بدترین حالات میں بھی اکثر مرد کو مضبوط رہنا سکھایا جاتا ہے۔ مگر پھر کبھی کبھی آسٹریلیا میں سکونت کے خواب ٹوٹ جاتے ہیں ، جذبات پر ضرب پڑتی ہے اور تعلقات کے شیشے میں بال آجاتا ہے یا رشتے ٹوٹ جاتے ہیں۔ مگر مرد ان باتوں کو کسی سے صرف اس لئےشئیر نہیں کرتا کہ کہیںاس کے جاننے والے یا کمیونیٹی کےلوگ اسے کمزور ہونے کا طعنہ نہ دیں۔ اور یہ سوچ مرد کو ذہنی تناؤ کا شکار بناتی ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ اپنے جذبات اور مسائیل کو دوسروں سے شئیر کرنا کمزوری نہیں بلکہ بہادری کی علامت ہے۔

آسٹریلیا آنے والے تارکینِ وطن یہاں پُرسکون اور خوشحال زندگی کا خواب سجائے آتے ہیں۔ مگر رشتوں کے بگاڑ اور تعلقات کے ٹوٹنے سے خود مرد بھی ٹوٹ کر رہ جاتا ہے۔ سیٹیلمنٹ سروس انٹرنیشنل کی معاون کار جسیکا ہارکنس مضبوط خاندان نامی پرگرام کے ذریعے تارکینِ وطن لوگوں کو عربی اور تامل زبان میں خدمات فراہم کرتی ہیں جبکہ ہزارہ کمیونیٹی کے لئے پرگرام بھی تکمیل کے مرحلے میں ہے۔

ان کا تجربہ ہے کہ تارکینِ وطن افراد کی زبانوں کے پروگرام ان کمیونیٹیز تک براہ راست پہنچنے میں ذیادہ معاون ہوتے ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ہر فرد کے لئے اس کے مخصوص حالات کے مطابق انفرادی پروگرام ترتیب دیا جاتا ہے۔ اور ریلشین شپِ آسٹریلیا اس سلسلے میں انہیں تعاون فراہم کرتا ہے۔
ہم ایسے مردوں کی مدد کرتے ہیں جو پریشانی کے باوجود کسی سے مدد نہیں مانگتے

لبنانی نژاد سہولت کار غسان نجم کہتے ہیں کہ کچھ معاشروں میں مرد کو خاندان کا ایسا سربراہ سمجھا جاتا ہے جس سے سب کے مسائیل حل کرنے کی توقع کی جاتی ہے مگر ضرورت کے وقت خود اس کا مسئلہ حل کرنے والا کوئی نہیں ہوتا۔ ان کا کہنا ہے کہ مردوں کی برتری والے ایسے معاشروں سے آنے والے مرد پر خاندانی، روائیتی اور معاشرتی دباؤ بڑھ جاتا ہے۔ لائیف کوچ اور کونسیلنگ ٹیم لیڈر سمبو ناڈی گُڈ لائیف پروجیکٹ کے سربراہ ہیں، ان کا تجربہ کہتا ہے کہ اکثر مردوں کو اپنی کمزوریاں، پریشانیاں اور مسائیل دوسروں کو بتانے میں دشواری ہوتی ہے اور اس کا تعلق اس طرزِ پرورش سے ہوتا ہے جو ان کی تربیت کا حصہ ہوتا ہے اور ایسے رویے کو بدلنا بڑا چیلینج ہوتا ہے۔ گُڈ لائیف پروجیکٹ جنوبی آسٹریلیا میں مقیم افریقی نژاد لڑکوں اور مردوں کو جارحانہ اور گھریلو مار پیٹ کے رویے سے دور رہنے کی تربیت دیتا ہے۔

ریلیشن شپس آسٹریلیا نیو ساؤتھ ویلز کے کمیونیٹی تربیتی منیجر اینڈریو کنگ کا کہنا ہے کہ تارکینِ وطن مردوں کو اپنے بچوں کو اچھے ماحول میں تربیت دینے کا خواب آسٹریلیا لاتا ہے مگر بچوں کی کامیابی کا یہ خواب اس وقت تک پورا نہیں ہو سکتا جب تک یہ مرد اپنی فرسودہ روایات، مارپیٹ، تششد اور ذہنی انشار سے جان نہیں چھڑالیتے۔ کنگ کہتے ہیں کہ پریشانیوں اور احساسات کو اندر ہی اندر دبانے سے یہی جذبار آتش فشاں کی طرح پھٹتے ہیں جو جارحانہ رویے کا سبب بنتے ہیں۔پریشانی اور غصے کی حالت میں گرفتار مردوں کو وہ پروفیشنل مدد حاصل کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔
دوسروں کو عزت دینا، ان کی بات سننا، اور اپنی سوچ اور رویے پر غور کرنا وہ کام ہیں جن سے ذہنی انتشار ، دباؤ، اور گھریلو بحران سے بچا جا سکتا ہے
ایسے مرد جو اپنی پریشانی بیان کرنے میں مشکل محسوس کریں ان کے لئے مدد موجود ہے۔ کنگ کہتے ہیں کہ آپ ایک نئے ملک میں آئے ہیں، اپنا آبائی وطن اور عزیز واقارب کو چھوڑ کر آنے کے بعد ذہنی طور پر پریشان ہونا غیر فطری نہیں مگر پریشانی میں مدد نہ مانگنا مردانگی نہیں بلکہ بزدلی ہے کیونکہ مدد صرف ایک دستک کے فاصلے پر ہے ۔
آپ مردوں کی مدد کے اسی طرح کے پروگراموں کے بارے میں ملک بھر کی تمام ریاستوں میں مدد کے لئے اس نمبر پر کال کریں
1300 364 277 Relationships Australia
مردوں کے جذباتی معاملات ، صحت یا رشتوں سے متعلق خدشات رکھنے والے مرد کسی بھی وقت مفت مشاورت کے لئے اس نمبر پر رابطہ کریں
1300 78 99 78 - MensLine Australia
اگر آپ کواردو زبان میں مدد کی ضرورت ہو تو اس نمبر پر کال کریں
13 14 50 - National Translating and Interpreting Service
اور اردو زبان میں بات کرنے کو کہیں۔
