اس سال تیرہ ملین سے زیادہ آسٹریلین شہری اور رہائشی ٹیکس گوشوارے جمع کروا رہے ہیں۔ ٹیکس کے گوشوارے اور ٹیکس ریٹیرن کے طریقہ کار کا ایک اہم حصہ آسٹریلین ٹیکس آفس یا "اے ٹی او" کی طرف سے ٹیکس واپسی کی درخواستوں کا جائزہ لینا ہوتا ہے جب کہ کرونا وائیرس کے دوران آسٹریلین حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے کئی معاشی اقدامات کے باعث یہ معمول سے ایک مختلف ٹیکس سال ہے۔

چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس آسٹریلیا اینڈ نیوزی لینڈ کے مائیکل کروکر کا کہنا ہے کہ چھوٹے موٹے یا معمولی کام کرنے والے افراد جو پہلے بیروزگار کہلاتے رہے ہیں وہ ٹیکس ادا کرنے سے مستثنیٰ ہوں گے۔ مائیکل کروکر کہتے ہیں کہ گرچہ اٹھارہ ہزار دو سو ڈالر سالانہ سے کم آمدنی والے ملازمین سے ٹیکس نہیں لیا جائے گا مگر انہیں پھر بھی ٹیکس ریٹرن جمع کروانا ضروری ہے۔ اسی طرح ہالیڈے ویزا 417 اور 462 رکھنے والے افراد جن کی آمدنی سینتیس ہزار ڈالر سالانہ سے کم ہو وہ بھی ٹیکس سےمستثنیٰ ہیں۔
آسٹریلیا نے 40 سے زیادہ ممالک کے ساتھ ٹیکس معاہدوں پر دستخط کیے ہیں تاکہ حکومت ایسے افراد کے بارے میں معلومات حاصل کر سکے جو آسٹریلیا میں رہتے ہوئے بیرون ملک آمدنی حاصل کرتے ہیں ، اس طرح حکومت دہرے ٹیکس اور ٹیکس کی چوری پر نظر رکھ سکتی ہے۔
آسٹریلیا میں ملازمین کی لگ بھگ آدھی تعداد وفاقی حکومت کے کوڈ ۱۹ کے دوران معاشی بحران سے بچنے کے لئے متعارف کراوئے گئے جاب کیپر پروگرام کے تحت رقوم حاصل کر رہی ہے ۔ حکومت جاب کیپر پروگرام کے مستحق ملازمین کو سات سو پچاس ڈالر فی ہفتہ کی رقم تنخواہ کے طور پر دے رہی ہے۔
یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ جاب کیپر کے ذریعے وصول کی جانے والی رقم پر ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔

مائیکل کروکر کہتے ہیں کہ کرونا وائیرس کے باعث آنے والی تبدیلیوں کی وجہ سے یکم مارچ بر سرِ روزگار افراد کے لئے ایک اہم تاریخ تھی۔ کیونکہ یکم مارچ کو ملازمت پر موجود افراد جاب کیپر کی رقم کے اہل ہیں ۔ ان کے مطابق کچھ معاملات میں ایسے مالکان جنہوں نے طویل عرصے سے ملازمین کو برطرف کردیا ہو وہ ان کی ملازمت بحال بھی کر سکتے ہیں۔
ایڈیلیڈ کے کیلکولیٹیر کاؤنٹنٹس کلیم اللہ کا کہنا ہے کہ کچھ ملازمین کی جاب کیپر سے ملنے والی رقم ان کی اصل آمدنی سے ذیادہ ہو سکتی ہے۔ جاب کیپر کچھ کاروباری مالکان کے لئے ایک پیچیدہ عمل ہو سکتا ہے مگر اس عمل کو تیز کرنے کے لئے اقدامات کئے جا سکتے ہیں۔ وہ جز وقتی کام کرنے والوں کو اخراجات کا حساب رکھنے کا مشورہ دیتے ہیں
بہت سے اوبر اور فوڈ ڈیلیوری ڈرائیور بروقت اور درست ریکارڈ نہ رکھنے کے باعث ٹیکس ریٹیرن کا فائیدہ نہیں اٹھا سکیں گے
کوویڈ 19 کے سبب حکومت عارضی طور پر گھر سے کام کرنے والے لاکھوں آسٹریلین ملازمین کو 80 سینٹ فی گھنٹہ کی پیش کش کر رہی ہے۔ کلیم اللہ کا کہنا ہے کہ جو لوگ گھر سے اپنے دفتری کام کے لئے ایک بڑی جگہ استعمال کرتے ہیں وہ مزید ٹیکس ریٹیرن حاصل کر سکتے ہیں بشرطیکہ ان کے پاس گھر سے کام کے لئے خراجات کا درست طریقہ استعمال کرتے ہوئے تفصیلی ریکارڈ موجود ہوں۔

گھر سے کام کرنے والے تنہا کام کرنے والے سوِل ٹریڈر بھی ٹیکس میں چھوٹ کی اسی طرح کی رعائیت حاصل کر سکتے ہیں ۔ اسی طرح مورگیج اور کرائے پر بھی ٹیکس ریٹرن ممکن ہے مگر ٹیکس ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اس سے مالک مکان کے کیپیٹل گین ٹیکس پر اثرات پڑ سکتے ہیں۔
مائیکل کروکر کے مطابق ٹیکس گوشواروں کے بارے میں ریکارڈ سے باخبر رہنے کا عمل سیدھا ہے۔

اے ٹی او نے اردو کمیونیٹی سمیت سات سو کے قریب ثقافتی اور لسانی اعتبار سے مختلف کمیونٹی تنظیموں کے ساتھ مل کر ٹیکس کی معلومات تقسیم کرنے کے لئے کام کیا ہے۔ آپ اردو زبان میں اے ٹی او ٹیکس ٹاک پیج پر ٹیکس سے متعلق معلومات حاصل کر سکتے ہیں یا مشورہ کے لئے اے ٹی او کو
13 28 21
پر کال کرسکتے ہیں۔ اگر آپ کی آمدنی 000 60،000 ڈالر سے کم ہے تو آپ مفت ٹیکس کے بارے میں مفت مشورے اور امداد کے اہل بھی ہوسکتے ہیں۔اگر آپ کو اردو زبان میں مدد کی ضرورت ہو تو ، ترجمے اور ترجمان کی خدمات کے لئے
13 14 50
پر کال کریں اور اے ٹی او ہیلپ لائن سے اردو میں بات کرنے کے لئے کہیں ۔
https://www.covid19.act.gov.au/updates
آسٹریلیا میں لوگوں کو ایک دوسرے سے رابطے کے دوران کم ازکم ڈیڑھ میٹر کا فاصلہ رکھنا چاہیئے۔
اپنی ریاست یا علاقے میں کون سے پابندیاں ہیں یہ جاننے کے لئے اس ویب سائٹ کو وزٹ کیجئے۔
کروناوائرس ٹیسٹنگ اب آسٹریلیا بھر میں دستیاب ہے۔ اگر آپ میں نزلہ یا زکام جیسی علامات ہیں تو اپنے ڈاکٹر کو کال کرکے ٹیسٹ کرائیں یا پھر کرونا وائرس انفارمیشن ہاٹ لائن 080 180020 پر رابطہ کریں۔ وفاقی حکومت کی کروناوائرس ٹریسنگ ایپ کووڈسیف اب آپ کے فون پر ایپ اسٹور کے ذریعے دستیاب ہے۔ ایس بی ایس آسٹریلیا کی متنوع آبادی کو کووڈ ۱۹ سے متعلق پیش رفت سے آگاہی فراہم کرتا ہے ۔ یہ معلومات تریسٹھ زبانوں میں دستیاب ہے۔
