سات برس قبل انہوں نے کم یونٹی کنسٹرکشن کے نام سے اپنی فرم قائم کی اور دیکھتے دیکھتے انتہائی کم انگلش بولنے کی صلاحیت کے باوجود انہوں نے نہ صرف اپنے کاروبار کو خوب وسعت دی بلکہ درجنوں دیگر افراد کے لیے بھی روزگار کے مواقع فراہم کیے۔
اب ان کے اعزازات میں یہاں کا معتبر لیس مرے ایوارڈ بھی شامل ہوگیا ہے۔
یہ ایوارڈ ایس بی ایس کی جانب سے اسپانسر کیا جاتا ہے اور یہ ہنگری سے تعلق رکھنے والے سابق پناہ گزین لیس مرے کی یاد میں ان لوگوں کو دیا جاتا ہے جو پناہ گزینوں کی زندگی میں مثبت تبدیلی کے لیے کچھ خاص کام سر انجام دیتے ہیں۔
ایس بی ایس کے مینیجنگ ڈائریکٹر جیمز ٹیلر نے ہدایت عثیان کو اس اعزاز پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا: " میں ہدایت اوسیان کو ان کی بہت سی کامیابیوں اور ایک کمزور کمیونٹی کے لیے روزگار فراہم کرنے ، جس کو ایک قابل اعتماد پارٹنر کی ضرورت ہے تاکہ وہ اپنے کیریئر اور معاش کے لیے راہیں تیار کر سکیں، پر مبارکباد پیش کرتا ہوں"۔
اوسیان کا تعلق افغانستان کی ہزارہ برادری سے ہے۔ طالبان نے ان کے آبائی علاقے غزنی پر سال 2009 میں حملہ کیا تھا، جس کے بعد وہ فرار ہوکر کشتی کے ذریعے آسٹریلیا پہنچے تھے۔
انہیں تین ماہ تک کرسمس جزیرے پر قید رکھا گیا تھا۔
سال 2010 میں انہیں قانون طور پر رہنے کی اجازت دی گئی جس کے بعد وہ سڈنی میں مقیم ہوگئے اور انگلش سیکھنا شروع کیا اور پھر مرسڈین ہائی اسکول میں بارہویں پاس کی۔
تب سے اب تک انہوں نے قریب 90 پناہ گزینوں کو کنسٹرکشن کے کام کی تربیت فراہم کر رکھی ہے، جن میں سے قریب 60 برسرروزگار ہیں اور قریب چار دیگر نے اپنے ذاتی کاروبار شروع کر رکھے ہیں۔
ہدایت اوسیان کہتے ہیں: "ہم پناہ گزینوں کو آگے بڑھنے اور خودمختار ہونے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ ہم یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں یہ پناہ گزین بہادر اور محنت کش اور معاشرے میں نت نئی مہارتیں لے کر آتے ہیں۔"