ایاز یونس کو بدھ کے روز سڈنی میں سپردِ خاک کردیا گیا۔
پاکستانی طالب علم کے والدین کو جنازے میں شرکت کے لئے پاکستان سے آسٹریلیا آنے کی خصوصی اجازت دی گئی۔
والدین کو قرنطینہ سے دو گھنٹے نکالا گیا جس میں انھوں نے مارسڈن پارک کی مسجد میں جنازے میں شرکت کی۔

پچیس سالہ نوجوان کے دوستوں کا کہنا ہے کہ یہ نہایت ہی افسوسناک واقعہ تھا۔
عطا شریفی کا کہنا ہے کہ یہ ایسا سانحہ ہے جسے لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔
’ایاز سب کا دوست تھا اور سب سے بہت ہی اچھی طرح مسکراہٹ کے ساتھ ملتا تھا۔‘
عمران احمد کا کہنا ہے کہ مجھے اپنے دوست کے مرنے کا بہت افسوس ہے۔
’میں اس کے ساتھ ہر روز آٹھ سے دس گھنٹے تک گزارتا تھا۔‘

