دفتر خارجہ و تجارت کے مطابق جاں بحق ہونے والے شخص کے اہل خانہ کو سفارتی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں تاہم پرائیوسی کی وجہ سے اس ضمن میں مزید تفصیلات نہیں بتائی جاسکتی۔ اس دفتر کے ترجمان نے اس حادثے میں جان گنوانے والے کے لواحقین کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا۔
سعودی عرب میں رواں موسم گرما کے دوران درجہ حرارت 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کے بعد حج کی سخت رسومات مزید سخت ثابت ہوئیں اور سینکڑوں لوگوں کی ہلاکت رپورٹ کی گئی۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق کم از کم 1000 افراد کی حج کے دوران ہلاکت رپورٹ کی گئی ہے جن کا تعلق کم از کم 10 مختلف ممالک سے بتایا جاتا ہے۔ سعودی حکام کے مطابق رواں برس قریب دو ملین افراد نے حج کی رسومات میں حصہ لیا۔

حج کو اسلام چوتھا ستون تصور کیا جاتا ہے اور ہر اس مسلمان پر اسے فرض سمجھا جاتا ہے جو اس کے لیے ضروری امکانات کا حامل ہو۔ بیرون ملک سے آنے والے حجاج کرام کو سعودی حکومت سے خصوصی اجازت نامہ لینا ہوتا ہے اور مجموعی اخراجات کا تخمینہ چار ہزار سے پندرہ ہزار ڈالر کے لگ بھگ ہے۔
ایسی رپورٹس بھی موجود ہیں کہ ہلاک ہونے والے بیشتر افراد غیر رجسٹرڈ تھے اسی لیے انہیں حکام کی جانب سے فراہم کردہ سہولیات بھی میسر نہیں تھیں۔
کرٹن یونیورسٹی سے وابستہ یحییٰ ابراہیم نے اے بی سی کو بتایا کہ غیر رجسٹرڈ شرکاء اکثر سیاحتی یا مطالعاتی ویزا پر سعودی عرب آتے ہیں اور حج میں شرکت کے لیے زیادہ قیام کرتے ہیں۔
ابراہیم نے کہا کہ غیر رجسٹرڈ عازمین حج "دیگر لاکھوں لوگوں کے ساتھ... جنہوں نے اصل میں [رجسٹرڈ] کیا ہوتا ہے، منزل سے منزل تک ان لوگوں کے ساتھ چلتے ہیں جو ان کی دیکھ بھال کر رہے ہوتے ہیں۔"
انتقال کر جانے والے آسٹریلوی شخص کی نماز جنازہ پڑھ لی گئی تاہم فی الحال اس کی باقاعدہ شناخت نہیں ہو سکی ہے۔
