پاکستان میں رواں سال مارچ میں جب عالمی وباء کورونا وائرس کے کیسز میں اضافہ ہو رہا تھا تو سماجی فاصلے سمیت دوسری احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل درآمد ہوتا رہا کوویڈ19 سے متاثر ہونے والے دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی فضائی آپریشن معطل کرنا پڑا لیکن اب کورونا کیسز میں کمی کے بعد فضائی سفر کے دوران سماجی فاصلے کی شرط بھی ختم کر دی گئی ہے۔

ہمارے نمائیندے انس سعید کے مطابق ان ہدایات کے باوجود امریکہ سے براستہ دوہا پاکستان پہنچنے والے مسافر اسد محمود نے انہیں بتایا کہ سفر کے دوران تو ایس او پی ایز پر عملدرامد ہو رہا ہے ، مسافروں کا ٹمپریچر لیا جاتا رہا اور نشست چھوڑ کر بیٹھنے کے انتظامات بھی تھے مگر لاہور ائیرپورٹ پر کسی قسم کی فاصلے کی پابندی ، سینیٹائیزر کا استعمال یا ماسک وغیرہ کی پابندی نظر نہیں آئی جس پر انہیں حیرت و پریشانی ہوئی۔
جب ہم لاہور ائیرپرٹ کے لاؤنج سے باہر نکلے تو ایسا لگا دنیا ہی کوئی اور پے ایسا لگا آپ مارکیٹ میں آگئے جہاں کوئی کسی طرح کی احتیاط نہیں کر رہا
اسد محمود کو اس بات پر بھی تعجب تھا کہ پاکستان آنے کے لئے کووڈ ٹیسٹ کی ضرورت نہیں مگر ملک سے باہر جاتے وقت کووڈ ٹیسٹ کروانا ضروری ہے۔
پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی نے ایک بار پھرٹریول ایڈوائزری جاری کی ہے احکامات کے مطابق نئی ایڈوائزری اکیس اگست سے اکتیس اکتوبر تک نافذ العمل ہوگی تازہ ہدایات کمرشل فلائٹس کے علاوہ پرائیویٹ جیٹ پر بھی لاگو ہوں گی۔
دبئی سے ایئر بلیو سے آنے والے مسافر عبدل ہادی نےانس سعید کو بتایا کہ سفر کے دوران ایس او پیز پر عمل دیکھنے میں آیا اور یہاں آنے پر اسکیننگ اور سینیٹائیزر کا استعمال دیکھنے میں آیا۔
پاکستان سول ایوی ایشن نے ان ائیر لائنز کے لیے سیٹوں کے درمیان فاصلہ رکھنے کی شرط ختم کر دی ہے جو مسافروں کو بورڈنگ پاس دینے سے پہلے منفی کورونا وائرس ٹیسٹ کی رپورٹ لیتی ہیں ان ائیر لائنز کے جہازوں پر سوار ہونے والے مسافر اب سماجی فاصلے پر عمل درآمد نہیں کریں گے جبکہ دیگر پروازوں پر سماجی فاصلہ رکھنے کی پالیسی برقرار رکھی گئی ہے ۔ نوٹیفکیشن کے مطابق پاکستان سفر کرنے والے تمام مسافر دوران پرواز سرجیکل ماسک کا استعمال لازمی کریں گے اگر کسی فرد کے پاس ماسک نہیں ہوگا تو ائیر لائن متعلقہ شخص کو ماسک فراہم کرنے کی پابند ہوگی۔ مسافر کو صرف کھانا کھاتے وقت ماسک اتارنے کی اجازت ہوگی۔
مسافر بورڈنگ کارڈ پر درج سیٹ نمبر پر ہی بیٹھنے کا پابند ہوگا کسی کو سیٹ تبدیل کرنے کی اجازت نہیں ہوگی پرواز میں سوار تمام افراد کا ہر 90 منٹ کے بعد درجہ حرارت چیک کیا جائے گا کورونا وائرس علامات والے مسافر کو جہاز کے آخرمیں خالی سیٹوں پر منتقل کیا جائے گا۔

نئی ہدایات کے مطابق جہاز سے اترنے کے بعد ہر فرد سے محکمہ صحت کا عملہ "مسافر صحت اقرار نامہ" موصول کرے گا۔آمدی لاؤنج میں محکمہ صحت کی جانب سے تھرمل اسکیننگ کی جائے گی ۔محکمہ صحت کی جانب سے کلیئر قرار دیے جانے والے مسافروں کو گھر جانے کی اجازت ہوگی لیکن متعلقہ مسافر کو گھر جا کر کم از کم چودہ روز تک آئیسولیشن میں رہنا ہوگا۔کورونا وائرس علامات ظاہر کرنے والا مسافر قرنطینہ کرے گا جس کے تمام انتظامات محکمہ صحت کا ملہ کرے گا۔
ائیرپورٹ پر ہدایات پر عمل نہ ہونے کی شکایات پر تبصرے کے لئے ایس بی ایس کے نمائندے کی جانب سے دو بار رابطہ ہونے پر پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ترجمان عبدالستار کھوکھر نے کہا کہ وہ میٹنگ میں ہیں اور پھر اس معاملے پر اتھارٹی کا موقف دینے سے انکار کر دیا۔
ائیرپورٹ پر ہدایات پر عمل نہ ہونے کی شکایات پرسول ایوی ایشن اتھارٹی نے تبصرے سے انکار کر دیا

ادھر پاکستان میں کورونا وائرس کے کیسز میں کمی دیکھنے میں آرہی ہے گذشتہ چوبیس گھنٹوں میں کورونا وائرس کے 586 نئے کیسز سامنے آئے ہیں پاکستان میں کوویڈ19 سے متاثرین کی تعداد 292174 ہوگئی ہے جن میں سے 275317افراد صحتیاب ہوئے ہیں جبکہ پاکستان میں اب تک کل اموات 6231 ہوگئی ہیں
