وارانگ یا سڈنی ۔ گاڈیگال اقوام کی سرزمین
سورج ابھرتے ہی سڈنی ہاربر میں اوپرا ہاوس پر مقامی ایبوریجنل اقوام کے باشندوں کے چہرہ جلوہ گر کیے گئے۔ اس کا ڈیزائن کوما قوم کے ڈیزائنر بریٹ لیوی نے تخلیق کیا ہے۔ صبح ساڑھے ساتھ بجے روایتی رقص ووگل وورا یعنی ایک ہجوم پیش کیا گیا۔
گاڈیگال قوم کی اس آبائی مٹی پر لوگوں کو خوش آمدید کہنے کے لیے مقامی میٹرو ایبوریجنل لینڈ کونسل کے ڈپٹی چیئرمین یوونی ولڈوون موجود تھے۔

یوم یلغار کا جلوس صبح نو بجے شہر کے وسطی علاقے سے نکلا جس میں مقررین نے اس مٹی پر ایبوریجنل اور ٹوریس جزائر کے باشندوں کے اصلی حقوق کو تسلیم کرنے کی عزم دہرایا۔
ان جلسے جلوسوں کے دوران فلسطین کے پرچم بھی واضح طور پر نظر آئے اور عوام کی جانب سے فلسطین کی آزادی کی بھرپور حمایت کی گئی۔

گارامیلا یا ڈارون ۔ لاراکیا اقوام کی سرزمین
آسٹریلیا کی شمالی ریاست میں لاراکیا اقوام کی سرزمین کے مرکزی شہر گارامیلا یا ڈارون میں شہر کے وسطی علاقے میں دھونی اور رقص کی روایتی تقریبات منعقد کی گئیں۔
لاراکیا اور ٹیوی قوم سے تعلق رکھنے والی اور اپرائزنگ آف دی پیپل کی چیف ایگزیکیٹیو میلیلما می نے اس موقع پر کہا کہ اس سرزمین پر مقامی اینجوریجنل اور ٹوریس جزائر کے باشندوں کے حق تسلیم کرنا ایک بہتر اور روشن مستقبل کے لیے ضروری ہے۔

مینجن یا برزبن ۔ یوگیرا اور تربال اقوام کی سرزمین
یہاں پر بھی ہزاروں افراد مینجن یا برزبن شہر کے وسط میں جمع ہوئے اور جلوس کی شکل میں شہر کے وسطی علاقے کا ایک چکر لگایا۔
ایجوریجنل پرچم لیے لوگوں نے مشہور اور معروف نعرہ "ہمیشہ تھی اور ہمیشہ رہے گی ایبوریجنل سرزمین" کے نعرے لگائے۔
یہاں پر بھی مظاہروں کے دوران فلسطین کے پرچم دکھائی دیے اور فلسطین کی آزادی کے نعرے لگائے گئے۔

ٹرنڈن ینگا یا ایڈیلیڈ ۔ کارونا اقوام کی سرزمین
ٹرنڈن ینگا یا ایڈیلیڈ شہر کے وسط میں جلوس وکٹوریہ اسکوائر کے پاس جمع ہوا اور مارچ کی شکل میں شہر کے وسطی علاقے سے گزرا۔ واضح رہے کہ جنوبی آسٹریلیا ریاست میں یہاں کی مقامی سطح پر وائس ٹو پارلیمنٹ کی منفرد روایت قائم ہے۔
مارچ کے دوران یہاں کے ایک متنازعہ ترقیاقی منصوبے ریورلی ڈیولپمنٹ پراجیکٹ پر بھی بات کی گئی۔

نارم یا میلبورن ۔ کیولن اقوام کی سرزمین
نارم یا میلبورن شہر میں اس برس بھی دیگر سالوں کی طرح یوم بقا کا یہ جلسہ ملک کا سب سے بڑا جلسہ رہا۔ بورکے اسٹریٹ پر آکر ٹہرنے والے اس جلسے میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ جلسے کے شرکاء نے اس سرزمین پر فرسٹ نیشن کے سالم حق کا احیاء کیا۔
