کلیدی نکات
- دوزبانیں سیکھنے کے فوائد میں عملی زندگی میں کامیابی اور ورثہ و ثقافت سے ربطہ کے لئے اہم ہیں
- زبان-ثقافت کا ربط خاندانوں اور نسلی گروہوں کے مابین مختلف ہوسکتا ہے
- اسکول، خاندانی اور کمیونٹی نیٹ ورک دو لسانی تعلیم کے پلیٹ فارم ہوسکتے ہیں، لیکن بچے کی لسانی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے لسانی ماحول کی ضرورت ہے
حالیہ مردم شماری کے مطابق، لسانی تنوع آسٹریلیا میں ایک حقیقت ہے، جہاں ہر 5 گھروں میں سے 1 میں انگریزی کے علاوہ کوئی اور زبان بولی جاتی ہے۔
ایسے بچوں کو جو دو زبانیں بولنے والے گھرانے میں بڑے ہو رہے ہوں ان کے لئے دو لسانی بچوں کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔ ایسے بچوں کی پرورش میں چیلنجز بھی ہوتے ہیں۔ مگر ماہرین کا کہنا ہے کہ اایک سے ذیادہ زبان بولنے اور سیکھنے کے فوائید ان پریشانیوں سے بہت کم ہیں۔ میلبورن یونیورسٹی کے ماہر لسانیات پروفیسر جان ہاجیک کے مطابق، دو لسانی بچوں کی تعلیمی کارکردگی بہتر ثابت ہوئی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ دو زبانیں بولنے والے بچوں کی ذاتی نشوونما میں اس کے فوائد کہیں زیادہ وسیع ہوتے ہیں۔

“تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ چھوٹے بچے جن کی عمریں چار/پانچ سال ہو وہ، دوسری زبان جلدی سیکھ لیتے ہیں اور نفسیاتی تحقیق کے مطابق ان لوگوں کے بارے میں ذیادہ ہمدردی کا جذبہ رکھتے ہیں جن کے ساتھ وہ بات چیت
کر تے ہیں، یہ سمجھنے کی سخت کوشش کرتے ہیں کہ اپنے آس پاس کے بچے اور افراد کی ضروریات کیا ہیں، اور یقینا، اس سے عام طور پر معاشرے کے لئے بہت زیادہ فوائد ہیں۔
زبان - ثقافت کا ربط
پروفیسر ہاجیک کا کہنا ہے کہ ثقافتی علم اور زبان بہت سی برادریوں کو جوڑنے میں مددگار ثابت ہورہاہے۔ دو لسانی بچوں کی کاردگی بھی بہتر ہے اور ان کا اپنی وراثت سےتعلق بھی مضبوط ہے۔
دوسری اور تیسری نسلوں کی کامیابی کی بہت سی کہانیاں ہیں جو اپنی ورثے کی زبان کے ذریعے ثقافت سے ربط رکھنے میں کامیابی کے ساتھ ۔نئے علوم سیکھنے میں بھی کامیاب رہی ہیں ۔
دوسری نسل کے یونانی آسٹریلیائی واسو زنگالیس، آسٹریلیا کے پہلے بچوں میں سے ایک تھے جن کو 80 کی دہائی میں پائلٹ پروگرام کے ذریعے باضابطہ اسکول میں دو لسانی تعلیم کا سامنا کرنا پڑا۔
اس وقت یونانی زبان میں “کلاس کی سب سے کمزور طالبہ ہونے کا زمانہ یاد کرتے ہوئے وہ کہتی ہیں کہ ان کے والدین نے اسے پروگرام میں داخلہ لینا “ضروری” سمجھا تھا۔
اگر میں مڑ کر دیکھوں تو مجھے لگتا ہے کہ میں ما لا مال ہوں اور اپنی ثقافت اور نئی دنیا دونوں سے ربط میں ہوں لیکن جب میں اپنا موازنہ اپنے اس بھائی سے کرتی ہوں، جسے آبائی زبان نہیںآتی تو وہ ثقافت سے اتنا جڑا نہیں لگتا۔
پروفیسر ہاجیک کے تجربے سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ بچوں کو ورثے کی زبان کو منتقل کرنا کچھ خاندانوں میں تحفہ کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

“میرے لئے، ایک لسانیات دان کی حیثیت سے اور خود ایک دو نسلی برادریوں سے بھی تعلق رکھنے کے لئے زبان واقعی اس کا اہم حصہ ہے کیونکہ اس سے یہ جاننے میں بھی مدد ملتی ہے کہ میں کون ہوں، اور ایسی چیز ہے جسے میں اپنے بچوں کے ساتھ بانٹنا چاہتا ہوں، اور جو میرے بچوں کے دادا دادی بھی چاہتے تھے۔”
لیکن انہوں نے بتایا کہ زبان اور ثقافت کے مابین قریبی تعلقات کو ہر خاندان یا برادری کے لئے معتبر نہیں لیا جاسکتا ہے۔
یہ واقعی کمیونٹیز اور افراد پر منحصر ہے کہ ان ترجیحات میں کیا اہم ہے۔
وکٹوریہ میں، 12 سرکاری پرائمری اسکول ہیں جن میں نامزد دو لسانی پروگرام ہیں۔
اسٹینلے وانگ ایبٹسفورڈ پرائمری کے پرنسپل ہیں جو ریاست کا قدیم چینی دو لسانی پروگرام چلاتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اسکولوں میں طلباء کی تعداد کو متاثر کرنے والے عوامل میں سے ایک یہ ہے کہ تارکین وطن کمیونٹیز کی جانب سے زبان کو کردار سے کتنا منسوب کرتی ہیں۔
لیکن مسٹر وانگ شناخت اور رواداری کی تربیت میں زبان سے آگے دو لسانی تعلیم کے فوائد کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں، “جب ہم ایک دو لسانی ماحول پیش کرتے ہیں جہاں دونوں ثقافتوں کی تعریف کی جاتی ہے تو دو زبانوں کا استعمال مکمل طور پر معمول بن جاتا ہے جو دو ثقافتوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرتا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ سب سے طاقتور چیز ہے۔

بس حقیقت یہ ہے کہ دو زبانیں بولنے والوں کے پاس دونوں ماحول کی برابر حیثیت ہے، اور انہیں دونوں کلچرز کو دیکھنے اور پرکھنے کی مستقل ترغیب دی جاتی ہے... یہ ایک اہم طریقہ ہے جس کے ذریعہ ہم چاہتے ہیں کہ وہ اپنی ثقافت سے بھی جڑے رہیں۔
اپنے بچے کی تعلیم کی حمایت کرنے کے طریقے
اسکول سے باہر، خاندانی ماحول بچے کی دو لسانی پرورش کے لئے معاونت کا ایک اہم ذریعہ ثابت ہوسکتا ہے۔
پروفیسر ہاجیک کہتے ہیں۔کہ اگر تعلیم کے ذریعے آپ کو اپنی زبان کو برقرار رکھنے اور بچوں تک اسے پہنچانے کا موقع نہیں ملا ہے، تو آپ کے آس پاس اور بھی لوگ ہیں جو مدد کرنے کے قابل ہیں۔ لہذا، دادا دادی زبان اور ثقافت کی دیکھ بھال میں مدد کرنے میں بہت بڑا کردار ادا کرتے ہیں،”

انہوں نے تجویز کیا ہے کہ والدین اپنے علاقے میں زبان سکھانے کی معاون وسائل کا بھی استعمال کرسکتے ہیں، جس میں لائبریری مواد، کمیونٹی گروپس، اور کمیونٹی لینگویج اسکول شامل ہوسکتے ہیں۔
اسکول کی عمر کے دو بچوں کے والدین کی حیثیت سے، محترمہ زنگالیس کا کہنا ہے کہ وہ خوش قسمت ہیں کہ ان کے بچوں کو زبان سیکھنے کے لئے ایک قائم نیٹ ورک میسر ہوا
اور وہ ملک میں نئے آنے والوں کو بھی ایسے ہی عملی اقدامات کرنے کا مشورہ دیتی ہیں۔
اگر آپ ایک منظم نئے آنے والے تارکین وطن گروپ ہیں، جس میں ایک زبان کے مخصوص سیاق و سباق ہے، تو اسکولوں میں دو لسانی پروگراموں کے قیام کے لئے طلب کرنا ممکن ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ زبان میں لائبریری اسٹوری ٹائم گروپس جیسے چھوٹے پیمانے پر اقدامات شروع سے قائم کرنا آسان ہے۔
“ہم نے ابھی والدین کا ایک گروپ اکٹھا کیا، لائبریری سے رابطہ کیا... ہمارے پاس 20 والدین ہیں جو پروگرام کی حمایت کریں گے اور آئیں گے، اور تھوڑی سی آگاہی مہم اور مشاورت کے بعد ہم نے اسے چلا دیا۔”

مسٹر وانگ زبان کی تعلیم کو بچوں کی ضروریات کے مطابق بنانے کا مشورہ دیتے ہیں تاکہ زبان اور ثقافت سے تعلق کو بوجھ کے بجائے ان کی پرورش کا فطری حصہ محسوس کیا جائے۔
ایک اہم چیز ہے کہ والدین اور اساتذہ کو پہچاننے کی ضرورت ہے... اگر آپ کا بچہ آسٹریلیا میں بڑا رہا ہے تو، وہ جو زبان سیکھنے جارہے ہیں وہ آسٹریلیائی حقیقت کے مقصد کے مطابق ہونے کی ضرورت ہے۔
