- فنَ چِن آسٹریلیا سے ہانگ کانگ اپنے رشتے دارون سے ملنے گئے ہوئے تھے جب چین کے صوبے ہوبائی میں کسی وبائی مرض کے پھیلنے کی خبروں نے سر اٹھایا اور دیکھتے ہی دیکھتے اس صوبے کو وبا نے اپنی لپیٹ میں لے لیا اور پورا صوبہ لاک ڈاؤن کر دیا گیا۔ یہ وہ وقت تھا جس کے ایک مہینے بعد ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے کرونا وائرس کو عالمی وبائی بیماری قرار دے دیا تھا۔
صحت عامہ کے بڑھتے ہوئے بحران کے باعث آسٹریلیا اپنی سرحدیں بند کرنے پرغور کر رہا تھا۔
خوش قسمتی سے چِن اور اُن کی اہلیہ شام کی پرواز سے آسٹریلیا واپس پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔

قرینطینہ کے لئے عارضی رہائیش حاصل کرنا آسان نہیں تھا۔ کرائے پر کمرے دستیاب نہیں تھے اور کرائے بھی آسمان سے باتیں کر رہے تھے۔ آخرِ کار کافی جدوجہد کے بعد انہیں رہائیش مل گئی اور ان کے کھانے پینے کا سامان گھر والوں نے دروازے پر پہنچانے کا انتظام کر دیا۔
چن اب حکومت کے معاشرتی فاصلے کے اصولوں پر عمل پیرا ہیں
ان دنوں بیرون ملک سے آنے والے مسافروں کو ہوٹلوں موٹلز یا طلبأ کے ہوسٹلز پر ٹہرائے جارہے ہیں۔ وفاق ، ریاست اور ریجنل حکومتیں اس کے اخراجات اٹھا رہی ہیں۔ سیاحت کے شعبے میں 70،000 ملازمتیں ختم ہو نے کا خدشہ ہے۔

واحد مستثنیٰ نارتھرن ٹیری ٹیریز میں ہے جہاں لوگوں کو اپنے قیام کی لاگت پوری کرنے کے لئے ڈھائی ہزار ڈالر اور کنبے کو پانچ ہزار ڈالر ادا کرنے پڑتے ہیں۔ کچھ واپس آنے والے مسافروں نے اپنے ہوٹل کے قیام کو قید سے تشبیہ دی ہے۔ سیاحت آسٹریلیا وکٹورین کے جنرل منیجر ڈوگال ہولیس کا کہنا ہے کے ہوٹلوں اور عارضی رہائیش میں سیاحوں کی تعداد اسّی فیصد سے کم ہو گئی ہے۔پرتھ کے ایک ہوٹل میں قرنطینہ میں موجود 70 سالہ شخص انتہائی نگہداشت میں منتقل کئے گئے ہیں۔ قرنطینہ میں سہولیات نہ ملنے کی وجہ سے ان کی صحت بگڑگئی۔

واپس آنے والے مسافروں کوآسٹریلیا پہنچ کر یہ پتہ چلتا ہے کہ وہ قرنطیینیہ کے لئے کہاں جائیں گے ، ہالیس کا کہنا ہے کہ مہمانوں کو اپنی صحت اور علامات کی خود فکر کرنا پڑرہی ہے ۔جہاں تک وہ گھر میں قرنطینی کر سکتے ہیں ، یو ٹی ایس میں وائرس اور بائیوالوجی گروپ کی سربراہ ڈاکٹر لیزا سیجر بڑی عمر کے لوگوں کو اپنے پوتے پوتیوں سے دور رہنے کا مشورہ دیتے ہیں کیونکہ بچّوں سے بھی وائرس لگ سکتا ہے۔
آسٹریلین میڈیکل ایسوسی ایشن کے جنوبی آسٹریلیا کی شاخ کے صدر ڈاکٹر کرس موئے کا کہنا ہے کہ اگر آپ حال ہی میں بیرون ملک سے آئے ہیں یا کسی متاثرہ شخص کے ساتھ رابطے میں آئے ہیں تو آپ کو مشترکہ گھر میں خود کو الگ تھلگ رکھنے کے اصولوں پر عمل کرنے کی ضرورت ہوگی۔ ڈاکٹر سیجر روز مرہ کے استعمال کے برتنوں کو بھی الگ رکھنے کا مشورہ دیتےہیں۔

اپنے قریب کی امدادی خدمات کے بارے میں معلوم کرنے کے لئے آپ پیر سے جمعہ صبح 8 بجے سے شام 8 بجے تک اور ہفتے کے روز صبح 10 بجے سے دوپہر 2 بجے تک ایجڈ کیئر پر کال کرسکتے ہیں۔ اگر آپ کو یقین ہے کہ آپ کو یہ وائرس ہوسکتا ہے تو اپنے ڈاکٹر کو کال کریں یا قومی کورونا وائرس ہیلتھ انفارمیشن ہاٹ لائن
1800200422
پر رابطہ کریں۔ اگر آپ دباؤ کا شکار ہیں اور جذباتی مدد کی ضرورت ہے تو چوبیس گھنٹے کی معاونت کے لئے
13 11 14
پر لائف لائن پر کال کریں ۔ اگر آپ کو فوری طبی مدد کی ضرورت ہو تو ٹرپل صفر پر کال کریں۔
کرونا وائیرس کے بارے میں ہدایات
وفاقی حکومت کی ویب سائٹ کے مطابق کرونا وائرس کی علامات، ہلکی بیماری سے لے کر نمونیا کی علامات کی طرح ہوسکتی ہیں۔علامات میں بخار، کھانسی ،خراب گلا، تھکن یا سانس لینے میں دشواری شامل ہیں۔ اگر آپ میں بیرونِ ملک سے واپسی پر چودہ دن کے اندر یہ علامات پیدا ہوتی ہیں یا کسی کووڈ ۔ ۱۹ سے متاثرہ مریض سے رابطے میں آئے ہیں، تو فوری طبّی امداد حاصل کریں۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کو ٹیسٹ کرانا ہے تو اپنے معالج سے رابطہ کریں یا قومی کرونا وائرس ہیلتھ معلوماتی ہاٹ لائن پر فون کریں۔
فون نمبر۔ 1800020080
کرونا وائرس سے متعلق مزید خبریں اور معلومات ایس بی ایس اردو کی ویب سائٹ پر حاصل کریں۔
