آئی سی سی کے عالمی مقابلوں کی کہانی اس وقت تک مکمل نہیں ہوسکتی جب تک اس میں پاک بھارت میچ شامل نہ ہو۔
روایتی حریف پاکستان اور بھارت جب بھی جہاں بھی جس کھیل کے میدان میں آمنے سامنے آتے ہیں ، کھیلوں کے شائقین کا جوش و خروش اور دلچسپی اپنے جنونپر نظر آتی ہے۔ لیکن دونوں حریفوں کے درمیان جب میچ ہو کرکٹ کا اور ایونٹ ہو منی ورلڈ کپ کہلائے جانے والے چیمپئینز ٹرافی کا، تو کرکٹ کا ذوق نہ رکھنے والے شائقین بھی کرکٹ کے سحر میں جکڑے نظر آتے ہیں اور آجکل یہ سحر پاکستان اور بھارت میں یکساں طاری نظر آرہا ہے۔
کپتان سرفراز نہ صرف خود کسی بڑے بین الاقوامی ٹورنامنٹ میں ٹیم کی کپتانی پہلی مرتبہ کر رہے ہیں بلکہ پاکستانی ٹیم بھی پہلی مرتبہ چیمپئنز ٹرافی کے فائنل میں پہنچی ہے
پاکستان اور بھارت کے درمیان کل اوول کے میدان میں چیمپئنز ٹرافی کے فائنل کے لیے جو معرکہ ہونے جارہا ہے، وہ کئی لحاظ سے نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ اس فائنل کی ایک خاص بات تو یہ ہے کہ بھارتی کپتان کوہلی نہ صرف پہلی بار چیمپئینز ٹرافی کے لیے کپتانی کر رہے ہیں بلکہ ان کی ٹیم گزشتہ چیمپئینز ٹرافی کے فاتح ہونے کی حیثیت سے اپنے اعزاز کا دفاع کرے گی
دوسری جانب پاکستانی کپتان سرفراز نہ صرف خود کسی بڑے بین الاقوامی ٹورنامنٹ میں ٹیم کی کپتانی پہلی مرتبہ کر رہے ہیں بلکہ پاکستانی ٹیم بھی پہلی مرتبہ چیمپئنز ٹرافی کے فائنل میں پہنچی ہے۔ ایسی صورتحال میں دونوں کپتان خاصے دباؤ میں ہیں۔کپتان سرفراز احمد ورلڈ کپ 2006 میں انڈر 19 ٹیم کی کپتانی کرتے ہوئے بھارتی سورماوں کو پچھاڑ کر ٹائٹل اپنے نام کر چکے ہیں
اب اگر پاکستانی کپتان سرفراز احمد کے کرکٹ کرئیر کا جائزہ لیا جائے تو کوہلی کے مقابلے میں وہ کپتانی کا وسیع تجربہ نہیں رکھتے لیکن یہ قابل ذکر بات ضرور ہے کہ کپتان سرفراز احمد ورلڈ کپ 2006 میں انڈر 19 ٹیم کی کپتانی کرتے ہوئے بھارتی سورماوں کو پچھاڑ کر ٹائٹل اپنے نام کر چکے ہیں۔
۔19 فروری 2006 میں کولمبو میں ہونے والے اس فائنل میچ میں پوری پاکستانی ٹیم کمزور بیٹنگ کے باعث صرف 41.1 اوورز میں109 رنز بنا کر آوٹ ہو گئی تھی۔ تاہم پاکستانی بالرز کی بہترین کارکردگی کے باعث بھارتی ٹیم اس محدود ہدف تک پہنچنے میں بھی کامیاب نہیں ہو سکی تھی اور حریف ٹیم صرف 18.5 اوورز میں 71 رنز بنا کر 38 رنز کے مارجن سے شکست سے دوچار ہوئی
اس انڈر 19 ورلڈ کپ کے فائنل میں پاکستانی ٹیم کی کامیابی کا سہرا کپتان سرفراز احمد کے سر جاتا ہے جن کی کپتانی تلے پاکستان نے اُس پورے ٹورنامنٹ میں فتوحات کے سلسلے کو جاری رکھا اور فائنل تک پہچنے لیکن فائنل میں کپتان کے علاوہ جس نے جیت میں اہم ترین کردار ادا کیا، وہ تھے ال راونڈر انور علی، جنہوں نے 35 رنز کے عوض بھارت کی 5 وکٹیں حاصل کی اور مین آف دی میچ قرار پائے۔اُس کامیابی پر انور علی نے سرفراز احمد کی کپتانی کو خاصا سراہا اور چیمپئینز ٹرافی کے اتوار کو ہونے والے فائنل کے لئے انور علی نے ایس بی ایس اردوکے نمائندے ذیشان احمد سے بات کرتے ہوئے کپتان سرفراز احمد پر ایک بار پھر اعتماد کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ جب بھی پاکستان اور بھارت کے درمیان مقابلہ ہوا ہے ،اس میں اچھی کار کردگی دیکھانے والا کھلاڑی ضرور نام پیدا کرتا ہے اور انڈر 19 ورلڈ کپ میں جس طرح کی شاندار کپتانی سرفراز احمد نے کی تھی وہ نہایت زبردست تھی۔ اس لیے امید یہ ہی ہے کہ سرفراز ایک بار پھر اپنی اُس کپتانی کے تجربے کا فائدہ اٹھا کر کل کے میچ میں کامیابی حاصل کریں گے

انڈر 19 ورلڈ کپ 2006 میں سرفراز کی کپتانی میں کھیلنے والے ایک کھلاڑی رمیز راجہ بھی تھے جنہوں نے فائنل میں سب سے زیادہ رنز بنائے۔ رمیز راجہ نے 2006 انڈر 19 کے فائنل میں 25 رنز بناے ۔ سرفراز احمد کی انڈر 19 ورلڈ کپ اور چیمپینز ٹرافی میں کپتانی کی تعریف کرتے ہوے رمیز راجہ نے کہا کہ سرفراز کی اچھی بات یہ ہے کہ وہ ڈریسنگ روم کے ماحول کو چارجڈ رکھتا ہے اور جس طرح انڈر 19 کے ورلڈ کپ میں سرفراز نے کم اسکور کے باوجود ٹیم کو لڑایا اسی طرح پاکستان کو چیمپینز ٹرافی کا فائنل جتوانے میں بھی اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرفراز اپنی کپتانی میں ٹیم کو کبھی گرنے نہیں دیتا ،جس طرح بھارت سے پہلا میچ 124 رنز سے ہارنے کے بعد سرفراز نے ٹیم کا مورال برقرار رکھا، میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان چیمپینز ٹرافی کا فائنل بھی جیت جاے گا۔
دوسری جانب اگر ورلڈ کپ انڈر 19 کی ہی بات کی جائے تو بھارتی کپتان ویرات کوہلی بھی کپتانی کے میدان میں کامیاب نظر آئے اور ان کی کپتانی کی بدولت بھارتی ٹیم 2008 کے ورلڈ کپ انڈر19 کی فاتح رہی۔ فائنل ،ملیشیا میں جنوبی افریقا اور بھارت کے درمیان کھیلا گیا تھا جس میں جنوبی افریقا کو بھارت کے ہاتھوں D/L method کی بنا پر بارہ رنز سے شکست ہوئی تھی۔
اب انڈر 19کے دونوں کپتان ایک بار پھر آئی سی سی چمپیئنز ٹرافی کے فائنل میچ میں ایک دوسرے سے مدمقابل ہیں۔
ہمیشہ کی طرح اس میچ کو بھی پاکستانی بولنگ اور انڈیا کی بیٹنگ کا مقابلہ کہا جارہا ہے۔ اس وقت دونوں ٹیمیں اس ٹورنمنٹ میں اپنی کارکردگی کی بدولت فائنل جیتنے کے لیے مضبوط امیدوار ہیں ۔ لیکن دونوں ٹیموں کے درمیان کرکٹ کی تاریخ بھی کچھ ایسی رہی ہے کہ یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ کون سی ٹیم یہ فائنل میچ جیتے گی۔ یاد رہے کہ پاکستان اور انڈیا اس سے پہلے 50 اووروں کے مختلف کرکٹ ٹورنامنٹوں کے آٹھ فائنل میچوں میں آمنے سامنے آئے ہیں جن میں پاکستان نے چھ اور انڈیا نے دو مرتبہ کامیابی حاصل کی ہے۔ جبکہ کسی بھی آئی سی سی ٹورنامنٹ میں چیمپیئنز ٹرافی وہ واحد ایونٹ ہے جس میں پاکستان انڈیا کو ہرا چکا ہے۔ جبکہ ایک روزہ ورلڈ کپ میں ہونے والے چھ کے چھ میچ انڈیا نے جیتے ہیں البتہ فائنل میں کبھی دونوں کا آمنا سامنا نہیں ہوا۔
مزید
