نیو ساوتھ ویلز کے حکام کو شبہ ہے کہ چھ ماہ کی بچؔی کو والدین نے جان بوجھ کر نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے جس کہ باعث نہ صرف متاثرہ بچی بلکہ اس کے نوعمر بھائی کو بھی فیملی سے الگ کر کے سرکاری تحویل میں لے لیا گیا ہے۔

سڈنی مقیم پاکستانی خاندان کا دعویٰ ہے کہ ان کی بچی کی موجودہ حالت کا سبب کئی مہینوں سے جاری طبـؔی پیچیدگی اور وٹامن ’ کے‘ کمی ہے مگر ڈاکٹروں نے بروقت تشخیص کئے بغیر ان پر بچی کو نقصان پہنچانے کا الزام لگادیا ہے۔ والد کا دعوٰی ہے کہ ان کی اسِ بچی کو اُن کے کے چار سالہ بیٹے نے گود میں لینے کی کوشش کی جس کے باعث بچی گِر گئی۔ ہسپتال لے جانے پر ابتدائی ٹسٹ کے بعد بچی کو ویسٹ میڈ چلڈرن ہسپتال میں منتقل کر دیا گیا۔ جہاں سر کے سکین اور دیگر ٹیسٹ کے بعد طبی عملے نے بچی کی چوٹ کو مشتبہ قرار دیتے ہوئے فیملی اور جسٹس ڈییپارٹمنٹ سے رابطہ کیا۔ اس کے بعد حکام نے نہ صرف بچی کو بلکہ اس کے کم عمر بھائی کو بھی اپنی تحویل میں لے لیا۔ اب یہ معاملہ فیملی کورٹ میں ہے۔ ایس بی ایس اردو نے ہسپتال اور محکمہ صحت سے رابطہ کیا مگر حکام نے اس معاملے پر بیان میں کہا ہے کہ معاملہ خاندانی عدالت میں ہو نے کے باعث اس انفرادی کیس پر تبصرہ نہیں کر سکتے۔

بچوں کے والدین نےبچوں کی واپسی کی اپیل کی ہے۔
اس واقعے کی تفصیل کے لئے اس کے انگریزی ورژن پر کلک کیجئے
