ابھی آنے والا ہے Sun 6:00 PM  AEST
ابھی آنے والا ہے شروع ہوگا 
Live
Urdu radio

چینی ویکسین سمیت دو اور ویکسینز کی منظوری ۔ والدین کو آسٹریلیا بلوانے کے لئے ویزہ اور استثنیٰ کیسے حاصل کریں؟

آسٹریلین شہریوں کے بیرون ملک مقیم والدین اور مستقل رہائشیوں کو اب آسٹریلیا میں داخل ہونے کی اجازت ہوگی لیکن والدین کو آسٹریلیا آنے سے پہلے مکمل طور پر آسٹریلین منظور شدہ ویکسین لگوانے سمیت دیگر کاغذی کارروائی ضروری ہے۔اسی دوران آسٹریلیا نے چینی ویکسین سائینو فارم اور ایک بھارتی ویکسین کو بھی تسلیم کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ اب ان ویکسینز کو لگوا کر آسٹریلیا آنے والے بھی آسٹریلیا میں داخلے کے اہل ہونگے۔

آسٹریلیا آنے کے لیے سفری استثنیٰ کے لیے کون درخواست دے سکتا ہے؟

 کووڈ ۱۹  کے پھیلاؤ کو روکنے میں مدد کے لیے، آسٹریلیا نے مارچ 2020 میں اپنی سرحدیں غیر شہریوں اور غیر رہائشیوں کے لیے بند کر دیں تھیں۔ لیکن فوری طور پر خاندان کے افراد (شریک حیات، ڈی فیکٹو پارٹنر، بچہ یا دوسروں پر انحصار   کرنے والے بچوں کے والدین/قانونی سرپرست آسٹریلوی شہریوں اور مستقل رہائشیوں کو سفری استثنیٰ کے لیے درخواست دینے کی اجازت تھی تاکہ وہ آسٹریلیا میں داخل ہو سکیں۔

 یکم نومبر سے، فوری خاندان کی تعریف میں آسٹریلوی شہریوں اور مستقل رہائشیوں کے والدین بھی شامل ہوں گے۔ والدین کی تعریف میں حقیقی والدین، قانونی  والدین (بشمول گود لینے والے) والدین، سوتیلے والدین کے ساتھ ساتھ ساس سسر بھی شامل ہیں۔

والدین کس ویزے کے لئے درخواست دے سکتے ہیں؟

درخواست دہندہ کی قومیت کی بنیاد پر، والدین مندرجہ ذیل تین مختصر مدت کے ویزوں میں سے کسی ایک کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔ 

eVisitor Visa (Subclass 651) ای ویزیٹر ویزہ

 مندرجہ ذیل یورپی ممالک کے شہری اس ویزے کے لیے درخواست دے سکتے ہیں: آسٹریا، بیلجیئم، بلغاریہ، کروشیا، قبرص، جمہوریہ چیک، ڈنمارک، ایسٹونیا، فن لینڈ، فرانس، جرمنی، یونان، ہنگری، آئس لینڈ، آئرلینڈ، اٹلی، لٹویا، لیچٹنسٹائن، لتھوانیا ، لکسمبرگ، مالٹا، موناکو، نیدرلینڈز، ناروے، پولینڈ، پرتگال، رومانیہ، جمہوریہ سان مارینو، سلوواک جمہوریہ، سلووینیا، اسپین، سویڈن، سوئٹزرلینڈ، برطانیہ اور ویٹیکن سٹی۔

  •  قیام کی مدت: تین ماہ تک۔
  • پروسیسنگ کا وقت: 31 دن اور چار ماہ کے درمیان
  • فیس: کوئی فیس نہیں۔

“امیگریشن فرم  کی سینئر ایسوسی ایٹ، برسبین میں مقیم ربیکا باگیانو کہتی ہیں، "پروسیسنگ کا وقت  مختلف ہو سکتا ہے۔ "لیکن اس پروسیسنگ کے وقت کو کم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے ویزا کی درخواست داخل کی جائے [اور پھر درخواست دینے کے لیے] سفری پابندی سے استثنیٰ حاصل کیا جائے۔" (ذیل میں تفصیلات دیکھیں)۔

"اگر سفری استثنیٰ منظور ہو جاتا ہے، تو یہ ویزا پروسیسنگ ٹیم کو اس کیس کو  لینے کے لیے متحرک کرے گا۔ یہ ایسا ہی ہے جو ہم نے پچھلے 18 مہینوں میں دیکھا ہے جہاں ویزا درخواستوں کو بہت تیزی سے آگے بڑھایا جاتا ہے اگر آپ کو سفری پابندی سے استثنیٰ کی منظوری  مل جاتی ہے۔

Electronic Travel Authority (Subclass 601) الیکٹرونک ٹریول اٹھارٹی

 مندرجہ ذیل ممالک کے شہری الیکٹرانک ٹریول اتھارٹی یا ای ٹی اے پر ویزہ درخواست دے سکتے ہیں۔

کے لیے درخواست دے سکتے ہیں: برونائی، کینیڈا، ہانگ کانگ چین، جاپان، ملائیشیا، سنگاپور، جنوبی کوریا اور امریکہ۔

قیام کی مدت: تین ماہ تک
پروسیسنگ کا وقت: غیر مصدقہ
فیس: $20
جبکہ محکمہ داخلہ کی ویب سائٹ ای ٹی اے کے لیے پروسیسنگ کے وقت کی فہرست نہیں دیتی، محترمہ باگیانو کہتی ہیں: "حکومت نے ایک آزمائشی ایپ جاری کی ہے، جسے آسٹریلیائی ای ٹی اے ایپ کہا جاتا ہے۔ جب تک آپ کے پاس ایک اسمارٹ فون یا اسمارٹ ڈیوائس ہے جس میں کیمرہ ہے اور آپ کا اصل پاسپورٹ ہاتھ میں ہے، آپ اس ایپ کو استعمال کرکے ای ٹی اے کے لیے درخواست دے سکتے ہیں اور زیادہ تر فیصلے درحقیقت ایک یا دو دن میں ہونے والے ہیں، جو کہ واقعی تیز پروسیسنگ"

Visitor Visa (subclass 600):  ویزیٹر ویزہ سب کلاس 600

پاکستان اور بھارت سمیت تمام ممالک کے شہری (بشمول اوپر بیان دئے گئے) اس ویزا کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔

قیام کی مدت: 12 ماہ تک
پروسیسنگ کا وقت: آٹھ سے 20 ماہ۔
فیس: $145

"یہ معیاری وزیٹر ویزا ہے جو تمام قومیتوں کے لیے کھلا ہے،"

آپ پوچھ سکتے ہیں، 'اچھا، اگر میں امریکی شہری ہوں، تو میں وزیٹر ویزا (سب کلاس 600) کی درخواست کیوں دوں؟' اس کی بنیادی وجہ ان وزیٹر ویزوں پر دی جانے والی مدت ہے۔ محکمہ داخلہ کی صوابدید پر آپ کو 12 ماہ تک کا ویزا دیا جا سکتا ہے، [جس کا مطلب ہے کہ] مسافر آسٹریلیا میں داخل ہو سکتے ہیں اور اس پورے وقت تک ملک میں رہ سکتے ہیں۔

پروسیسنگ کا وقت بہت لمبا ہے لیکن جیسا کہ مائیگریشن ایجنٹ نے بتایا  کہ  اس قسم کے پروسیسنگ ٹائم  کو کم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ وزیٹر ویزا لگوانے کے فوراً بعد سفری پابندی سے استثنیٰ کی درخواست دے دی جائے۔"

والدین کو سفری استثنیٰ کے لیے درخواست کیسے دینی چاہیے؟

آسٹریلوی شہریوں اور مستقل رہائشیوں کے بیرون ملک مقیم والدین سفری استثنیٰ کے لیے درخواست دینے کے لیے محکمہ داخلہ کے سفری استثنیٰ پورٹل پر جا سکتے ہیں۔

آسٹریلوی شہری اور مستقل رہائشی دوسرے شخص کی جانب سے سفری استثنیٰ کی درخواست بھی کر سکتے ہیں۔

درخواست دینے والے شخص کو ایک آن لائن اکاؤنٹ بنانے اور سائن ان کرنے کی ضرورت ہوگی۔ ایک بار لاگ ان  ہونے کے بعد، فارم کو پُر کریں، جو  کافی آسان ہے اور اس میں درج دستاویزات کی رنگین، اسکین شدہ کاپیاں منسلک کریں

A. آسٹریلیائی شہری یا مستقل رہائشی کی شناخت، جیسے پاسپورٹ، پیدائشی سرٹیفکیٹ، شہریت کا سرٹیفکیٹ اور ویزا۔
B. آسٹریلوی شہری یا مستقل رہائشی کے والدین کی شناخت، جیسے پاسپورٹ، پیدائشی سرٹیفکیٹ اور شہریت کا سرٹیفکیٹ۔
C. درخواست دہندہ اور آسٹریلوی شہری یا مستقل رہائشی کے درمیان تعلق، جیسے برتھ سرٹیفکیٹ اور فیملی بکلیٹس۔

Dغیر ملکی شہری کی ویکسینیشن کی حیثیت۔ آسٹریلیائی حکومت کی طرف سے فی الحال صرف چار ویکسین کو تسلیم کیا گیا ہے (نیچے دی گئی فہرست دیکھیں)۔

لیکن پورٹل میں تمام دستاویزات کو منسلک کرنے سے پہلے، محترمہ کہتی ہیں، فائلوں کا نام تبدیل کرنا نہ بھولیں، کہیں، "پاسپورٹ" یا "برتھ سرٹیفکیٹ" تاکہ دوسرے سرے پر آسٹریلوی بارڈر فورس کی ٹیم اس پر کارروائی کرے۔ 

آپ کیس آفیسر کے لیے اپنی درخواست اور منسلک دستاویزات جتنی واضح کر سکتے ہیں، اتنا ہی بہتر ہے۔  جس کے باعث  استثنیٰ یا ویزا کی درخواست کی پروسیسنگ   تیز ہو سکتی ہے۔ آسٹریلین حکومت نے اِن  ویکسین کی منظوری دی ہے آسٹریلیا آنے والے افراد نے اگر یہ ویکسینز لگوائی ہونگی تو انہیں ملک میں داخلے کی اجازت ہو گی۔ 

یکم نومبر سے آسٹریلیا کے ادویات کی منظوری کے ادارے ٹی جی اے نے دو اور ویکسین منظور کی ہیں ۔ ان میں چین میں بننے والی 

BBIBP-CorV (Sinopharm)

اور بھارت میں بننے والی

 Covaxin (Bharat Biotech) 

ویکسینز شامل ہیں اور اب یہ دونوں ویکسین لگوانے والے افراد بھی ویکسینیٹڈ تسلیم کئے جائیں گے۔ 

  کردہ  ویکسین کی حیثیت قائم کرنے کے مقصد کے لیے 'تسلیم شدہ' کیا جائے گا۔ یہ شناخت 12 سال اور اس سے زیادہ عمر کے مسافروں کے لیے ہے جنہیں ویکسین لگائی گئی ہے۔

 Pfizer، Moderna، AstraZeneca، اور Johnson and Johnson

کئی تارکین وطن اپنے والدین کو آسٹریلین منظور شدہ ویکسین لگوانے کے منتظر
00:00 00:00

اگر مجھے زبان کی مدد کی ضرورت ہو تو کیا ہوگا؟
آپ جو دستاویزات اَپ لوڈ کر رہے ہیں اگر وہ انگریزی میں  نہیں ہیں، تو انہیں حکومتی ترجمے کے قومی ادارے ناٹی کے منظور شدہ مترجم سے ترجمہ کروانا بہتر ہے۔گرچہ مسافر اپنے آبائی ملک میں مصدقہ مترجم استعمال کر سکتے ہیں، ہمیں معلوم ہوا ہے کہ آسٹریلیا میں مقیم  منظور شدہ مترجم کا استعمال کرنا بہترین طریقہ ہے،جس کے باعث محکمہ داخلہ کے کیس کے افسران کو یقین دلایا جا سکتا ہے کہ ترجمہ  درست ہے۔ 

یہ سب  ویب سائٹ کے ذریعے ڈیجیٹل طور پر کیا جا سکتا ہے۔ ایک بار جب آپ کو ایک تسلیم شدہ مترجم مل جاتا ہے تو آپ کو انگریزی میں  ترجمہ شدہ  دستاویزات کی رنگین، اسکین شدہ کاپیاں شئیر کرنا ہوں گی ۔ بعد میں  وہ ترجمہ شدہ ورژن آپ کو واپس بھیج دئے جایئں گے۔

والدین کب آ سکتے ہیں؟
یہ ہدایت کی جاتی ہے کہ غیر ملکی شہری پروازوں کی بکنگ کرنے سے پہلے اپنا ویزا اور سفری استثنیٰ منظور کر والیں۔

 حکومت کی اعلان شدہ تاریخوں کے لحاظ سے والدین آسٹریلیا آ سکتے ہیں، "اس وقت، یہ واقعی ہر ریاست اور علاقے پر منحصر ہے، کیونکہ کئی ریاستوں میں  قرنطینہ کی  مختلف ضروریات ہیں۔

وکٹوریہ اور نیو ساؤتھ ویلز آنے والے  بین الاقوامی مسافروں کے لیے یکم نومبر سے پابندیوں میں نرمی کردی گئی ہے

 نیو ساؤتھ ویلز اور وکٹوریہ اس وقت مکمل طور پر ویکسین شدہ مسافروں کو ہوٹل قرنطینہ کے بغیر آسٹریلیا میں داخل ہونے کی اجازت ہے۔ جہاں تک دوسری ریاستوں اور علاقوں کا تعلق ہے، وہ اب بھی اپنے روڈ میپ کےمطابق کام کر رہے ہیں۔

 آسٹریلین حکومت کی طرف سے حال ہی میں والدین کو دئے گئے سفری استثنیٰ اور والدین کو خاندان کا رکن سمجھے جانے کی تبدیل شدہ پالیسی کے باعث اب والدین کو آسٹریلیا بلانے میں حائیل بڑی رکاوٹیں دور ہو گئی ہیں 

وزیر داخلہ کیرن اینڈریوز نے کہا کہ تبدیلیاں وبائی امراض باعث الگ ہونے والے بہت سے خاندانوں کو دوبارہ جوڑیں گی۔ 

آسٹریلین خاندان اپنی خوشیوں غم کے دوران   اپنے والدین سے ملنے سے محروم ہیں۔ شادیوں ، جنازوں ، پوتے پوتیوں کی پیدائش اور کاندان کی زندگی میں آنے والے  دیگر اہم مواقع پر والدین کی غیر موجودگی  خاندانوں کو رنجیدہ کردیتی ہے۔۔ وزیرِ داخلہ نے  ان خاندانوں کے صبر اور اس عرصے میں ان کی قربانیوں کا شکریہ ادا کیا۔ 

س اعلان کے بعد اب ، آسٹریلوی شہریوں اور مستقل رہائشیوں کے والدین آسٹریلیا آ کر ان سے  دوبارہ مل سکیں گے۔ وہ ایک بار پھر اپنے پوتے پوتیوں کے ساتھ بوقت گزار سکیں گے۔ اور ذاتی طور پر آکر اہپنی اولادوں اور اولاد وں کے بچوں کی کی  خوشیوں میں شریک ہو سکیں گے۔ 

والدین کو آنے کی اجازت  دئے جانے کے باعث لاکھوں آسٹریلوی باشندوں نے درخواست دینے کی تیاریاں شروع کردیں ہیں  اور جن والدین کو ویکسین نہیں لگی ہے انہوں نے  آسٹریلیا کی منظور شدہ ویکسین یا تو کگوا لی ہیں یا لگوانے کی تیاری شروع کردی ہے۔۔ آسٹریلیا کے قومی منصوبے کے مطابق ، یہاں  آنے والے کے لئے  عنقریب سفری پابندیوں میں مزید نرمی کی جائے گی  کیونکہ آسٹریلیا میں ویکسینیشن کی شرح مسلسل بڑھ رہی ہے۔ 

یکم نومبر 2021 سے آسٹریلیا کے سفر کے لیے محکمہ داخلہ کی  ٹریول ایگزیمشن  پورٹل کے ذریعے سفری اتثنیٰ کے لیے درخواستیں دی جا سکتی ہیں۔ والدین کی  مختلف کیٹیگریز میں سگے اور سوتیلے والدین کے علاوہ گود لینے والے والدین ، ​​والدین بھی شامل ہیں۔ وزیر داخلہ کیرن کا کہنا ہے کہ یہ سب کے لئے ایک اچھی خبر ہے  

آسٹریلوی شہریاورمستقل رہائشی افراد سےوالدین کے تعلق کا ثبوت درکارہوں گے جس کی مثالیں ہوم افئیرز کی ویب سائٹ پر دستیاب ہیں۔ والدین کے پاس آسٹریلیا کے سفر کے لیے ایک درست پاسپورٹ ، ویزا اور ویکسینیشن کا ثبوت بھی ہونا چاہیے۔ 

تمام بین الاقوامی مسافر ریاستی اور علاقائی قرنطینیہ قوانین کے مطابق عمل کرنے کے پابند ہوں گے۔ 

اس سے پہلے حکومت نے    بیرون ملک پھنسے والدین کو فیملی کا حصہ یا امیجییٹ فیملی کی کٹیگری میں شامل کرنے کا اعلان کیا تھا۔  

مارچ 2020 میں آسٹریلیا کی بین الاقوامی سرحدیں بند ہو نے کے بعد سے صرف خاندان کے قریبی افراد ہی ملنے کے لیے چھوٹ حاصل کر سکتے تھے جن میں والدین شال نہیں تھے  مگر اب والدین بھی خاندان کا حصہ سمجھے جائیں گے۔ اور ان کو بھی آسٹریلین شہریوں اور پی آر رکھنے والوں سے ملنے کے لئے استثنیٰ ملنے پر  آسٹریلیا آنے کی اجازت ہو گی۔؎ 

غیر ملکی ویکسینیشن سرٹیفکیٹ کے بارے میں رہنمائی 

چونکہ آسٹریلیا کی سرحد 1 نومبر 2021 سے بتدریج دوبارہ کھل رہی ہے،اس لئے ملک میں داخلے کے مزید سازگار قوانین کچھ آنے والے مسافروں پر لاگو ہو سکتے ہیں جو یہ ثابت کر سکتے ہیں کہ وہ مکمل طور پر ویکسینیٹڈ ہیں یعنی انہوں نے منظور شدہ ویکسین کی دو خاراکیں لگوا لی ہیں۔ ۔ ان انتظامات سےفائیدہ اٹھانے والوں کے لیے  آسٹریلیا میں لگوائی گئی کی ویکسین لگوا کرآسٹریلیا پہنچنے والے مسافروں کو  ویکسین کا سرٹیفکیٹ پیش کرنا ہوگا۔ دوسرے ممالک میں  مندرجہ ذیل انِ معیارات کو پورا کرنے والے فارمیٹس میں سرٹیفکیٹ پیش کر نا ہوگا۔ 

  •  اپنے ملک کے قومی ، صوبائی یا ریاستی سطح کی اتھارٹی یا سرکاری منظور شدہ ویکسینیشن فراہم کنندہ کا جاری کیا گیا 
  • انگریزی میں لکھا سرٹیفیکٹ یا سرٹیفکٹ کا مصدقہ ترجمہ درکار ہو گا۔ 
  •  سرٹیفیکٹ پر پاسپورٹ والا مکمل نام ۔ 
  • تاریخ پیدائش ، پاسپورٹ نمبر 
  • ویکسین برانڈ کا نام ، اور 
  • ہر خوراک کی تاریخ یا وہ تاریخ جس پر حفاظتی ٹیکوں کا مکمل کورس مکمل کیا گیا تھا۔ 
  • کاغذی اور ڈیجیٹل سرٹیفکیٹ یکساں طور پر قابل قبول ہونگے۔ 

کسی مسافر کے لیے مکمل طور پر ویکسین کے لیے کوالیفائی کرنے کے لیے ، سرٹیفکیٹ میں آسٹریلیا کے تھراپیٹک گڈز سے منظور شدہ یا تسلیم شدہ ویکسین کا نام ہونا ضروری ہے۔آسٹریلیا میں موجودہ  ٹی جی اے کی منظور شدہ ویکسین کی کی فہرست میںیہ ویکسین شامل ہیں:: 

کم از کم 14 دن کے وقفے سے لگنے والی دو خوراکیں 

  • AstraZeneca Vaxzevria 
  • آسٹرا زینیکا کوشیلڈ۔ 
  • Pfizer/Biontech Comirnaty 
  • Moderna Spikevax 
  • سینوویک کوروناویک۔ 
  • یا جانسن سیلاگ کوویڈ ویکسین کی ایک خوراک 

کسی مسافر کو اس وقت تک مکمل طور پرویکسینیٹڈ نہیں مانا جائے گا جب تک ویکسین کی آخری خوراک لگے سات دن نہ گزر چکے  ہوں۔  



 

Source SBS News
This story is also available in other languages.