حال ہی میں کرکٹ کیرئیر کا شاندار اختتام کرنے والے پاکستان کے سابق کپتان یونس خان کا کہنا ہے کہ وہ رواں سال کھیلے گئے سڈنی ٹیسٹ کو کبھی نہیں بھول سکتے۔
انھوں نے کراچی میں ایس بی ایس اردو کے نمائندے زیشان احمد سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ دنیا بھر میں جہاں جہاں انھوں نے کرکٹ کھیلی ادھر سینچری اسکور کی یہ ان کے لیے اعزاز کی بات ہے۔ لیکن آسٹریلیا میں سینچری اسکور کرنےکے لیے انھیں بہت انتظار کرنا پڑا۔
آسٹریلیا میں سینچری کے لئے خاص دعا کی تھی جو سڈنی ٹیسٹ میں پوری ہوئی
یونس خان نے آسٹریلیا میں چھ ٹیسٹ میچز کھیلے تاہم وہ پہلے پانچ میچز میں سینچری بنانے میں ناکام رہے مگر اسی سال جنوری میں کھیلےجانے والے سڈنی ٹیسٹ میں یونس خان ایک سو پچھتر رنزبنا کر ناٹ آوٹ رہے جس سے یونس خان نے گیارہ ممالک میں سینچری بنانے کا واحد کھلاڑی ہونےکا اعزاز اپنے نام کیا ۔

یونس خان نے بتایا کہ انھوں نے آسٹریلیا میں سینچری کے لئے خاص دعا کی تھی جو سڈنی ٹیسٹ میں پوری ہوئی۔
جنوبی آسٹریلیا کی جانب سے نا صرف مثبت کرکٹ کھیلنے کا گر سیکھا بلکے اپنے اپ کو فٹ رکھنے کا بھی
پاکستان کی جانب سے سب سے زیادہ ٹیسٹ رنز بنانے والے یونس خان کہتے ہیں دوہزار آٹھ اور نو میں جنوبی آسٹریلیا کی جانب سے کھیلنے کا تجربہ ان کے لیے بہت مفید رہا۔ جنوبی آسٹریلیا کی جانب سے نا صرف مثبت کرکٹ کھیلنے کا گر سیکھا بلکے اپنے اپ کو فٹ رکھنے کا بھی۔

آسٹریلیا میں کھیلنے کے تجربے کے بارے میں انکا کہنا تھا کہ آسٹریلین تماشائی کافی پر جوش ہیں۔ خاص طور پر آسٹریلیا میں موجود پاکستانی گرین کیپس کو بھرپور سپورٹ کرتے ہیں جس سے ٹیم کے اعتماد بڑھتا ہے انھوں نے اپنے آسٹریلیا میں مقیم فینز سے خواہش ظاہر کی وہ پاکستان کے لیے اپنی غیر مشروط سپورٹ جاری رکھیں۔
آسٹریلین تماشائی کافی پر جوش ہیں۔ خاص طور پر آسٹریلیا میں موجود پاکستانی گرین کیپس کو بھرپور سپورٹ کرتے ہیں جس سے ٹیم کے اعتماد بڑھتا ہے
انگلینڈ میں کھیلی جارہی آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی میں پاک بھارت میچ چار جون کو کھیلا جا ئے گا۔ اس بارے میں بات کرتے ہوئے یونس خان نے تجزیہ پیش کیا کہ پاکستان کی ٹیم بھارت کے خلاف جیتنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ گرین شرٹس اگر ایک عام میچ کی طرح کھیلیں گے تو ان پر دباؤ نہیں ہوگا۔
انھوں نے کہا کہ سرفراز احمد قومی ٹیم کی کپتانی احسن طریقہ سے سر انجام دے رہے ہیں مجھے امید ہے پاکستان ٹیم اچھا کھیل پیش کرے گی انھوں نے کہا کہ جو ٹیم اپنے اعصاب پر قابو رکھے گی وہی جیت اپنے نام کرے گی۔
