ابھی آنے والا ہے Wed 6:00 PM  AEST
ابھی آنے والا ہے شروع ہوگا 
Live
Urdu radio

خود مختاری ، معاہدہ ، پہچان : 26 جنوری انڈیجنس آسٹریلینز کے لئے ایک تکلیف دہ تاریخ کیوں ہے ؟

Watu washiriki katika maandamano ya "siku ya uvamizi" kwenye siku kuu ya Australia mjini Melbourne 26 January, 2018. Source: Getty

ہر سال 26 جنوری کو آسٹریلیا میں برطانوی نو آبادیات کے آغاز کے طور پر منایا جاتا ہے ،برطانوی نو آبادیات کے آغاز کو آسٹریلیا ڈے کہنا متنازعہ ہے ، سال 1938 سے ایب اوریجنل اور ٹوریس استریٹ آئی لینڈرز 28 جنوری کویوم سوگ کے طور پر مناتے رہے ہیں اور حالیہ دنوں میں یہ دن "حملے کا دن" یا "یوم بقا" تصور کیا جاتا ہے ۔

انفرادی طور پر یا گرہوں کی جانب سے 26 جنوری کی تشریح مختلف انداز میں پیش کئے جانے کی اصل بنیاد خود مختاری کا تصور ہے ، جس کا مطلب یہ ہے کہ انڈیجنس آسٹریلین باشندوں کا ان کی زمین ، تعلیم ، قوانین ،پالیسیوں اور صحت وغیرہ پر موروثی دائرہ دائرہ اختیار جو یوورپی آمد سے قبل موجود تھا اور اسے کبھی نہیں دیکھا گیا۔

ٹوریس اسٹریٹ آئی لینڈرز اور ایب اوریجنل افراد کے حقوق کی بحث میں بنیادی طور پر خودمختاری کے تصور سے متعلق اتفاق رائے موجود ہے ، تاہم انڈیجنس گروہوں کے درمیان اس بات پر مختلف آراء ہیں کہ خود مختاری کو کیسے تسلیم کیاجائے ۔

یہ تسلیم ، معاہدہ ، آواز اور سچائی کےبارے میں آسٹریلیا میں عوامی بحث کا نقطہ آغاز ہے ، ان متنوع خیالات نے انڈیجنس کو تسلیم کئے جانےکے مختلف ماڈلز کو تشکیل کیا ہے ، جن پر آسٹریلیا میں بحث ہو رہی ہے ۔

Australians Celebrate Australia Day As Debate Continues Over Changing The Date
Australians Celebrate Australia Day As Debate Continues Over Changing The Date
Getty Images


0:00

ہے ۔

پہچان

شناخت کے مجوزہ طریقوں میں سے ایک انڈیجنس افراد کو تسلیم کرنے کے لئے آسٹریلیا کے آئین میں تبدیلی کرنا ہے ۔آئینی تبدیلی کے لئ سال 2020 میں کئے گئے کام ماہرین ، سینٹ انکوئرئ،آئینی کمیشنوں ، ریفرنڈم کاونسل کی جانب سے 1980 کی دہائی سے اب تک مرتب کی گئی سفارشات اور رپورٹوں کی  طویل فہرست پر منحصر ہے  ۔  

ان مباحثوں  سب سے زیادہ معروف ماڈلز میں سر فہرست  "اولورو دل سے بیانیہ "ہے ، جسے ایب اوریجنل اورٹوریس استریٹ آئی لینڈر کمیونٹی کے نمائندوں کے ساتھ ملک بھر میں 13، تین روزہ مکالموں کے اختتام کے طور پر بیان کیا گیا۔

الورو بیانیہ کے لئے عوامی آگاہی مہم " فرام دی ہارٹ" کے ڈائیریکٹر ڈین پارکن کا کہن اہے کہ وہ پارلیمان میں آواز  اٹھانے کے لئے عوامی حمایت پیدا کرنے کے لئے کام کر رہے ہیں۔

" ہمارا مینڈیٹ سو فیصد الورو بیانیہ ہے لہذا آواز کے معاہدے کی سچائی ایجنڈے کا اہم حصہ ہے اور جیسا کہ میں نے کہا پارلیمان میں ایسی آواز کا خیال جوایب اوریجنل اور  ٹوریس استریٹ آئی لینڈر لگوں کی بات کرے اور ان کی نمائندہ ہو ، پارلیمان اور آسٹریلوی جمہورت کی با ت کرے اور اسے آستریلین آئین کا تحفظ حاصل ہے ، اس لئےاسے ماضی کے اداروں کی طرح ختم نہیں کیا جا سکتا ۔

Minister for Indigenous Australians Ken Wyatt speaks to the media during a press conference at Parliament House in Canberra, Tuesday, August 17, 2021.
Minister for Indigenous Australians Ken Wyatt speaks to the media during a press conference at Parliament House in Canberra, Tuesday, August 17, 2021.
AAP Image/Lukas Coch

 

آواز

آئین میں آسٹریلین انڈیجنس افراد کو تسلیم کرنے کا مقصد  انہیں ایک آواز دینا تھا ، جو انہیں انکی کمیونٹی سے متعلق معاملات پر اثر انداز ہونے کے قابل بنائے گی ۔

لیکن کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ "آواز" کو نمائندہ ادارہ بنا کر حاصل کیا جا سکتا ہے ، جو "وائس ٹو پارلیمنٹ " کے بجائے "وائس ٹو گورنمنٹ " بن جائے ، جیسا کہ انڈیجنس آسٹریلینز کے وزیر کین وائٹ نے تجویز کیا تھا ۔

درحقیقت آپ پارلیمان میں آواز اٹھا سکتے ہیں لیکن حکومت کے لئے آواز اسی سیاسی جماعت کی ہوگی جس کی حکومت ہے ، یہی لوگ ہیں جن کے ہاتھ میں فیصلے کی ڈور ہے ، وہی لوگ پالیسیاں وضع کرتے ہیں اور وہی لوگ قانون سازی کرتے ہیں ۔

جناب وائٹ کاکہنا ہے کہ " تو آپ کو کس پراثر انداز ہونا ہے ،پارلیمان میں آواز ،حکومت تک آواز کا زریعہ ہے "

ل

Lidia Thorpe
Senator Lidia Thorpe during a smoking ceremony at the Aboriginal Tent Embassy at Parliament House in Canberra.
Getty Images

 

لیکن بینڈجالونگ اورکنگارا کن کی خاتون ،ڈینی لاراکن کے لئے ، جناب وائٹ کی جانب سے ایک ادارے کو آئین میں شامل کرنے کے بجائے قانون سازی کی تجویز ایک "بدقسمتی " اور "مایوس کن " نتیجہ ہوگا۔

وہ کہتی ہیں " پارلیمان میں "وائس " کو ریفرنڈم تک پہچانے سے بہت حمایت حاصل ہوئی ہے تاکہ اسے ختم ہونے یا یک جنبش قلم چھین لئے جانے سے محفوظ رکھا جائے ، میرے خیال میں یہ  اس پر کام کرنے والے لوگوں کے لئے ایک مایوس کن اور بد قسمت نتیجہ ہے، خاص طور پر بزرگوں کے لئے ۔

معاہدہ

ایک اور بڑے پیمانے پر زیر بحث تصور "معاہدہ" ہے ، جس کا مطلب ہے کہ حکومت اورانڈیجنس افراد کے درمیان ایک با ضابطہ معاہدہ ، جو برطانوی قبضے سے قبل ایب اوریجنل اور ٹوریس اسٹریٹ آئی لینڈرز کے وجود  کو تسلیم کرتا ہے اور اس کے بعد اولین اقوام کے لوگوں کے خلاف قبضے اور زمین پر قبضے کو تسلیم کرتا ہے ۔ بہت سے لوگوں کے نزدیک ،ایک قومی معاہدہ یاعلاقائی سطح پر مبنی معاہدے (پارلیمان کی آواز کے بجائے ) پہلا ہدف ہونا چاہئیں کیونکہ اس کا مطلب خود مختاری کو تسلیم کرتے ہوئے مصالحت اورسچ بولنے کا آغآز ہے جیسا کہ نیوزی لینڈ، امریکہ اور کینڈا نے اولین اقووام کے ساتھ کیا ۔

یہی وجہ ہے کہ انڈیجنس آسٹریلینز کے ایک گروہ نے سال 2017 میں الورو سربراہی اجلاس سے واک آوٹ کیا ، ان میں وکٹورین مندوب اور گننائی اور گنڈجمارا کی خاتون لیڈیا تھروپ بھی شامل ہیں جو اب وکٹورین سینٹر ہیں اور آسٹریلین گرینز کی نمائندگی کرتی ہیں ۔

ان کا ماننا ہے کہ اب بھی ہر قوم یا قبیلے کے لئے جامع مشاورتی عمل کی ضرورت ہے ۔

" وہ کیا چاہتے ہیں اور انہیں کس چیز کی ضرورت ہے اس بات کا تعین کرنا ان کا حق ہے  ، میں سمجھتی ہوں کہ ہمیں اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ ہم لوگوں کے ساتھ ناعزت اندازمیں گفتگو کریں اور سب لوگوں کو میز پر آنے کی دعوت دیں نہ کہ چند افراد کو مدعو کرنا ، یہ ایک تالہ لگانے والا عمل ہے ہمارے نچلی سطح کے بہت سے لوگ ( اس گفتگو سے )باہر ہیں "، محترمہ تھروپ ۔

جب خود مختاری کی بات آتی ہے ، نچلی سطح پر ہونے والی سرگرمیاں عرصہ دراز سے ایب اوریجنل اور ٹوریس استریٹ آئی لینڈرز کی زندگیاں بہتر بنانے کے پیچھے ایک محرک قوت رہی ہے ۔

کچھ ایب اوریجنل اور ٹوریس استریٹ آئی لینڈر نجوانوں کے گروہ معاہدے کے تصور کو ترجیح دیتے ہیں اور ریفرنڈم یا آئینی طور پر تسلیم کئے جانے کے خیال کو رد کرتے ہیں کیونکہ اس کا مطلب ہے کہ وہ اس نو آبادیاتی ڈھانچے کے ساتھ مشغول ہوں جس کے خلاف وہ مزاحمت کرتے آئے ہیں ۔ ان کے خیال میں نو آبادیاتی دائرہ اختیا رانڈیجنس افراد کی خود مختاری اور حق خود ارادیت سے ٹکراتا ہے ۔


Protest against Australia Day in Melbourne
Indigenous activists and supporters protesting in Melbourne on 26 January 2019.
Getty Images

 

نوجوانوں کے یہ گروہ انٹرنیٹ اور سماجی ویب سائٹس کے ذریعے سیاسی منظرنامے کو تشکیل دے رہے ہیں ساتھ ہی تبدیلی کے مطالبے کے لئے متحرک اور مربوط انداز مٰن سڑکوں پر اہم احتجاجی مظاہرے بھی کر رہے ہیں ۔

یہ آئینی تسلیم کے خلاف فرنٹ لائن پر ایب اوریجنل مزاحمت کے جنگجو ہیں جنہیں "وار" بھی کہا جاتا ہے

گروہ میں گلوماری ، کوما اور ماوری کے بوئے اسپیرئیم کا کہنا ہے کہ "وار" نے ہمیشہ اس اوپر سے نیچے کے نقطہ نظر کی مخالفت کی ہے ۔

میرا خیال ہے کہ یہ کمیونٹی سے مکالمے کا طریقہ تھا اور میرے خیال میں یہ ضروری نہیں کہ یہ صحیح طریقوں سے چل رہا ہو ، یہ وہ چیز نہیں تھی جس کی ہم تلاش میں تھے یا جس کی ہم بات کرنا چاہتے تھے ، معاہدہ ہمیشہ بورڈ پر ہوتو تھا اور ہمیشہ بحث کا حصہ ہوتا تھا ۔

"وار" کا سرکاری مقصد نوآبادیاتی ڈھانچے کے ساتھ مشغل نہ ہونا ہے ، لیکن جناب بوئے خود ارادیت کے جوہر کو سمجھتے ہیں جس سے ایب اوریجنل اور ٹوریس استریٹ آئی لینڈرز کو اپنے فیصلے خود کرنے کی اجازت ملتی ہے ۔

یہاں ایک بحث یہ بھی ہے کہ پہچان کے معاملے میں کامیابی کیسی نظر آتی ہے ۔

فعال سماجی رکن ، وکیل اورایب اوریجنل لینڈ کونسل آف تسمانیہ کے سربراہ پالوا کے مایئکل مینسل کا خیال ہے کہ ایب اوریجنل افراد کے پاس علامتی اور بامعنی پہچان کے درمیان انتخاب کا اختیار ہے ۔

ان کا کہنا ہے کہ علامتی شناخت یہ ہے کہ کیون رڈ نے سال 2007 میں "اسٹولن جنریشنز" سے معافی طلب کی تھی ۔

جناب منسل بتاتے ہیں کہ وہ کس طرح ایب اوریجنل باشندوں کی شناخت حاصل کرہں گے

اگر کوئی معاہدہ وفاقی پارلیمان میں پیش کیا جائے  تو یہ کوئی پیچیدہ عمل نہیں ہے ، وفاقی پارلیمان ایک قابل بھروسہ قومی نمائندہ ایب اریجنل باڈ ی کے قیام کی قانون سازی کے لئے تعینات کرے ، یہ ادارہ واسئل کی تقسیم کے لئ ترجیحآت کا تعین کرے گا تاکہ ایب اوریجنل کمیونٹیز کی بہتری ہو ۔

دوسرے میں وفاقی پارلیمان کو ایک  معاہدہ کمیشن کے لئے قانون سازی کا کہوں گا،،یہ ٹریٹی کمیشن معاہدے کا مسودہ تیار کرے ، انہوں نے مزید بتایا کہ " میں سمجھتا ہوں ان دو چیزوں کے ساتھ انڈیجنس افراد کی زندگیوں میں حقیقی فرق آئے گا "


Scenes In The Winter Light Of Australia
The red rock face of Uluru at sun set, the sacred home for thousands of years of the Yankunytjatjara and Pitjantjatjara people in the central Australian desert.
Getty Images AsiaPac

وفاقی حکومت نے سینئر، قومی ، علاقائی اورمقامی سطحوں پر کام کرنےوالے قبائلی لوگوں  کے لئے  وائس  کو مشترکہ طور پرڈئزائن کرنے  کے لئے تین مشاورتی اداروں کو یکجا کیا ہے ۔

کنگاراکن اور ایوڈجا کے پروفیسر ٹام کلما وفاقی حکومت کے "وائس کو-ڈیزائن ایڈوائزری گروپ" کے شریک سربراہ ہیں

وہ واضح کرتے ہیں کہ ان کا کام حکومت کو متعدد مختلف ماڈلزپیشکرنا ہے ، جو اس بات کا تعین کرے گی کہ "وائس " کیا شکل اختیا ر کرے گی ۔

ہم نے ٹریٹی باڈیز کی تشکیل کردی ہے ، لیکن ہماری مشق معاہدوں کو دیکھنے سے متعلق نہیں ہے ، بہت واضح طور پر یہ پارلیمان میں آوواز اٹھانے کے بارے میں ہے ۔

وفاقی حکومت کامنصوبہ یہ ہے کہ رپورٹ کو حتمی شکل دینے کے بعد رپورٹ پر کابینہ کے ذریعے غور کیا جائے ،اسے مشاورت کے لئے پیش کیا جائے اور پھر قانون سازی کی جائے ۔ یہ سب اگلے انتخابات سے پہلے ہو ۔

ان گروہوں کے لئے جواپنے تعاون یافتہ ماڈل پر سمجھوتے کے لئے تیار نہیں ہیں ، پروفیسر کالما کا ہنا ہے کہ ایب اوریجنل افراد کو اپنے سامنے موجود موقع سے فائدہ اٹھانے کی ضروورت ہے ۔

میرے خیال میں ، ہمیں ابھی یہاں یہ دیکھنا ہے کہ اس وقت ہم کیا حاصل کر سکتے ہیں ؟ایب اوریجنل اور ٹوریس استریٹ آئی لینڈرز کے طوور پر اپنی سالمیت پر سمجھوتے کے بغیر ہمیں کیا حاصل ہو سکتا ہے ؟

ہمارے پاس ایک ایسا وزیر اعظم ہے جو انڈجنس امور کے وزیر کی حمایت کرتا ہے ، جو حکومت تک اپنی آواز اور پارلیمان میں آواز پہنچانا چاہتا ہے  سو ہمیں اس پر قبضہ کرنے کی ضرورت ہے اور جب تک ہم کر سکتے ہیں ہمیں اس موقع سے فائدہ اٹھانے کی ضررت ہے

ایب اوریجنل اور ٹوریس اسٹریٹ آئی لینڈز کے باشندوں کی ترقی کے لئے اس وقت سے جدوجہد کی جارہی ہے جب یورپی  باشندے ایب اوریجنل ساحلوں پر اترے ۔

شناخت کے مختلف ماڈلز کے درمیان فیصلہ کرتے ہوئے ایب اوریجنل اور ٹوریس اسٹریٹ کمیونٹیز آسٹریلوی تاریخ کے ایک ایسے وقت میں بامعنی پہچان کے لئے متقف ہوئی ہیں جب حکومت نے "شناخت" اور وائس وک ایجنڈے پر رکھا ہوا ہے ۔

This story is also available in other languages.