بھاپ کے انجن سے چلنے والی تاریخی زگ زیگ ریل بحالی کے بعد بلیو ماؤنٹین کی وادیوں میں ایک بار پھر رواں دواں ہے۔
مشہور اور تاریخی زگ زیگ ریلوے سڈنی کے مغرب میں بلیو ماؤنٹینز میں واقع ہے۔
سڈنی کے مغرب میں اب لٹگو میں بلیو ماؤنٹینز میں زگ زیگ ریلوے پچھلے دس سالوں سے بند تھی، لیکن کئی سالون کی مہم چلنے والی تاریخی ریلوے سروس ایک بار پھر لوٹ آئی ہے
اس ریل سے سفر کرنے والوں نے پہلی بار سٹون نیشنل پارک کے باغات میں گھاٹیوں کے ڈرامائی نظاروں کے ساتھ ساتھ ان ہزاروں جلے ہوئے یوکلپٹس کے جنگلوں کو دیکھا جو کئی بار کی بش فائیر سے جھلس کر اس ریلوے کی بندش کا ایک اضافی سبب تھے۔ خاتون ان 1800 افراد میں سے ایک ہں جنہوں نے زگ زیگ ریلوے کا ٹکٹ خرید کر کئی سالوں بعد دوبارہ چلنے والی اس پہلی سروس پر سفر کی اور اسے تاریخی قرار دیا۔

ڈین زولفل زگ زیگ ریلوے کے قائم مقام چیف ایگزیکٹو ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ۲۰۱۲ میں جب سے اس تاریخی ریل سروس کو ریل کے سخت ضوابط اور آپریشنل اخراجات کی وجہ سے بند کیا گیا تھا۔اس وقت سے مقامی رضاکار اس تاریخی ٹرین سائٹ کو اس کی سابقہ شان کے ساتھ بحال کرنے کے لیے کام کر رہے تھے۔ دخانی انجن سے چلنے والی ٹرین کے ٹریکس کو متعدد آفات نے تباہ کر دیا تھا جن میں وقت گزرنے ساتھ ساتھ ریلوے لائین کی شکست و ریخت اور پھر ۲۰۱۹ گوسپرز ماؤنٹین کی بلیک سمر کے نام سے جانی جانے والی بش فائیرز نے اس علاقے کو تباہ کر دیا تھا۔

ڈین زولفل کا کہنا ہے کہ بے پناہ چیلنجز کے باوجود، رضاکاروں نے زگ زیگ ریلوے کی بحالی کے لئے کوششیں جاری رکھیں۔
رضاکاروں کی جدوجہد کو ٹھیکیداروں اور نیو ساؤتھ ویلز کی ریاستی حکومت کی گرانٹس سے مدد ملی۔ان کی محنت رنگ لائی اور مئی کے اوائل میں نیشنل ریل سیفٹی ریگولیٹر کے دفتر نے ریلوے کو چلانے کے لیے مکمل منظوری دے دی۔ مقامی کیتھی میک نامارا کہتی ہیں کہ یہ رضاکار ہیں جو زیگ زیگ ریلوے کی جان ہیں۔
زگ زیگ ریلوے کی ایک طویل مگر دل میں اترنے والی تاریخ ہے۔

زگ زگ ریلوے کے ٹریک کو پہلی بار اکتوبر 1869 میں کھولا گیا، تمام حلقوں کی طرف سے اونچے پہاروں اور بل کھاتی پُر پیچ وادیوں سے گزرنے والی اس ریلوے لائین کو تکنیکی مہارت کے نمونے کے طور پر سراہا گیا کیونکہ اس ٹرین کے ذریعے اس وقت نہ صرف دور دراز علاقوں تک رسائی ممکن ہوئی بلکہ سنگلاخ چٹانوں جنگلوں اور گھاٹیوں سے گزر کر لوگوں کی ایک نئی دنیا دیکھنے کو ملی ۔
زگ زیگ ریلوے "دنیا کا آٹھواں عجوبہ"
۔1947کے ایک قومی اخبار کے مضمون میں ریلوے کے ابتدائی سال یعنی 1870 کی دہائی میں رہنے والوں ے لیے
زگ زیگ ریلوے کو"دنیا کا آٹھواں عجوبہ" قرار دیا تھا۔
اب مقامی لوگوں کو امید ہے کہ یہ ریل خطے کے لیے معاشی طور پر فائدہ مند ثابت ہو گی اور ساتھ ہی ملک بھر میں موجود ٹرین کے سفر کے شوقین افراد کو یہاں تک کھینچ کر لائے گی۔ڈین زولفل کا کہنا ہے کہ ابتدا میں ہر پندرہ دن بعد چلنے والی ۹۰ منٹ کی ٹرین سروس ہفتے میں دو دن سنیچر اور اتوار کو تین سرسوز چل رہی ہیں۔
