آسٹریلیا میں گزشتہ دو برسوں میں کرونا اور اس سے متعلق آگاہی اور سماجی فاصلوں کی بدولت فلو جیسی وبا بھی آبادی سے دور رہی لیکن جیسے جیسے یہ تمام پابندیاں ختم ہوتی جا رہی ہیں فلو سے نقصانات کا اندیشہ بڑھتا جا رہا ہے۔
محکمہ صحت کی جانب سے جاری کی گئی آسٹریلیا انفلوینزا سرویلنس رپورٹ 2022 کے مطابق رواں برس سات ہزار سے زائد لوگوں میں فلو کی تشخیص ہوئی جو کہ گزشتہ دو ہفتوں کے مقابلے تین گنا زیادہ ہے۔ جبکہ اپریل کے وسط تک فلو کے ہفتہ وار کیسسز پانچ سال کی اوسط سے تجاوز کر گئے تھے۔

وقاص اشرف کینبرا میں مقیم ہیں اور وہ اس برس آسٹریلینز کو فلو سے بچانے کے لیے ضرورت مندوں کو مفت ویکسین لگا رہے ہیں۔ وقاص نے ایس بی ایس اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا، ’ہم اس وقت وبائی امراض کی زد میں ہیں اور یہ ابھی تک ختم نہیں ہوا ہے۔ اس کے علاوہ اٹاگی کا کہنا کہے اس برس فلو کا سیزن آسٹریلیا میں بہت برا ہو گا اس لیے ہم نے سچا کہ مفت ویکسین بانٹ کر انسانیت کی خدمت کی جائے۔‘
وبائی مرض کے دوران، انفلوئنزا وائرس کی گردش میں کمی اور پچھلے سالوں کے مقابلے میں انفلوئنزا ویکسین کی کوریج کی کمی اور سرحدوں کے دوبارہ کھلنے کے باعث 2022 میں فلو کے دوبارہ پھیلنے کا خطرہ ہے۔

وقاص کی فلو ویکسین ڈرائیو خاص طور پر ان لوگوں کے لیے ہے جو ویکسین کی قیمت ادا نہیں کر سکتے اور کم علمی کے باعث فلو کا سکار ہو جاتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا،’ ہم نے شیلتر ہومز میں جا کر ایسے لوگوں کو ویکسین لگائی اور ہیلپنگ اے سی ٹی کی مدد سے یہ ویکسین ڈرائیو مکمل کی۔‘
وزیر صحت کے مطابق رواں برس موریسن سرکار نے اس موسم سرما میں خطرے میں موجود آسٹریلینز کے لیے ایک سو ملین ڈالرز سیزنل انفلوئینزا ویکسین پر خرچ کیے ہیں جنہیں این آئی پی کے تحت ویکسین لگائی جائے گی۔ لیکن اس میں ضرورت مند یا بے گھر لوگوں کا ذکر نہیں ہے۔ وقاص کا کہنا ہے کہ اہسے لوگوں کی مدد سے وہ اس وبا کو کم کرنے میں اور ان لوگوں کو محفوظ بنانے میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔
وقاص کی اہلیہ بھی فارماسسٹ ہیں اور اس ویکسینیشن ڈرائیو میں ان کی مدد کرتی ہیں۔ وقاص اور ان کی اہلیہ دونوں اپنی طھٹی کے دن یہ ڈرائیو کرتے ہیں اور انکا کہنا ہے کہ اس سے ان کا اپنا کام بھی متاثر نہیں ہوتا۔ ’یہ ہمارا ذاتی فیصلہ تھا اسی لیے ہم نے جمعے کو جب ہماری چھٹی ہوتی ہے ہم یہ کام کرتے ہیں۔‘

فلو ویکسین لگانے سے پہلے پری سکریننگ اور ویکسین لگنے کے بعد پندرہ منٹ اوبزرویشن میں رکھنے کی وجہ سے وقاص کا کہنا ہے کہ ایک دن میں کم لوگوں کو ویکسین لگ سکتی ہے۔ چار گھنٹے کی ڈرائیو میں انہوں نے تقریبا 35 لوگوں کو ویکسین لگائی۔
وقاص اس سے قبل بھی مختلف کمیونٹی کے لیے ڈائیوز کا انعقاد کر چکے ہیں اور گزشتہ برس وہ خون کا عطیہ لینے کے لیے بھی کام کر چکے ہیں۔ ان اک کہنا ہے کہ جس انداز میں ممکن ہو کمیونٹی کی مدد کرنی چاہیے۔
وقاص کا کہنا ہے کہ ویکسین کی قیمت کی مد میں وہ ایک ہزار ڈالرز اپنی جیب سے ادا کرتے ہی تا کہ اس وبا سےضرورت مند لوگوں کو بچایا جا سکے۔
آسٹریلین محکمہ صحت کے مطابق کرونا کی وبا سے قبل 2019 میں فلو کے تین لاکھ سے زائد کیسسز رپورٹ کیے گئے تھے۔ جن میں سے 3913 لوگوں کوانتہائی نگہداشت میں ہسپتال میں داخل کیا گیا۔
