ابھی آنے والا ہے Sun 6:00 PM  AEST
ابھی آنے والا ہے شروع ہوگا 
Live
Urdu radio

ویزا اور ثقافتی رکاوٹیں جن کے باعث امیگرینٹ خواتین پر تشدد رشتوں میں بندھی ہیں

Anti-family violence advocates are calling for criminalising coercive control in Australia. Source: Getty Images/ Xia Yuan

گھریلو تشدد کے خلاف، حمایت کرنے والوں (ایڈوکیٹ) کا مطالبہ ہے کہ جبری اختیار کو مجرمانہ قرار دیا جائے اور عارضی ویزوں پر موجود گھریلو تشدد کا شکار افراد کو مستقل سکونت فراہم کرنے کے لئے امیگریشن قوانین کی خصوصی دفعات میں توسیع کی جائے ۔


پوشیدہ بد سلوکی

محقق صحافی جیس ہل جنہوں نے چار سال آسٹریلیا میں گھریلو تشدد کے بحران پر تحقیق اور اپنی کتاب "سی واٹ یو میڈ می ڈو " لکھنے میں صرف کئے ، جواب ایس بی ایس کی دستاویزی سیریز میں شامل ہے ۔

وہ کہتی ہیں کہ ، جبری کنٹرول کی تہذیب یافتہ فطرت اکثر اسے دوسروں کے لئے پوشیدہ بناتی ہے ۔


 

اہم نکات

ایک حالیہ تحقیق کے مطابق ایسے افراد جو عارضی ویزہ پر ہیں اور گھریلو تشدد کا شکار ہیں،  ان کے کفیلوں نے انہیں ، ملک بدری کے حوالے سے دھمکایا ہے

خانگی تشدد کے مخالفین وکلاء کا مطالبہ ہے کہ امیگریشن قوانین میں خصوصی عائلی تشدد کی دفعہ میں توسیع کر کے عارضی ویزہ رکھنے والوں کا احاطہ کیا جائے ۔

وکلاء کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ آسٹریلیا کے اندر تمام دائراختیارات میں جبری تسلط کو مجرمانہ قرار دیاجائے ۔


0:00
 

وہ وضاحت کرتی ہیں کہ جبری تسلط کی عمومی علامات میں شامل ہے :

مالی کنٹرول

متاثرہ شخص کو خاندان اور دوستوں سے الگ کرنا

ان کے لئے دوسروں سے ملاقات مشکل بنانا

ان کو، پالتو جانوروں یا بچوں کو نقصان پہنچانے کی دھمکی دینا

تسلط سے بچ جانے والے شخص کی مستقل تذلیل یا اس کو گرانا

اس طرح کا برتاؤ مستقبل میں تشدد کے لئے سرخ فیتے جیسی علامت نہیں ، بلکہ یہ ہی تشدد ہے

 ان ٹچ ملٹی کلچرل سینٹر کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق 92 فیصد خاندانی تشدد کے مرتکب  افراد تسلط پر مبنی رویہ اپناتے ہیں ۔

Hispanic female young adult gesturing stop and social distancing
Many victims of family violence on temporary visas remain trapped in abusive relationship for fear of deportation.
iStockphoto

 

ثقافتی صورتحال

میلبرن کی رہائشی ایل سماجی کارکن ، انو کرشنن کا کہنا ہے کہ اکثر کثیر الثقافتی پس منظر سے تعلق رکھنے والی خواتین اپنی ثقافتی صورتحال کی وجہ سے مسلط رویے کوبطور زیادتی نہیں پہچان پاتیں ۔

وہ کہتی ہیں ، مثال کے طور پر کسی مسلمان یا ہندو پس منظر کے شخص کو ان کے عقائد کے خلاف کچھ کرنے پر مجبور کرنا یا کسی سبزی خور کو گوشت پکانے پر مجبور کرنا اور ایسا کرنے سے انکار پر ان کو زد وکوب کرنا تسلط آمیز رویہ ہے ۔

انہوں نے کہا کہ ان میں سے کچھ رویے انتہائی زبردستی کے کنٹرول کو ظاہر نہیں کرتے، لیکن یہ زیادہ نقصان دہ ہو سکتے ہیں اور بچ جانے والے شخص کی بنیاد ہلا سکتے ہیں ۔

یہ رویے کا ایسا نظام ہے جو بنیادی طور پر کبھی نہیں رکتا ۔ یہ ایک مسلسل جبری برتاو ہے اور  یہاں تک جبری تسلط اچھے وقت کا بھی حصہ ہوتا ہے ۔اس کی پھنسانے والی نوعیت اس رویے کی بنیاد ہے ۔ جیس ہل

کوئینز لینڈ کے "چلڈرن بائے چوائس" کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ لسانی اور ثقافتی طور پر متنوع پس منظر سے تعلق رکھنے والی ہر پانچ میں سے ایک خاتون تولیدی جبر کا تجربہ رکھتی ہے ۔ ان خواتین میں سے تین چوتھائی خواتین نے ساتھ ہی یہ بھی رپورٹ کیا ہے کہ انہیں  گھریلو تشدد کا بھی سامنا ہے ۔

برسبین کی سماجی کارکن جسندر کور جو ساؤتھ ایشین کمیونٹیز کے ساتھ کام کرتی ہیں وضاحت کرتی ہیں کہ شوہر یا  ساتھی جان بوجھ کر بزور خواتین کو حاملہ ہونے پر مجبور کرتے ہیں ، تاکہ انہیں خاتون پر قابو پانے میں آسانی ہو ۔

محترمہ کور کا کہنا ہے کہ دیگر عوامل جو میں نے ارد گرد دیکھیے ہیں وہ چاہے صنف کا انتخاب ہو یا زبردستی اسقاط حمل پر مجبور کرنا اور ہو سکتا ہے کہ وہ خاتون بچہ رکھنے کی خواہشمند ہو جبکہ ساتھی بچہ نہ چاہتا ہو ۔

ویزا کی وکاوٹیں اور خانگی تشدد کی خصوصی دفعات

صحافی اور مصنفہ جیس ہل کا کہنا ہے کہ زیادہ تر گھریلو تشدد کا شکار ہونے والے افراد جو عارضی ویزہ پر ہوں ، ویزہ کھونے کے خوف سے پر تشدد رشتے کو رپورٹ کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہوتے ہیں ۔

دوسرے لوگ کہتے ہیں َ " یہ لوگ اس صورتحال کو چھوڑ کیوں نہیں دیتے ؟ اس معاملے میں آپ اتنا تھک چکے ہوتے ہیں اور ذاتی بچاو کے لئے اتنی ذہنی  اور جسمانی محنت کر رہے ہوتے ہیں کہ چھوڑنے کا تصوربہت پیچیدہ ہے  بالخصوص اگر آپ مائیگرینٹ ہیں یا عارضی ویزہ پر ہیں۔انہوں نے کہا ۔

Jess Hill
Jess Hill, investigative journalist and author.
SBS

 

آسٹریلیا کے امیگریشن قانون عارضی ساتھی ویزہ (سب کلاس 309 یا 820 ) رکھنے والے یا ممکنہ شادی کا ویزہ( سب کلاس 300 ) رکھنے والے افراد ، جو خانگی تشدد کا سامنا کر رہے ہوں، ان کو اجازت دیتا ہے کہ رشتہ ختم ہونے کے بعد بھی اپنا پرمننٹ پارٹنر ویزہ جاری رکھ سکیں ۔

امیگریشن ایڈوائس اینڈ رائٹس سینٹر کے مرکزی وکیل علی مجتہدی کا کہنا ہے کہ درخوست کنندہ کو امیگریشن قانون کے خاندانی تشدد کی دفعات تک رسائی کے لئے لازمی ہے کہ شواہد پیش کرے ۔

آسان ترین حل یہ ہے کہ عدالتی  شواہد فراہم کئے جائیں ، جن میں عدالت سے سزا یا عدالتی احکامات ، عام طور پر حتمی اے وی او شامل ہوتا ہے ۔

عدالتی ثبوتوں کی عدم موجودگی میں ، غیر عدامتی ثبوت جیسا کہ ڈاکٹر کی رپورٹ ، ذہنی امراض کے ماہرین ، ماہر نفسیات یا سماجی کارکنان کے اعلامیے کی ضرورت ہوتی ہے ۔

محترم مجتہدی کہتے ہیں کہ ان رپورٹوں میں کیا شامل ہونا چاہیے اس حوالے سے سخت ہدایات موجود ہیں ۔

خانگی تشدد کی دفعات میں توسیع کا مطالبہ

ان کا کہنا ہے کہ عائلی تشدد کی دفعات بہت کم ویزہ سب کلاس رکھنے والے افراد کے لئے دستیاب ہیں ۔ تاہم انہوں نے مشورہ دیا کہ دیگر ویزہ سب کلاس رکھنے والے افراد، ویزہ سے ہاتھ دھونے کے خوف میں خود کو پر تشدد رشتے میں بندھا نہ رہنے دیں بلکہ مشاورت حاصل کریں ۔

سو ہو سکتا ہے کہ وہ کسی دوسرے ویزہ کے معیارپر پورا اترتے ہوں اور اس کی بنیاد پر ویزہ درخواست دے سکیں ، جناب مجتہدی نے کہا

فرنٹ لائن ورکرز اور وکلاء وفاقی حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ امیگریشن ایکٹ میں خاندانی تشدد کی دفعات کا دائرہ کار وسیع کریں تاکہ عارضی ویزہ رکھنے والوں تک اس کا احاطہ بڑھایا جا سکے ۔

آسٹریلیا میں خطرات کا شکار خواتین کے لئے "آن شور ویزہ " ہونا چاہئے تاکہ کوئی بھی خاتوں اس بات سے قظع نظر کہ وہ کس امیگریشن طریقہ عمل پر آسٹریلیا آئی ہے ، اگر خاندانی تشدد کا شکار ہوتی ہے تو خود کار طریقے سےدو سالہ  "ویمن ایٹ رسک " ویزہ حاصل کر لے ، یہ اس خاتون کو ایسی امداد  اور معاونت کے حصول کی اجازت دیگا جس کی اس خاتون کو ضرورت ہے ، یہ بات کہی سماجی کارکن  جتندر کور نے ، جو مختلف سرکاری تحقیقات بھی پیش کر چکی ہیں ۔

کیا آسٹریلیا جبری تسلط کو مجرمانہ فعل قرار دے گا ؟

اگرچہ جبری تسلط جسمانی تشدد اور قتل کا اہم پیش خیمہ ہے ، آسٹریلیا کی حدود میں صرف تسمانیہ نے جبری تسلط کو جرم قرار دیا ہے ۔

جیس ہل کا کہنا ہے کہ اسے پورے آسٹریلیا میں جرم قرار دیا جانا نا گزیر ہے

یہ اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ اس عمل میں ہر ایک کی نمائندگی ہو ۔۔۔۔ تاکہ ہم قانون سازی کر سکیں ، ہم اس نظام کے لئے تربیت کر رہے ہیں جو ان قوانین کا جواب دے سکے جس کے تحت متاثرہ شخص کو مجرم ثابت ہونے سے بچایا جا  سکے ۔

لیکن امیگریشن وکیل علی مجتہدی کا کہنا ہے کہ پہلے عارضی ویزہ کی حامل خواتین کی دیگر ایسی پیچیدگیوں کو حل ہونا چاہئے جن میں ، سماجی خدمات تک رسائی ،گھر کا حصول اورمیڈی کئیر اور قانونی معاونت شامل ہے ۔

 


This story is also available in other languages.