اس معاملے پر حکومت کا موقف واضح ہے - وہ نیٹ مائیگریشن کو کم کرنے کی کوشش کرتے ہوئے حقیقی دعووں اور اعلیٰ معیار کے درخواست دہندگان کے لیے ویزوں کی منظوری پر توجہ دے رہی ہے۔
واصل آزاد ایک امیگریشن کنسلٹنٹ ہیں اور پاکستان میں آسٹریلیا آنے والے طابعلوں کی درخوستیں دائر کرنے مین مدد کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈیپارٹمنٹ کی ویب سائٹ پر ڈیٹا تو جون 2023 تک کا موجود ہے لیکن ہم نے زیادہ تر درخوستیں اس کے بعد مسترد ہوتے دیکھی ہیں۔
’’ نا صرف درخواستیں مسترد ہو رہی ہیں بلکہ ہم یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ ویزہ پراسسنگ میں تاخیر بھی ہو رہی ہے اور ایک بڑی تعداد اس تاخیر کا شکار ہے۔‘‘
ان کا ماننا ہے کہ ان سب کا تعلق آسٹریلیا کی حال میں جاری امیگریشن پالیسی کے تناظر میں ہے۔
’’ پہلے یہ تھا کہ طالب علم نوکری کی خاطر آسٹریلیا جانے کی بھی کوشش کرتے تھے لیکن اب امیگریشن کی جانب سے زیادہ پوچھ گچھ اور انٹرویو کالز نے بھی اس چیز کو کافی پیچیدہ بنا دیا ہے۔‘‘
امیگریشن ڈیپارٹمنٹ کے ایک سابق ڈپٹی سیکرٹری ابو الرضوی نے صورت حال پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا، "ہم نیٹ مائیگریشن کو کم کرنے کے لیے طلباء کی بڑی تعداد سے انکار کر رہے ہیں، اور ہم ان ویزوں سے انکار کرنے کے لیے انتہائی سطحی معیار استعمال کر رہے ہیں، یعنی یہاں عام طور پر ایک ناقص ویزا ڈیزائن کی عکاسی ہوتی ہے۔"
رضوی حکومت کو ان مسائل کو حل کرنے کی ضرورت پر زوردینے کا کہتے ہیں، یہ تسلیم کرتے ہوئے کہ جہاں ویزا سے انکار کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، وہیں پچھلے سالوں کے مقابلے درخواست دہندگان کی تعداد بھی زیادہ ہے۔
وفاقی حکومت نے گزشتہ سال کے آخر میں طلباء کے ویزوں کو ہدف بنا کر اور ہنر مندوں کی نقل مکانی پر زیادہ زور دے کر نیٹ مائیگریشن کو کم کرنے کے منصوبوں کی نقاب کشائی کی تھی۔ اس اسٹریٹجک اقدام نے بظاہر ویزے مسترد ہونے کی شرح میں اضافے میں مدد کی ہے، جس سے تعلیمی شعبے پر پڑنے والے اثرات اور بین الاقوامی طلباء کے لیے ایک منزل کے طور پر آسٹریلیا کی ساکھ کے بارے میں خدشات پیدا ہوئے ہیں۔

غور طلب ہے کہ، رضوی کے مطابق، 2023 کے آخری چھ مہینوں میں اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے کچھ اقدامات کیے گئے ہیں۔ تاہم، یہ شبہ ہے کہ نیٹ مائیگریشن کے انتظام اور ویزا کی درخواست کے منصفانہ اور موثر عمل کو یقینی بنانے کے درمیان توازن قائم کرنے کے لیے مزید کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔
ویزا مسترد ہونے کی ان شرحوں کے مضمرات طلباء اور تعلیمی اداروں کے فوری خدشات سے کہیں زیادہ ہیں۔ بین الاقوامی طلباء کے لیے ایک خوش آئند مقام کے طور پر آسٹریلیا کی ساکھ داؤ پر لگی ہوئی ہے، اور اسٹیک ہولڈرز منصفانہ اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے ویزا درخواست کے عمل کا مکمل جائزہ لینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
واصل آزاد کا کہنا ہے کہ حکومت نیٹ مائیگریشن کو قابو میں رکھنے کے لیے اگلے دو سال تک یہ سختی برقرار رکھ سکتی ہے۔
چونکہ حکومت نقل مکانی کی پالیسیوں کو از سر نو تشکیل دینے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے، نیٹ مائیگریشن کے انتظام اور تعلیم کے شعبے کی ترقی میں معاونت کے درمیان صحیح توازن قائم کرنا بہت اہم ہوگا۔ آنے والے مہینوں میں ناقدین اور اسٹیک ہولڈرز کی طرف سے یکساں طور پر اٹھائے گئے خدشات کو دور کرنے کے لیے مزید پیش رفت اور ایڈجسٹمنٹ دیکھنے کو مل سکتی ہیں۔
