عالیہ جاوید رحمانی نے کہا بطور فیمیل فٹبالر کھیل کے میدان میں چیلنجز کا سامنا رہا،تاہم فیملی سپورٹ اور خود اعتمادی نے انہیں کامیابی دلائی۔ انہوں نے نادیہ ندیم کو اپنی آل ٹائم فیورٹ فٹبالر قرار دیتے ہوئے کہا کہ نادیہ ندیم نے افغانی مہاجر کیمپ سے اٹھ کر دنیا بھر میں فٹبال کے میدان میں اپنا نام روشن کیا- عالیہ کو بچپن میں دمہ کی الرجی کا سامنا کرنا پڑا لیکن اُس کے باوجود وہ لڑی اور کامیابیاں سمیٹی,عالیہ کی والدہ عمارہ رحمانی -
سڈنی کی رہائشی آسٹریلیا کی ابھرتی ہوئی فٹبالر عالیہ جاوید رحمانی نے اپنے کھیل کے سفر، کامیابیوں اور مستقبل کے اہداف پر ایس بی ایس اردو سے گفتگو کی۔ عالیہ نے بتایا کہ فٹبال ان کے لیے صرف ایک کھیل نہیں بلکہ ایک جذبہ ہے، اور وہ محنت، مستقل مزاجی اور خاندانی حمایت کو اپنی کامیابیوں کا اہم سبب سمجھتی ہیں۔
عالیہ کی والدہ عمارہ رحمانی نے بتایا کہ بچپن میں عالیہ بہت متحرک اور توانائی سے بھرپور تھیں، جس کے باعث انہیں فٹبال کلب میں داخل کروایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پورے خاندان نے عالیہ کے خوابوں کی تکمیل کے لیے بھرپور ساتھ دیا، ہر میچ میں ان کی حوصلہ افزائی کی اور جہاں بھی ضرورت پڑی ان کی مدد کی۔ ان کے بقول، عالیہ کی کامیابیاں خاندان کے لیے باعثِ فخر ہیں۔ ۔انہوں نے مزید کہا کہ عانہوں نے خود کو ایک فخر کرنے والی آسٹریلین پاکستانی قرار دیتے ہوئے والدین کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے بچوں کی صلاحیتوں پر اعتماد کریں، انہیں بھرپور سپورٹ فراہم کریں اور آسٹریلیا میں دستیاب مواقع سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے میں ان کی رہنمائی کریں۔

عالیہ کے کوچ خالد زاران نے بھی ان کی صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ ایک غیر معمولی ٹیلنٹ کی حامل کھلاڑی ہیں، جو اپنی محنت، نظم و ضبط اور کھیل سے وابستگی کے باعث نمایاں مقام حاصل کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق عالیہ کی کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ لگن اور مسلسل محنت انسان کو اپنے اہداف تک پہنچا سکتی ہے۔





