Key Points
- یہ خیال کیا جاتا ہے کہ سیلاب کلاؤڈ سیڈنگ پروازوں کی وجہ سے ہوا ہو گا۔
- دبئی 24 گھنٹوں کے دوران 142 ملی میٹر سے زیادہ بارش کے باعث زیر آب آگیا۔
- پروازوں میں خلل پڑا، ہوائی جہاز کا عملہ ہوائی اڈے تک نہیں پہنچ سکا۔
متحدہ عرب امارات جو ایک صحرائی ملک ہے جبکہ اس کا دبئی ائیر پورٹ دنیا کے مصروف ترین ہوائی اڈوں میں شامل ہے تاہم گذشتہ روز سے ہونے والی شدید بارش نے نہ صرف پروازوں میں خلل ڈالا ہے بلکہ نظام زندگی بھی متاثر کیا ہے۔ اس صورتحال کا سامنا کرتے ہوئے اب یو اے ای اس بارش کے اثرات کو ختم کرنے کی کوشش کر رہا ہے
سرکاری خبر رساں ادارے ڈبلیو اے ایم نے بارش کو "ایک تاریخی موسمی واقعہ" قرار دیا جس نے "1949 میں ڈیٹا اکٹھا کرنے کے آغاز سے لے کر اب تک کی دستاویز میں درج کسی بھی موسمی ایمرجنسی کو پیچھے دیا ہے ۔ یاد رہے خام تیل سے مالا مال یہ ملک تیل کی دریافت سے پہلے برطانوی محافظ ریاستوں کا حصہ تھا جنہیں ٹروشیل ریاست کے طور پر جانا جاتا تھا

کئی رپورٹوں میں محکمہ موسمیات کے قومی مرکز کے ماہرین موسمیات کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ انہوں نے بارش سے پہلے چھ یا سات کلاؤڈ سیڈنگ پروازیں اڑائیں۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کی طرف سے فلائٹ ٹریکنگ ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا جس سے معلوم ہوا کہ متحدہ عرب امارات کی کلاؤڈ سیڈنگ کی کوششوں سے وابستہ ایک ہوائی جہاز نے پیر کو پورے ملک میں پرواز کی۔
ابوظہبی میں انگریزی زبان کے سرکاری اخبار دی نیشنل نے مرکز کے ایک گمنام اہلکار کے حوالے سے بتایا کہ منگل کے روز کوئی کلاؤڈ سیڈنگ نہیں ہوئی، جبکہ انہوں نے پہلے کی کسی پرواز کو بھی تسلیم نہیں کیا ۔
دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر جمع کیے گئے موسمیاتی اعداد و شمار کے مطابق، بارش پیر کو سہ پہر کے قریب شروع ہوئی، جس نے دبئی کی ریت اور سڑکوں کو 20 ملی میٹر پانی سے بھگو دیا۔
طوفان منگل کی صبح 9 بجے کے قریب شدت اختیار کر گیا اور دن بھر جاری رہا، جس سے شہر پر مزید بارش اور اولے برسے۔
اوسطاً ایک سال میں، دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر 94.7 ملی میٹر بارش ہوتی ہے، جو طویل فاصلے تک سفر کرنے والے ایمریٹس کی پروازوں کا مرکز ہے۔
منگل کی رات پروازوں کی آمد روک دی گئی تھی، اور مسافروں کو آس پاس کی سڑکوں پر سیلابی پانی کے باعث ٹرمینلز تک پہنچنے کے لیے جدوجہد کرنا پڑی۔

دبئی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے نے بدھ کی صبح تسلیم کیا کہ سیلاب نے "محدود نقل و حمل کے اختیارات" چھوڑے ہیں اور پروازوں کو متاثر کیا ہے کیونکہ ہوائی جہاز کا عملہ ہوائی اڈے تک نہیں پہنچ سکا۔
ایمریٹس نے کہا کہ ایئر لائن نے بدھ کی صبح 8 بجے سے آدھی رات تک دبئی سے روانہ ہونے والے مسافروں کے لیے چیک ان کو روک دیا تھا کیونکہ ائیر لائن ٹرانزٹ میں موجود مسافروں کے لئے ہوائی اڈے کو خالی کرنے کی کوشش کر رہی تھی – یاد رہے ٹرانزٹ میں موجود بت سے افراد کو ٹرمینلز میں جہاں جگہ میسر آئی سونا پڑا ۔
ایمریٹس کی سسٹر ایئر لائن فلائی دبئی کے مسافروں کو بھی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا۔
ہوائی اڈے کے سی ای او پال گریفتھس نے بدھ کی صبح سیلاب کے مسلسل مسائل کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ ہر جگہ جہاں ہوائی جہاز کو محفوظ طریقے سے پارک کیا جا سکتا ہے لے جایا گیا ہے۔
گریفتھس نے سرکاری ٹاک ریڈیو سٹیشن دبئی آئی کو بتایا کہ "یہ ایک ناقابل یقین حد تک مشکل وقت ہے۔ میری یاداشت کے مطابق، مجھے نہیں لگتا کہ کسی نے کبھی اس طرح کے حالات دیکھے ہوں گے

"ہمیں اب سے قبل اس طرح کے حالات کا سامنا نہیں کرنا پڑا، لیکن میں ہر ایک کو یقین دلاتا ہوں کہ ہم اپنے صارفین اور عملے کی دیکھ بھال کو یقینی بنانے کے لیے جتنا ممکن ہو سکے محنت کر رہے ہیں۔"
