
ڈونلڈ ٹرمپ سرخ لائین عبور نہ کریں
مسلم دنیا کی امریکی صدر کو تنبیہ
امریکی صدر ڈونالڈ ٹومپ نے مشرق وسطی میں سخت انتشار اور مسلم امہ کے شدید رد عمل کے خدشات کے باوجود ارادہ ظاہر کیا ہے کہ وہ اب بھی یروشلیم میں امریکی سفارت خانے منتقل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں
مبصرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ امریکی سفارت خانے کو یروشلیم منتقل کرکے' آگ سے کھیل رہے ہیں- یروشلیم کی حیثیت اسرائیل اور فلسطینی تنازعے میں مرکزی مسئلہ ہے، دونوں فریقین نے شہر پر اپنے دارالحکومت ہونے کا دعوی کر رکھا ہے۔
زیادہ تر بین الاقوامی برادری نے اسرائیل کے دارالحکومت کے طور پر یروشلیم کو باقاعدہ طور پر تسلیم نہیں کیا ہے، اس بات پر زور دیا کہ مسئلہ کو حتمی حیثیت کے مذاکرات میں حل کیا جاسکتا ہے.
1995 میں امریکی کانگریس اسرائیل میں سفارت خانے کی تل ابیب سے بیت المقدس منتقلی کی منظوری دے چکی ہے۔ اس کے بعد سے تمام صدور اس فیصلے پر عمل درآمد کو چھ ماہ کے لیے ملتوی کرتے رہے ہیں۔
ترکی کے صدر طیب اردغان نے کہا ہے کہ یروشلم کی حیثیت مسلمانوں کے لئے ایک 'سرخ لائن' ہے –اگر امریکہ یروشلم کو اسرائیلی دارلحکومت تسلیم کرتا ہے تو ترکی اسرائیل سے تمام تعلقات ختم کر لے گا۔ ردن کے وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے امریکی سیکریٹری خارجہ ریکس ٹیلسنسن کو خطرناک نتائج کے حوالے سے خبردار کیا ہے اگر وہ یروشلم کو اسرائیل کے دارالحکومت کے طور پر تسلیم کرے.
سعودی عرب ، فلسطین ، اردن ،مراکش ، ترکی ، مصر ، عرب لیگ کے علاوہ یورپی یونین اور امریکی محکمہ خا رجہ کے کئی عہدیداروں نے سفارتخانے کو مقبوضہ بیت المقدس منتقل کرنے کی مخالفت کی ہےتاہم امریکی صدر سعودی عرب ،مصر اور یورپ کے ان رہنمائوں سے رابطے میں ہیں اورمعاملے زیر موضوع ہے
امریکی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ سفارت خانے منتقل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، لیکن فلحال وہ ایک بیان جاری کر سکتے ہیں کہ وہ یروشلیم کو اسرائیل کے دارالحکومت کے طور پر تسلیم کرتے ہوءے مستقبل قریب میں امریکی سفارتخانہ یروشلیم منتقل کر دیں گے۔

فلسطینی تنظیم حماس کے سربراہ اسماعیل ہانیہ نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ امریکی اقدام سے خطرات میں اضافہ اور یہ تمام حدود کو پار کرنے کے مترادف ہوگا ۔
فلسطین کی درخواست پر عرب لیگ کا ہنگامی اجلاس قاہرہ میں ہوا ۔۔جس میں امریکی انتظامیہ کو خبردار کیا کہ اس قسم کے اقدام سے خطرناک نتائج مرتب ہوں گے ۔
حماس نے یروشلیم سے سفارت خانے منتقل کرنے کے منصوبے پر 'انفنا دہ' شروع کرنے کی دھمکی دی ہے
