پاکستان کی تین بار خاتونِ اول رہنے والی بیگم کلثوم نواز طویل علالت کے بعد منگل کو لندن کے ایک نجی ہسپتال میں انتقال کر گئیں۔ وہ تقریباً گذشتہ ایک سال سے لندن میں زیرِ علاج تھیں۔ انھیں پچھلے سال سرطان کے مرض کی تشخیص کی گئی تھی
ان کی نماز جنازہ جمعرات کو سوا بارہ بجے لندن کے ریجنٹ پارک اسلامک سنٹر میں ادا کی جائے گی اور اس کے بعد ان کا جسد خاکی جمعہ کی صبح چھ بجے لاہور ایئر پورٹ لایا جائے گا۔
حکومت پنجاب نے بیگم کلثوم نواز کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کی پیرول پر رہائی کی مدت میں توسیع کا فیصلہ کیا ہے۔
'نواز شریف کے لیے ذاتی طور پر اس دھچکے سے باہر آنا آسان نہ ہو گا'
سیاسی تجزیہ کار سجاد میر کے مطابق وہ اپنے سسر کی سب سے لاڈلی بہو تھیں اور نہایت کم گو بھی۔ سجاد میر نے ان کی علالت کے دوران کچھ بے حس تبصرے دینے اور افواہیں پھیلانے والوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایسا کرنا غیر شائستہ تھا پر شکر ہے کہ ان نے ایسی باتوں پر معافی مانگ لی ہے۔
سجاد میر کے مطابق بیگم کلثوم نواز نے احتجاجی سیاست کا آغاز کیا۔ انہوں نے مشرف دور میں نواز شریف کی غیر موجودگی میں بیگم کلثوم نواز کی ایک سالہ قیادت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہماری تاریخ کا اہم حصہ ہے، ان کی گاڑی کرین کے ذریعے سے اٹھا لی گئی تھی پر وہ اس میں بیٹھی رہیں اور ٹس سے مس نہ ہوئیں۔

سجاد میر نے بیگم کلثوم نواز کی اے آر ڈی کی تشکیل میں بھی ان کے فعل کردار کا ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ایک عقلمند خاتون تھیں، وہ پارٹی کارکنان کے لیے ایک بڑی بہن، ایک ماں کی طرح تھیں اور ان بیگم کلثوم نواز کا پارٹی میں کردار کبھی بھلایا نہیں جا سکتا۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ ان قربانیوں کا حصہ ہے جو شریف خاندان نے پاکستان کے لیے دی ہیں اور نواز شریف کے لیے ذاتی طور پر اس دھچکے سے باہر آنا آسان نہ ہو گا۔
بیگم کلثوم نواز عمر میں نواز شریف سے ایک برس چھوٹی تھیں۔ ان کا خاندان کشمیر سے تعلق رکھتا ہے جبکہ ان کی پیدائش لاہور میں ہوئی۔ وہ مشہورِ زمانہ پہلوان گاما کی نواسی تھیں۔ ان کی عمر 68 سال تھی۔ کلثوم نواز کے سوگوران میں ان کے شوہر نواز شریف، بیٹیاں مریم صفدر اور عاصمہ اور دو بیٹے حسن اور حسین نواز شامل ہیں۔




