ابھی آنے والا ہے Wed 6:00 PM  AEDT
ابھی آنے والا ہے شروع ہوگا 
Live
Urdu radio

لاک ڈاؤن کے دوران چاق و چوبند رہنے کے 6 نسخے

People are seen exercising at Albert Park Lake on September 01, 2021 in Melbourne. Source: Daniel Pockett/Getty Images

میلبورن اور سڈنی میں لاک ڈاؤن میں توسیع کے باعث ، جمِ اور دیگر صحت و ورزش کی سہولیات بند ہیں۔ دوسروں سے ملنے پر قدغن اور باہر جانے پر پابندیوں کا جسمانی صحت کے ساتھ ذہنی تندرستی پر بھی منفی اثر ہوسکتا ہے۔

 کووڈ ۱۹ کے طویل  لاک ڈاؤن کے باعث اشد ضرورت کے علاوہ باہر جانے کی اجازت نہیں اور زیادہ تر لوگ اپنے گھروں تک محدود ہیں ۔ روزمرہ کے معمولات میں یہ خلل بہت سے لوگوں کے لیے منفی جسمانی اور نفسیاتی اثرات کا باعث بن سکتا ہے۔

آسٹریلین سائیکولوجیکل سوسائٹی کی صدر تمارا کیوینیٹ کہتی ہیں ، "ہم خود وبا کے خوف اور خاندانوں پر اس کے اثرات کے  ساتھ صحت کے نظام کے بارے میں بھی خدشات میں مبتلا ہیں اور ایسے میں غیر مصدقہ اور متضاد خبریں مزید الجھا دیتی ہی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ آسٹریلیا میں تقریبا ہر شخص کسی نہ کسی طرح متاثر ہوا ہے یا اسے وبائی امراض کے بارے میں کچھ خدشات ہیں۔

Melbourne lockdown
Police speak to people enjoying the unusually warm spring weather at St Kilda Beach in Melbourne on September 2, 2021, as the city remains in lockdown.
WILLIAM WEST/AFP via Getty Images

اپنی ذہنی صحت کا خیال رکھنا۔
سیسائل سی ، جو کہ بیانڈ بلیو کی رضاکار ترجمان ہیں ، ماضی میں ڈپریشن یا ذہنی دباؤ کا شکار تھیں ، جس پر انہوں نے سائیکو تھراپی کے ذریعے قابو پایا۔ ۔

وہ سڈنی کے سبرب پیرامٹا میں رہ رہی ہے ، جو اُن متاثرہ ایل جی اے میں  سے ایک ہے جہاں زیادہ تعداد میں کوویڈ 19 کے کیسز ہیں اور اس وجہ سے سخت پابندیاں بھی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ وہ بعض اوقات بہت پریشان ہو جاتی ہیں ، اور ایک ایسا وقت بھی تھا جب انہوں نے  کووڈ کے خوف سے باہر نکلنا چھوڑ دیا تھا۔

میں نے باہر جانا چھوڑ دیا۔ میں دکانوں پر جانا بھی نہیں چاہتی تھی۔ میرے خیال میں اس کی وجہ  کیسز میں اضافے کا خوف تھا۔ مجھے لگتا تھا میں پاگل ہو رہی ہوں

ایک کونسلر نے انہیں باہر جانے اور باقاعدگی سے ورزش کرنے کی ترغیب دی۔ انہوں نے اپنے فارغ وقت میں پینٹنگ بھی شروع کردی۔ اور ان مشاغل نے انہیں دوبارہ فعال بنانے میں مدد دی۔

cyclying
Exercising outdoors is allowed during lockdown.
Roman Pohoreki/Pexels

سوشل میڈیا کے استعمال کو محدود کرنا

ڈاکٹر کیوینیٹ کا کہنا ہے کہ لوگ اپ ڈیٹس کے لیے ہر وقت سوشل میڈیا اور خبروں کا استعمال کرتے ہیں ، لیکن انہیں دیکھنا چاہیے کہ کیا یہ ان کی ذہنی صحت کو متاثر کرتے ہیں۔

اگر سوشل میڈیا کی خبریں آپ کو زیادہ پریشان کر رہی ہیں یا آپ چڑ چڑے ہورہے ہیں تو یہ دیکھئے کہ  آپ کتنے گھنٹے خبروں کو کھنگالنے میں گزار رہے ہیں۔

ڈاکٹر کیوینیٹ کے مطابق ، "اگر خبروں کا اثر بہت زیادہ ہو رہا ہے اورآپ بے سکون ہو رہے ہیں تو  کچھ آلات سے رابطہ منقطع کرنے پر غور کریں۔

گرانٹ بلاشکی بائیونڈ بلیو کے لیڈ کلینیکل ایڈوائزر ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ لوگوں کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ ان چیزوں پر توجہ دیں جو وہ کنٹرول کر سکتے ہیں۔

آپ کی زندگی میں وہ کون سی چیزیں ہیں جن پر آپ واقعی قابو پا سکتے ہیں؟

معمولات یا نظام الاوقات کا ہونا
ڈاکٹر بلاشکی کا کہنا ہے کہ اس بات پر توجہ دینا ضروری ہے کہ ہم اپنے جسم کی دیکھ بھال کیسے کرتے ہیں ، مثلا  کافی نیند لینا ، اچھا کھانا کھانا اور ورزش کرنا



fruit
Being in lockdown means also having more time to cook healthy meals.
Trang Doan/ Pexels

"مجھے لگتا ہے کہ کام کے اوقات کو اسٹرکچر کرنا واقعی اہم ہے۔ مثال کے طور پر ، آپ کہہ سکتے ہیں ، 'صبح 11:00 بجے میں سیر کے لیے جا رہا ہوں'۔ '12 بجے میں اپنی والدہ کو فون کرنے جا رہا ہوں'۔  ہم سب کو اپنے  روزانہ کے معمولات کو برقرار رکھنا ہے۔

ڈاکٹر بلاشکی کا کہنا ہے کہ کچھ لوگوں کے لئے وقت کے حساب سے اپنے کام کرنا ایک مشق کی طرح کرنا اچھا لگتا ہے  یعنی وہ وقت پر کام مکمل ہونے کو ایک قسم کی ایتھلیٹک کامیابی سمجھتے ہیں۔ ہدف کے مقرر کر لینے سے  کام کرنے کی لگن اور ہدف حاصل کرنے کی جستجو آپ کو فعال بناتی ہے۔

آپ صبح اٹھتے ہیں اور آپ خود سے پوچھ سکتے  ہیں کہ میں اپنے آج کے دن کو کتنا اچھا بنا سکتا ہوں؟

باقاعدہ جسمانی ورزش
ڈاکٹر کیوینیٹ کا کہنا ہے کہ وبائی امراض کے دوران ورزش کو برقرار رکھنا ایک اہم چیز ہے۔

ہم جانتے ہیں کہ ورزش ذہنی صحت پر اچھے اثرات مرتب کرتی ہے۔

ورزش مجموعی ذہنی صحت کو بہتر بنانے کے لیے واقعی مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔

میلبورن یونیورسٹی میں میڈیسن کے ڈاکٹر اور پروفیسر کیسینڈرا سوزویک نئی جاری ہونے والی کتاب

Secrets of Women's Healthy Aging

کی مصنف ہیں۔

اس کتاب میں ریسرچ نتائج شامل کیے گئے ہیں جو گزشتہ 30 سالوں میں 400 سے زائد خواتین کی  زندگی پر توجہ مرکوز کرتے ہیں۔

پروفیسر سوزوک کا کہنا ہے کہ مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ روزانہ کی ورزش سے لوگوں کی  صحت میں واضح طور پر بہتری آئی ہے۔

ہماری تحقیق کے 30 سالوں میں ہم خوب ورزش کرنے والوں ، جم جانے والوں اور اور تیراکی کرنے والوں کے مثبت نتائیج کی  توقع کر رہے تھے ، مگر  دلچسپ بات یہ ہے کہ تیس  سالوں میں ہم نے دیکھا کہ جو لوگ فعال اور صحت مند ہیں  وہ  ساتوں دن کسی نہ کسی سرگرمی میں مگن رہتے ہیں۔  ۔

ایک شخص جو روزانہ 45 منٹ سے ایک گھنٹے تک پیدل چلتا ہے وہ اس وقت تک تو ٹھیک رہتا ہے جب تک وہ ہفتے میں سات دن پیدل چلتا ہے مگر پیدل چلنا ثھرنے کے بعد سستی کا شکار ہو سکتے ہیں اس کے مقابلے میں روز مرہ کے کام مستعدی سے کرنا بہتر ہے۔ لہذا اگر آپ اتنی ذیادہ ورزش نہیں کر پارہے جس کے آپ عادی ہیں تو خود پر دباؤ نہ ڈالیں ، بلکہ ہر روز صرف فعال رہیں۔

صحت مند کھانا۔

ایک اور اہم چیز جس پر توجہ دینا ضروری ہے وہ غذا ہے۔

ڈاکٹر بلاشکی کا کہنا ہے کہ پابندیوں کے دوران، لوگوں کے لیے زیادہ کھانا یا بہت زیادہ شراب پینا شروع کرنا آسان ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ایک ایسے وقت میں جب ہم سب  دباؤ میں ہیں ، اپنے لیے اچھے فیصلے کرنا آسان بنائیں۔ غیر صحت مند کھانا اور ہر تھوڑی دیر بعد کچھ بچا کھچا کھانا، یا منہ چلاتے رہنا غیر صحتمندانہ ہے۔ ، کوشش کریں کہ اسطرح کی کھانے کی چیزیں گھر میں بھی نہ رکھیں۔"

جب آپ دباؤ محسوس کریں تو فورا کچھ دوسرا کام کریں اس سے پہلے کہ بہت دیر ہوچکی ہو اور آپ تناؤ میں آ جائیں۔

کام اور ذاتی زندگی کو الگ رکھنا

لوگوں کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ سماجی روابط برقرار رکھنے کے لیے خاندان اور دوستوں کے ساتھ باقاعدہ ویب چیٹ کریں۔

ڈاکٹر کیوینیٹ کا کہنا ہے کہ یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ ہم سب اس میں اکٹھے ہیں اور ایک دوسرے سے رابطہ قائم کرنے کے ابھی بھی بہت سے طریقے موجود ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ "کوئی بھی ایسی سرگرمی کرنا جو پہلے وقت نہ ہونے کے باعث نہیں کر پاتے تھے اسے کرناعام طور پر آپ پر خوشگوار اثر ڈالے گاا اور یہ واقعی انفرادی ہے۔

ان لوگوں کے لیے جو گھر سے کام کرتے ہیں ، یہ ضروری ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ وہ کب دفتری کام کر رہے ہوں اور کب آف ہوں۔

ڈاکٹر کہتے ہیں ، "بہت سے لوگ گھر سے کام کر رہے ہیں ، اور خطرہ یہ ہے کہ ایسا ہو سکتا ہے کہ آپ کام پر رہ رہے ہوں  اورکام آپ کی زندگی میں ای میلز کے ساتھ چلتا رہے ، اور آپ کو کبھی ایسا محسوس نہیں ہوتا کہ آپ  کام میں غرق ہونے کے باعث اپنے آرام سےے دور ہیں

"میں تجویز کرتا ہوں کہ آپ اس بارے میں ایک واضح حد بنائیں کہ کام کب ہے اور آپ کی گھریلو زندگی کب ہے۔"


ذہنی صحت کے ساتھ تعاون کے خواہاں قارئین

13 11 14

یا بیونڈ بلیو پر لائف لائن سے رابطہ کر سکتے ہیں۔

کورونا وائرس مینٹل ویلبنگ سپورٹ سروس 

1800 512 348 

Coronavirus.beyondblue.org.au۔

ببیانڈ بلیو سپورٹ سروس  - 

1300 22 4636

ایمرجنسی میں 000 پر کال کریں۔


کس طرح ایس بی ایس اردو کے مرکزی صفحے کو بُک مارک بنائیں یا ایس بی ایس اردو  کو اپنا ہوم پیج بنائیں۔

کو سرچ کرکے انسٹال کیجئے SBS Radio ہماری موبائیل ایپ 

This story is also available in other languages.
Show languages