پوری دنیا نے چالیس دن تک جنگل میں گمشدہ بچوں کی بازیابی کے مناظر حیرت اور خوشی سے دیکھے۔ ہر ایک یہ جاننا چاہتا تھا کہ فضائی حادثے میں بچ جانے والے یہ بھائی بہن ایمیزون کےجنگلوں میں چالیس دن تک کیسے رہتے رہے۔
یہ "معجزہ" نما ریسکیو ایک المناک ہوائی جہاز کے حادثے کے بعد ہوا، جس میں بچوں کی ماں اور دو دیگر بالغ افراد 1 مئی کو ہلاک ہو گئے۔
چار بہن بھائی، جن کی عمریں ایک، پانچ، نو اور 13 سال تھیں، حادثے میں بچ گئے لیکن کولمبیا کے جنوبی جنگل میں گم ہو کر خود کو زندہ رکھنے کی جدو جہد کرتے رہے۔۔
یہ چاروں بھائی بہن جمعے کو صوبہ کاکیٹا میں، فوج اور مقامی کمیونٹیز کی ہفتوں کی تلاش کے بعد پائے گئے۔
جانتے ہیں کہ یہ کم عمر نوجوان کیسے پانچ ہفتوں سے زیادہ جنگل میں اپنے طور پر زندہ رہنے میں کامیاب رہے، اور اب یہ آئیندہ کی زندگی کے بارے میں کیا سوچتے ہیں۔
آزمائش کیسے شروع ہوئی؟
آزمائش کا آغاز یکم مئی کی صبح ہوا، جب سیسنا 206 طیارہ جس میں سات افراد سوار تھے اورجہاز کاکیٹا کے اراراکوارا ہوائی اڈے اور صوبہ گوویئر کے ایک شہر سان ہوزے ڈیل گوویئر کے درمیان سفر کر رہا تھا جب اس کے انجن کی خرابی کی وجہ سے مے ڈے الرٹ جاری کیا۔
حکام کے مطابق یہ گروپ ایک مسلح گروپ کے ارکان سے فرار ہونے کی کوشش کر رہا تھا جنہوں نے دھمکیاں دی تھیں۔
طیارے میں سوار تین بالغ افراد، پائلٹ ہرنینڈو مرسیا مورالیس، یاروپاری مقامی رہنما ہرمن مینڈوزا ہرنینڈیز، اور بچوں کی والدہ میگڈالینا موکیوٹی ویلنسیا، حادثے میں ہلاک ہو گئے، اور ان کی لاشیں طیارے کے اندر سے ملیں۔

لیکن چار بہن بھائی، 13 سالہ لیسلی موکوٹی، 9 سالہ سولینی مکوٹی، پانچ سالہ ٹائین نوریل رونوک موکوٹی، اور ایک سالہ کرسٹین نیرومن رانوک فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔خاندان کے ایک رکن نے بتایا کہ بچوں میں سے سب سے چھوٹے بچے کی پہلی سالگرہ بھائی نے جنگل میں منائی۔
سب سے بڑی بہین لیسلیجس نے اس تمام وقت میں دو چھوٹی بہنوں اور بھائی کی رہنمائی کی اس کی بہادری کے چرچے عام ہیں۔

کولمبیا کے وزیر دفاع ایوان ویلاسکیز نے کہا کہ "یہ اس کی، اس کی قدر اور اس کی قیادت کی بدولت ہے کہ تینوں دیگر اس کی دیکھ بھال سے، جنگل کے بارے میں اس کے علم کے ساتھ زندہ رہنے میں کامیاب ہوئے۔"
حادثے کے بعد کئی ہفتوں تک بہن بھائیوں کے ٹھکانے کے بارے میں سراغ ملتے رہے کیونکہ آپریشن ہوپ کے نام سے تلاش جاری تھی۔
بچوں کی زندگی کا انحصار کس پر رہا؟
جیسے جیسے زندہ بچ جانے کی اس ناقابل یقین کہانی کی تفصیلات سامنے آرہی ہیں، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بہن بھائیوں نے اپنی 40 دن کی آزمائش کے دوران بہت کم کھایا -انہوں نے پہلے جہاز میں ملنے والی معمولی چیزوں پر انحصار کیا اور اسکے بعدجنگلی پھلوں اور بوٹیوں پر گزارہ کیا۔ریسکیو کے بعد کولمبیا کی فوج کی طرف سے شیئر کی گئی تصاویر میں بچے بہت کمزور نظر آئے۔
نامہ نگاروں سے بات کرنے والے خاندان کے ایک رکن کے مطابق، بچے پہلے تو کاساوا آٹا کھاتے رہے جو انہیں جہاز میں ملا تھا اور پھر کچھ بیجوں جنگل میں ملنے والے پھلوں پر انہوں نے انحصار کیا۔۔

فارینا ایک روایتی کھانا ہے جو ایمیزون میں مقامی برادریوں میں کھایا جاتا ہے یہ کاساوا کے پودے کی جڑ سے بنایا جاتا ہے۔
کولمبیا کے انسٹی ٹیوٹ آف فیملی ویلفیئر کے سربراہ Astrid Cáceres نے کہا کہ بچے جنگل سے پھل اور جڑی بوٹیان لیتے رہے۔
اس علاقے کے ارد گرد جہاں بچوں کے بارے میں خیال کیا جاتا تھا کہ وہ بچاؤ مشن کے دوران گم ہو گئے ہیںفضائیہ نے خوراک اور بوتل کے پانی کے پیکجوں کے ساتھ ساتھ 10,000 کتابچے بھی گرائے جن میں بقا کی ہدایات شامل تھیں، ۔
کس طرح مقامی علم اور 'جنگجو' جذبہ بقا کی کلید ثابت ہوا۔
مقامی دانشمندی اور ریسکیو مشن میں شامل مقامی لوگوں کی کوششوں کے ساتھ ساتھ قدیم قبائیلی علم کو ہہن بھائیوں کو زندہ رہنے میں مدد داینے کا سہرا دیا جا رہا ہے۔
چاروں چھوٹے بچے ہیوٹو انڈیجینس گروپ کے رکن ہیں، اور نسل در نسل جنگل میں زندہ رہنے کے بارے میں علم ان کے پاس پہنچانا ان کی بقا کی کلید ہے۔
کولمبیا کی نیشنل انڈیجینس آرگنائزیشن کے مقامی گارڈ کے رہنما لوئس اکوسٹا نے کہا، "یہ قبائیلی، مقامی حکمت اور مغربی حکمت کی مشترکہ علم کا نتیجہ تھا ساتھ ہی فوجی تکنیک اور روایتی تکنیک کے درمیان ایک ربط نے ان کا زندہ رہنا ممکن بنایا۔"
"اس امتزاج نے امید اور خوشی کو زندہ رکھا۔"

کولمبیا کے صدر گسٹاو پیٹرو نے بھی اس سے اتفاق کیا۔ انہوں نے کہا۔ کہ مقامی خاندانوں سے سیکھنے اور جنگل میں رہنے کے بارے میں علم نے انہیں زندہ بچایا ہے،"
دادی فاطمہ والنسیا نے کہا کہ سب سے بڑی، 13 سالہ لیسلی، اپنے "جنگجو" جذبے کی بدولت اپنے بہن بھائیوں کی حفاظت اور رہنمائی کرنے میں کامیاب رہی۔
انہوں نے کہا، "میں بہت شکر گزار ہوں، اور ماں دھرتی کی بھی، کہ انہیں آزاد کر دیا گیا۔"
سرچ آپریشن کے رہنما جنرل پیڈرو سانچیز نے اس مشن کی حتمی کامیابی کا سہرا 70 مقامی لوگوں کی سرزمین کے بارے میں گہری معلومات کو قرار دیا ۔ یہ افراد ریسکیو کی کوششوں میں 160 فوجیوں کے ساتھ شامل ہوئے۔
نوجوان زندہ بچ جانے والوں کے لیے زندگی میں آگے کیا ہے؟
بچوں کو کولمبیا کے دارالحکومت بوگوٹا کے ایک فوجی اسپتال لے جایا گیا، جہاں وہ اس وقت موجود ہیں۔
حکومت نے ہفتے کے روز کہا کہ بچے صحت کی "اچھی" حالت میں ہیں۔
صدر پیٹرو، ان کے اہل خانہ اور دیگر حکام نے ہفتے کی صبح ہسپتال میں بچوں کی عیادت کی۔

وزیر دفاع ویلاسکوز نے دورے کے بعد ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ بچے روبہ صحت ہیں۔۔ طبی رپورٹس کے مطابق، وہ خطرے سے باہر ہیں،"
بچوں کے بڑے چچا فیڈینسیو والنسیا نے ہسپتال سے باہر نکلتے ہوئے صحافیوں کو بتایا۔ کہ بچے بہت کمزور ہیں، لیکن میں جانتا ہوں کہ وہ اچھے ہاتھوں میں ہیں،"
"ہمیں ان کی اس سے بہتر حالت میں تلاش کرنے کی کبھی توقع نہیں تھی۔"
فوج کے میجر جنرل کارلوس رنکن نے کہا کہ بہن بھائیوں کو کچھ کیڑے کے کاٹنے اور دیگر معمولی چوٹیں آئیں، ل
اتوار کو، دو سب سے چھوٹے بہن بھائیوں کے والد نے کہا کہ وہ اپنی کہانی خود بتائیں گے کہ وہ اس آزمائش سے کیسے بچ گئے۔
ایک سالہ اور پانچ سالہ بچوں کے والد مینوئل رانوک نے ہسپتال میں ان کی عیادت کے بعد کہا کہ"بچے اپنی کہانیاں سنائیں گے، اور آپ انہیں سنیں گے،"
انہوں نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ "ان سے پوچھنا آسان نہیں ہے اس لیے میں تمام معلومات حاصل نہیں کر سکا ہوں۔"
مسٹر رانوک نے نامہ نگاروں کو یہ بھی بتایا کہ حادثے کے بعد بچوں کی ماں چار دن تک زندہ رہی، ایک اور خاندان کے رکن نے صحافیوں سے بات کرنے والے اکاؤنٹ سے اختلاف کیا۔ خبر رساں ایجنسی رائٹرز آزادانہ طور پر ان معلومات کی تصدیق کرنے کے قابل نہیں تھی۔
___________________________________________________
- کس طرح ایس بی ایس اردو کے مرکزی صفحے کو بُک مارک بنائیں یا ایس بی ایس اردو
کو اپنا ہوم پیج بنائیں۔
§ اردو پروگرام ہر بدھ اور اتوار کو شام 6 بجے (آسٹریلین شرقی ٹائیم) پر نشر کیا جاتا ہے
§ اردو پرگرام سننے کے طریقے
§ “SBS Audio” کے نام سے موجود ہماری موبائیل ایپ انسٹال کیجئے
یا اینڈرائیڈ
ڈیوائیسز پر انسٹال کیجئے
§ پوڈکاسٹ کو سننے کے لئے نیچے دئے اپنے پسندیدہ پوڈ کاسٹ پلیٹ فارم سے سنئے:
