوتی راہ 02/07/2022 07:00 ...
حالاتِ حاضرہ ۔ وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے لئے ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا حکم اور اتحادی جماعتیں شہباز شریف سے غیر مطمئین کیوں؟ 30/06/2022 00:09 ...
ماڈرن آسٹریلیا کی نمائندہ، کمیونیکیشن منسٹر مشیل رولینڈ سے ایک ملاقات 29/06/2022 15:16 ...
پاکستان ہائی کمیشن کا مینگو فیسٹول ، پاکستان آسٹریلیا کے مابین سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل 29/06/2022 07:56 ...
پاکستان آسٹریلیا سے پچز درآمد نہیں کررہا : اسپورٹس راونڈ اپ 26/06/2022 09:53 ...
پاکستان کے نوجوان فلمساز بنے آسٹریلیا میں نیو یارک فلم اکیڈمی کے مہمان 25/06/2022 29:08 ...
حکومت نے بجلی کی بلا تعطل فراہمی کا پلان تیار کر لیا 21/06/2022 15:05 ...
تارک وطن افراد " ٹیف " سے کیسے فائدہ اٹھائیں 21/06/2022 09:48 ...
ابھی تو بس وارم اپ ہوا ہے: پاور ومن اپنی شاندار فتح کے بعد مزید سنسنی خیز مقابلوں کیلیے پرعزم 20/06/2022 45:14 ...
View More