ابھی آنے والا ہے Sun 6:00 PM  AEST
ابھی آنے والا ہے شروع ہوگا 
Live
Urdu radio

رائڈ شئیرنگ اداروں کی کم سے کم اُجرت اور انشورنس ادائیگیوں پر سینیٹ انکوائری

Gig-economy companies such as Uber are coming under increasing pressure to improver workers' rights. Source: AAP

نیو ساوتھ ویلز کی سینیٹ میں پیر کو رائیڈ شئیرنگ اداروں نے اپنے کاروباری ماڈل پر پارلیمانی انکوائری میں جواب دیئے۔

اُوبر اور ڈیلیوروُ اداروں نے ’گِگ معیشت‘ کے ملازمین کے سلوک پر انکواری میں اپنے کاوربار کا دفاع کیا ہے۔

آسٹریلیا کی گِگ معیشت میں بڑے کاروباروں پر دباو بڑھ رہا ہے کہ وہ اس صنعت میں ملازمین سے متعلق بہتری لائیں۔

رائڈ شئیرنگ اداروں نے ملازمین کو ’اپنے ادارے‘ کے ملازمین ماننے سے انکار کیا ہے جن کو آسٹریلوی قانون کے مطابق کم سے کم اجرت اور انشورنس ادائیگی کرنا ضروری ہوتا ہے۔

گِگ معیشت:

رائڈ شئیرنگ ایپس کے ذریعے کم عرصے کے معاہدوں، فری لانس یا آزاد کنٹریکٹروں پر مشتعمل اس صنعت کو ’گِگ معیشت‘ کہا جاتا ہے۔

پیر کو ہونے والے اجلاس میں یہ بات سامنے آئی کہ کس طرح کم اجرت پر ملازمین حادثہ ہونے پر خود سے اسپتالوں کا خرچہ پورا کررہے ہیں۔

اُوبر ڈرائیور اسد منظور کا کہنا ہے کہ اس صورتحال میں ایسے کئی افراد ہیں لیکن وہ بولنے سے ڈرتے ہیں۔

’کووڈ۔۱۹ سے پہلے ہم نظر بھی نہیں آتے تھے، لیکن ہماری خدمات کی سب کو ضرورت ہے، چاہے وہ شہری ہو یا مائگرنٹ، ملازم ہو یا ایک طالب علم۔ سب کو پتہ ہے کہ اگر ہم آواز اٹھائیں گے تو اسے کوئی نہیں سنے گا۔‘

’اب جبکہ آپ ہمیں سن رہے ہیں تو میں امید کرتا ہوں کہ آپ کچھ تو ضرور کیجئے، تاکہ ہماری صورتحال بہتر ہوسکے۔‘

ایستیبان سالازار بھی ایک اُوبر ڈرائیور ہیں۔

پچھلے سال ستمبر میں وہ ایک حادثے کا شکار ہوا تھا۔

ایستیبان کا کہنا ہے کہ حادثے میں ہونے والے تمام اخراجات کو ہیلتھ کئیر انشورنس نے پورا نہیں کیا تھا اور اسے اپنی جیب سے پیسے دینے پڑے تھے۔

’ساری تفصیلات جانے کے باوجود ادارے نے مجھ سے یہ تک نہیں جانا کہ میں کیسا محسوس کررہا ہوں یا حادثے میں کیا ہوا، جس کے بعد مجھے احساس ہوا کہ یہ ادارے اپنے ملازمین کا خیال نہیں رکھتے اور صرف یہ چاہتے ہیں کہ ملازمین وہ کریں جو اُن کو کہا جائے۔‘

ٹرانسپورٹ ورکر یونین کے قومی سیکریٹری مائیکل کین کا کہنا ہے کہ ملازمین کی حفاظت کے لئے فوری اقدامات لینے کی ضرورت ہے۔

’یہ زندگی اور موت کا معاملہ ہے۔ اگر گیارہ ہفتوں میں پانچ ملازمین کسی صنعت میں مارے گئے ہوتے تو پورا ملک رک جاتا، اور ملک کو آج رکنے کی ضرورت ہے۔

’انکوائری کی شروعات میں ہمیں چاہیئے کی پوری صورتحال کا جائزہ لیں۔ وقت آگیا ہے کہ وفاقی حکومت عمل کرے۔ خاموشی بہت خوفناک ہے۔‘

انکوائری کے دوران اُوبر آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے جنرل مینیجر ڈومینیک ٹیلر نے اپنے ادارے کا دفاع کیا۔

’ہم نے اس صنعت میں فوری انکم پروٹیکشن انشورس پالیسی پر رہنمائی کی ہے۔ کسی اور کے پاس یہ پالیسی نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے سینیٹر کہ اگر آپ اُوبر کے لئے کام کررہے ہیں تو آپ اس پالیسی کے اہل ہیں لیکن اسی گھنٹے یا دس منٹ کے فاصلے پر اگر آپ کے ساتھ حادثہ کسی اور ادارے کے ساتھ پیش آتا ہے تو آپ اس پالیسی کے اہل نہیں۔‘

اولا آسٹریلیا کی ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ ادارے نے پچھلے سال جون میں انشورنس ادائیگیوں کا اختتام کردیا تھا۔

’کووڈ۔۱۹ کی وجہ سے یہ ایک مالی فیصلہ تھا۔ کووڈ کی وبا میں جب تیزی آئی تب ہمارے کاروبار میں ساٹھ سے ستّر فیصد تک گراہوٹ آئی تھی۔‘

دوسری جانب کھانے کی ڈیلیوری کرنے والا ادارہ مینولاگ ڈرائیوروں کو اپنے ملازم بنانے پر کام کررہا ہے۔

مینو لاگ آسٹریلیا کی مینیجنگ ڈائریکٹر مورٹن بیلنگ کا کہنا ہے کہ اگر ایک ایسے ماڈل کی طرف جائیں گے جس میں فی گھنٹہ کے حساب سے خدمات کے پیسے دیئے جائیں گے تو شاید یہ ممکن نہ ہوسکے۔

آسٹریلیا میں  فی گھنٹہ کے حساب سے کم سے کم اُجرت چوبیس ڈالر ہے۔

اُوبر کا کہنا ہے کہ ان کا  اوسط فی گھنٹہ ریٹ اکیس ڈالر ہے، لیکن انکوائری کے دوران ایک سینیٹر نے تین رپورٹس کا حوالہ دیا کہ اُوبر کا ریٹ پچھلے تین سال میں ساڑھے آٹھ ڈالر سے بارہ ڈالر رہا ہے۔


 

  

 

 

 

 

 

This story is also available in other languages.
Show languages