اظہار غم کے طور پر سینے پر سیاہ ربن سجائے ان کے اہل خانہ نے اس بی ایس کو بتایا کہ فراز طاہر کے خون میں شامل تھا کہ وہ مشکل گھڑی میں دوسروں کی مدد کے لیے لپکے۔
ان کے بھائی مدثر بشیر نے جمعرات کے روز تعزیتی تقریب کے بعد کہا: "ہمیں اس پر بہت زیادہ فخر ہے۔ اسلام میں ایک جان گنوانے کا مطلب ہے پوری انسانیت کو بچانا۔"

سڈنی کے بونڈائی جنکشن پر موجود ویسٹ فیلڈ شاپنگ سینٹر میں بحیثیت سکیورٹی گارڈ فراز طاہر کا پہلا دن تھا جب چاقو حملہ آور جوئیل کاوچی نے پانچ خواتین سمیت اسے بھی نشانہ بنایا۔ اس حملے میں 47 سالہ جیڈ ینگ، 38 سالہ ایشلے گووڈ، 25 سالہ ڈان سنگلٹن، 55 سالہ پکرا ڈارشیا اور 27 سالہ ییشوان چینگ اپنی جانیں گنواں بیٹھے اور ایک بچے سمیت 12 دیگر افراد شدید زخمی ہوئے۔
30 سالہ طاہر اور ان کے ساتھی سکیورٹی گارڈ محمد طحہ جیسے ہی زخمیوں کی مدد کے لیے دوڑے تو حملہ آور نے انہیں بھی نشانہ بنایا۔ اس حملے میں طاہر اپنی جان گنواں بیٹھے۔
ان کے بھائی بشیر کے بقول وہ ایک انتہائی بہادر انسان تھے۔ "ہمیں معلوم نہیں کہ اس نے کتنے لوگوں کی جان بچائی ہوگی۔ مجھے یقین ہے بہت زیادہ لوگ اس ہی کی وجہ سے زندہ ہیں۔" ان کے بقول احمدیہ کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے طاہر کی تربیت ہی ایسی کی گئی تھی کہ ہمیشہ دوسروں کی مدد کی جائے۔
اس کے عزیز واقارب بیرون ملک سے اس کو خراج عقیدت پیش کرنے سڈنی آئے۔ اس کے بھائی کے بقول طاہر اس نئی ملازمت پر خاصا خوش تھا۔
خونریز واقعے سے ایک شب قبل طاہر کے ساتھ ہوئی اپنی بات چیت کا تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ خاصا پرجوش تھا۔ بشیر کے بقول: "اس نے مجھے بتایا کہ کل اس کی ملازمت کا پہلا دن ہے اور وہ جلد آرام کرنا چاہتا ہے۔ وہ آخری بار تھا جب میں نے اس سے بات چیت کی۔"

طاہر خاندان کے بزرگ مظفر احمد طاہر نے ترجمان کی مدد سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اس کی جدائی کا غم اب بھی انہیں رلاتا ہے۔ "ہمیں ابھی تک یقین نہیں آرہا۔ ہمیں تو لگا کہ وہ اب محفوظ جگہ پر ہے۔ ہم بہت زیادہ غمگین ہیں۔" ان کے بقول ان کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ ایسی پر امن جگہ پر ایسا کچھ ہوجائے گا۔
جمعے کے روز طاہر کی وفات کی آخری رسومات ادا کی جائیں گی جس کے لیے طاہر خاندان نے سب کو مدعو کیا ہے۔ "جو اسے جانتے تھے یا نہیں جانتے تھے سب کو دعوت ہے کہ اس تقریب میں شرکت کریں اور تمام افراد جو اس حملے سے متاثر ہوئے ان کے لیے دعا کی جائے۔

وزیر اعظم انتھونی البنیزی اور ریاست نیوساوتھ ویلز کے پریمیئر کرس منس کو اس تقریب میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔
اس متاثرہ خاندان کے افراد نے سڈنی کے بونڈائی جنکش کا دورہ بھی کیا جہاں لواحقین کی یاد میں پھول رکھے گئے تھے۔ طاہر خاندان نے ریڈ کراس کے تعاون سے لوگوں کو اس کی یاد میں خون کے عطیات دینے کا بھی کہا ہے۔ "یہ اسے خراج عقیدت پیش کرنے کا بہترین طریقہ ہے۔"
آسٹریلیا میں اس کی تدفین کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے انہوں نے کہا پاکستان میں استحصال سے فرار کے بعد یہاں آکر دوسروں کی جان بچانے میں اپنی جان قربان کرکے طاہر نے اسے اپنی آخری منزل بنالیا ہے۔ "اسے اپنی مٹی سے پیار تھا۔ اس نے اپنی جان اور خون آسٹریلیا میں قربان کیا تو ہم اسے یہی دفنا رہے ہیں جہاں اس نے چاہا۔"
