ابھی آنے والا ہے Sun 6:00 PM  AEST
ابھی آنے والا ہے شروع ہوگا 
Live
Urdu radio

عارضی ویزوں پر مقیم خواتیں پر گھریلو تشدد میں اضافہ ۔ مدد کیسے حاصل کریں؟

Sad teen crying after read phone message Source: AntonioGuillem GettyImages

گھریلو تشدد کت خلاف کام کرنے والے گروپس کو تشویش ہے کہ کوویڈ 19 کے دوران معاشرتی خدمات تک رسائی میں حائل رکاوٹوں کی وجہ سے ، عارضی ویزے پر مقیم بیروزگار خواتین گھریلو تشدّد میں اضافہ ہوا ہے۔

آسٹریلیاکے ادارہ شماریات کے مطابق عام حالات میں پندرہ سال اور اس سے زیادہ عمر کی دس میں سے تین خواتین آسٹریلیا میں جسمانی یا جنسی تشدد کا سامنا کرتی ہیں  مگر   لاک ڈاؤن کی وجہ سے زبردست تناؤ کے شکار خاندانوں میں گھریلو اور جنسی تشدّد میں  بے حد اضافہ   ہوا ہے۔ وکٹوریہ میں خواتین کی بہبود کی تنظیم کی سر براہ مائیخل موریس کہتی ہیں کہ غیر ملکی تارکین وطن اور دوسری زبانیں بولنے والے گھرانوں میں گھریلو تشدد کےمسائیل ذیادہ سنگین  ہیں ۔ ان ٹچ نامی تنظیم کی کیس منیجر ڈاکٹر رچنا کہتی ہیں کہ   مہاجرین اور ترکِ وطن کر کے آنے والے گھرانوں  میں مار پیٹ کا شکار خواتین بیرونی مدد لینے میں روائتی شرم و جھجک کا شکار ہوتی ہیں۔ 

سفری پابندیوں اور بیروزگاری کے باعث خواتین کا انحصار کمانے والے مرد کی آمدنی پر بڑھ گیا ہے۔ جبکہ لاک ڈاؤن کے دوران دوسری جگہ رہائیش ملنا بھی آسانا نہیں 

وہ کہتی ہیں کہ تنظیم کے دوسری زبانوں کے ترجمان اور امیگریشن وکلاء بڑی تعداد میں  ایسی خواتین کو مدد فراہم کر رہے ہیں جو دور دراز علاقوں میں رہتی ہیں۔  کیس منیجر ، ڈاکٹر روچیٹا  کہتی ہیں کہ یہ بات باعث تشویش ہے کہ بہت سے متاثرین محدود مالی وسائل ، سرحد بند ہونے اور اپنی گھریلو برادری سے نکالے جانے کے خوف کی وجہ سے اپنے آبائی ملک  بھی واپس نہیں جاسکتے ہیں۔

ڈاکٹر روچیتا کا کہنا ہے کہ ایک خاتون اپنے تین بچوں کے ساتھ خاندانی تشدد سے بچ  کر آئیں تھیں مگر بعد میں وہ اپنے بچوں کو سہولیات فراہم کرنے کے لئے محدود مالی وسائل کی وجہ سے  زیادتی کرنے والے کے پاس واپس جانا پڑا۔

ان ٹچ کی مس موریس کہتی ہیں کہ تشدد کرنے والے اب کرونا وائیرس کی پابندیوں کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ان کے ساتھی کے پاس راہ فرار نہیں ہے۔

Battered woman raising her hand in self-defense
Benjamin RondelGettyImages

مورس کا کہنا ہے کہ ان ٹچ کے پاس آنے والی شکایات میں  انگریزی نہ جاننے والی خواتین کی بڑی تعداد  ہے ۔ ان کا کہنا ہے  کہ وکٹوریہ میں راؕیل کمیشن برائے گھریلو تشدد نے گھر میں رہنے والے کسی فرد کے ساتھ مسلسل ذیادتی پر مبنی رویے کو بھی تشدد کی تعریف میں شامل کیا ہے۔ 

Cre8tive Nails owner Rosie Thind with customer in Darwin, Friday, May 15, 2020. The Northern Territory has lifted a range of restrictions but social distancing is still required. (AAP Image/Helen Orr) NO ARCHIVING
AAP Image HELEN ORR

امیگریشن کے وکیل نلیش نندن کا کہنا ہے کہ عارضی ویزہ رکھنے والے شخص کو کسی پرُ تشدد ساتھی کو چھورنے کے لئے الگ ویزے کی ضرورت ہوتی ہے اور اس کے لئے اسے ساتھی کے ساتھ نہ رہنے کی وجوہات بتانا ہوتی ہیں اور ساتھ ہی ڈاکٹر، ماہرِ نفسیات اور پولیس کو بیانات بھی دینا ہوتے ہیں جو ہر ایک کے لئے آسان نہیں۔ 
Female young adult gesturing stop and social distancing
DME PhotographyGetty Images

وفاقی حکومت گھریلو تشدد کی روک تھام کے لئے ۱۵۰ ملین خرچ کر رہی ہے۔ مورس کا کہنا ہے کہ عارضی ویزا پر رہنے والی بہت سی خواتین کے کام کرنے کے حقوق محدود ہیں اور وہ ویزا کی حیثیت کی وجہ سے بنیادی صحت ، برادری یا معاشرتی خدمات تک رسائی کی اہل نہیں ہیں۔کرونا وائیرس کے بحران کے دوران ، ان ٹچ نے اپنے متاثرہ لوگوں کے لئے ہنگامی خوراک کی امداد فراہم کرنے کے لئے کنفولک کے کے لئے میلبورن سوشل انٹرپرائز کے ساتھ مل کر کام کیا ہے۔


اگر آپ یا آ کے جاننے والے کا آسٹریلیا میں قیام کا انحصار کسی دوسرے فرد پر ہے اور وہ شخص مارپیٹ اور تشدد میں ملوث ہے تو ایسے لوگوں کی رپورٹ کے لئے آسٹریلیا میں مدد موجود ہے اس سلسلے میں 

WWW.INTOUCH.ORG.AU

پر جائیے یا 

1800737732

پر کال کیجئے

اپنی زبان میں خواتین کی صحت سے متعلق معلومات کے لئے کثیر الثقافتی مرکز برائے خواتین سے اس کے ٹول فری نمبر

1800 656 421 

پر صبح 10 بجے سے شام 4 بجے تک رابطہ کریں۔

گر آپ کو زبان کی مدد کی ضرورت ہو تو ، ترجمان کےلئے  

131450

پر فون کریں اور اردو میں بات کرنے کو کہیں۔

اگر آپ کی جان کو خطرہ ہے تو فوری طور پر 000 پر فون کریں۔

_______________________

آسٹریلیا میں لوگوں کو ایک دوسرے سے رابطے کے دوران کم ازکم ڈیڑھ میٹر کا فاصلہ رکھنا چاہیئے۔

اپنی ریاست یا علاقے میں پابندیوں کے بارے میں جاننے کے لئے اس ویب سائٹ کو وزٹ کیجئے۔

کروناوائرس ٹیسٹنگ اب آسٹریلیا بھر میں موجود ہے۔ اگر آپ میں نزلہ یا زکام جیسی علامات ہیں تو اپنے ڈاکٹر کو کال کرکے ٹیسٹ کرائیں یا پھر کرونا وائرس انفارمیشن ہاٹ لائن 080 180020 پر رابطہ کریں۔

وفاقی حکومت کی کروناوائرس ٹریسنگ ایپ کووڈسیف اب آپ کے فون پر ایپ اسٹور کے ذریعے دستیاب ہے۔

ایس بی ایس آسٹریلیا کی متنوع آبادی کو کووڈ ۱۹ سے متعلق پیش رفت کی آگاہی دینے کے لئے پرعزم ہے ۔ یہ معلوماتتریسٹھ زبانوں میں دستیاب ہے۔

http://www.sbs.com.au/coronavirus

 

This story is also available in other languages.
Show languages