ابھی آنے والا ہے Sun 6:00 PM  AEST
ابھی آنے والا ہے شروع ہوگا 
Live
Urdu radio
ایس بی ایس اردو

ہنگامہ خیز دورِ اقتدار کے خاتمے کے بعد عمران خان کی سیاسی حکمتِ عملی کیا ہو گی؟

Pakistan's Supreme Court blocked Prime Minister Khan's bid to stay in power, ruling that his move to dissolve Parliament and call early elections was illegal. Source: AP

عمران خان کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد کامیاب ہونے کے بعد عمران خان اب وزیراعظم پاکستان نہیں رہے۔ نصف شب کے بعد قومی اسمبلی کے ایک اعصاب شکن اجلاس کے آخر میں پینل آف چیئر ایاز صادق نے اعلان کیا کہ وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کثرت رائے سے منظور ہوئی۔ سابق وزیراعظم جو آخری بال تک لڑنے،عوام کو منحرفین کا پیچھا کرنے، سرپرائیزز دینے اور ہار نہ ماننے کی باتیں کرتے ہوئے رخصت ہوئے اب اپوزیشن میں رہ کر کیا حکمتِ عملی اپنا سکتے ہیں؟

قومی اسمبلی میں وزیراعظم عمران خان کے خلاف اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد 174 ووٹوں کے ساتھ کامیاب ہوگئی، جس کے بعد وہ ملک کے پہلے وزیراعظم  بن گئے جن کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوئی ہے۔ اسپیکر اسد قیصر نے ایوان میں آکر اراکین سے کہا کہ زمینی حقائق کو دیکھتے ہوئے میں نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا ہے اور ایاز صادق سے کہا کہ وہ پینل آف چیئرمین کے رکن کی حیثیت سے اجلاس کی کارروائی جاری رکھیں۔ جس کے بعد ان کی صدارت میں اجلاس کی  کارروائی آگے بڑھائی گئی۔ اس دوران ایوان میں حکومتی بینچزر خالی ہوگئیں اور حکومتی ارکان ایوان سے چلے گئے۔ جس کے بعد ووٹنگ ہونے پر تحریک عدم اعتماد 174 ووٹوں کے ساتھ کامیاب ہوگئی۔

وزیراعظم عمران خان کیخلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے موقع پر قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ عمران خان ملک پر غیر جمہوری بوجھ تھے، شہباز شریف نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کا اتحاد ملک کو دوبارہ تعمیر کرے گا، جبکہ تحریک انصاف کے رہنما علی محمد خان نے کہا کہ عمران خان کو آزاد خارجہ پالیسی بنانے کی سزا دی گئی.

 سپریم کورٹ کے 5 رکنی بنچ نے متفقہ طور پر ڈپٹی سپیکر قام سوری کی جانب سے وزیراعظم عمران خان کیخلاف تحریک اعتماد کو مسترد کرنے کے فیصلے کو غیر آئینی قرار دیا تھا۔ سپریم کورٹ نے حکم دیا تھا کہ حکومت کسی بھی رکنِ قومی اسمبلی کو عدم اعتماد کی تحریک میں ووٹ ڈالنے سے نہ روکے اور نہ ہی کسی قسم کی مداخلت کرے۔

 

 

سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے بیرونی مداخلت کے خلاف سوشل میڈیا پر چلنے والے ٹرینڈ کو اپنے لیڈر کے بیانئے کی کامیابی سے تعبیر کرتے ہوئے اسے  تاریخی قرار دیا اور ٹوئیٹر صارف عبدل قادر کا ٹوئیٹ شئیر کیا۔

عمران خان اب کیا کر سکتے ہیں؟

یہ جاننے کے لئے  سابق وزیراعظم عمران خان کی اب اپوزیشن میں رہ کر کیا حکمت عملی اختیار کر سکتے ہیں ان کے کچھ حالیہ  بیانات پر نظر ڈالی جا سکتی ہے۔ ۳ اپریل کو وزیراعظم عمران خان نے عوام سے براہ راست گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک سے غداری ہورہی ہے جس کے خلاف اسلام آباد ریڈزون کے باہر پرامن احتجاج کرینگے،  اور وہ نماز عشا کے بعد خود بھی اس احتجاج میں شریک ہونگے۔ اس سے پہلے کچھ خطابات میں وہ اپنے مخالفین کو بتاتے رہے ہیں کہ وہ اگر نہ بھی کہیں تب بھی عوام گھیراؤ کریں گے اور منحرفیین کے چہرے پہچاننے اور ان کا سوشل بائیکاٹ کرنے جیسی کی باتیں کرتے رہے ہیں۔ 

انہوں نے قوم سے اپنے خطاب میں بھی برطانیہ اور دیگر ممالک میں عراق جنگ کے خلاف لاکھوں افراد کے مظاہرے کو مثال کے طور پر پیش کرتے ہوئے عوام سے پُر امن احتجاج کی اپیل کی تھی۔ خود ان کے وزرا بھی پچھلے کچھ دنوں میں عوام سے گھروں سے نکلنے کی اپیلیں کرتے رہے ہیں۔ اور وزیر اعظم اور ان کے اراکین ستائیس مارچ کو پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کے جلسے میں  دس لاکھ افراد کو اسلام آباد میں جمع ہونے کی مہم چلاتے رہے ہیں۔ اس سے پہلے جنوری  ۲۰۰۳  میں  ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے سوال و جواب کے سیشن 'آپ کا وزیرِ اعظم آپ کے ساتھ ' میں شہریوں کی ٹیلی فون کالز کا جواب دیتے ہوئے وزیرِ اعظم عمران خان دیگر قومی معاملات پر بات کرتے ہوئے بظاہر اپوزیشن جماعتوں کو ہدفِ تنقید بناتے ہوئے کہا  تھا کہ وہ اب تک اپنے دفتر میں خاموشی سے بیٹھ کر تماشہ دیکھتے رہتے ہیں،  لیکن اگر وہ سڑکوں پر نکل آئے تو حزبِ اختلاف  کو بقول ان کے چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی۔ پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم عمران خان نے اسی خطاب میں کہا تھا کہ اگر وہ اقتدار سے الگ ہوئے تو زیادہ خطرناک ہو جائیں گے اور سڑکوں پر آکر اپوزیشن جماعتوں کے لیے زیادہ خطرے کا باعث بنیں گے۔ اب یہ آنے والا وقت بتائے گا کہ عمران خان اپنے دورِ حکمرانی سے سبق لیتے ہوئے سب کے ساتھ مل کر چلنے کی راہ اپناتے ہیں یا اپنا حالیہ بیانیہ جاری رکھتے ہوئے مزید جارح بن کر سامنے آتے ہیں۔

ایس بی ایس اردو سے بات کرتے ہوئے آسٹریلیا کے دورے پر اس وقت موجود پاکستانیوں نے ملے جلے ردِ عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں امید ہے کہ تمام سیاست قانونی اورآئینی حدوں میں رہ کر کی جاتی رہے گی۔ اور ملک کو انارکی اور انتشار سے بچانے کے لئے دونوں جانب سے پچھلی جذباتی بحثوں کو پیچھے چھوڑ کر ملکی خوشحالی کے لئے مثبت اور مصالحتی فیصلے کئے جایئں گے۔

Coming up next

# TITLE RELEASED TIME MORE
ہنگامہ خیز دورِ اقتدار کے خاتمے کے بعد عمران خان کی سیاسی حکمتِ عملی کیا ہو گی؟ 10/04/2022 07:05 ...
حالاتِ حاضرہ ۔ وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے لئے ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا حکم اور اتحادی جماعتیں شہباز شریف سے غیر مطمئین کیوں؟ 30/06/2022 00:09 ...
ماڈرن آسٹریلیا کی نمائندہ، کمیونیکیشن منسٹر مشیل رولینڈ سے ایک ملاقات 29/06/2022 15:16 ...
پاکستان ہائی کمیشن کا مینگو فیسٹول ، پاکستان آسٹریلیا کے مابین سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل 29/06/2022 07:56 ...
پاکستان آسٹریلیا سے پچز درآمد نہیں کررہا : اسپورٹس راونڈ اپ 26/06/2022 09:53 ...
پاکستان کے نوجوان فلمساز بنے آسٹریلیا میں نیو یارک فلم اکیڈمی کے مہمان 25/06/2022 29:08 ...
حکومت نے بجلی کی بلا تعطل فراہمی کا پلان تیار کر لیا 21/06/2022 15:05 ...
تارک وطن افراد " ٹیف " سے کیسے فائدہ اٹھائیں 21/06/2022 09:48 ...
ابھی تو بس وارم اپ ہوا ہے: پاور ومن اپنی شاندار فتح کے بعد مزید سنسنی خیز مقابلوں کیلیے پرعزم 20/06/2022 45:14 ...
میلبرن میں منعقد فیکا کا آنکھوں دیکھا احوال 18/06/2022 11:01 ...
View More