کلیدی نکات
- جنوبی افریقہ نے اسرائیل پر غزه میں نسل کشی کا الزام لگایا ہے
- اسرائیل نے ان الزامات کو بے بنیاد قراردیا ہے۔
- اقوام متحدہ کی عدالت نے جمعرات کو جنوبی افریقہ کے دلائل سنےاور جمعہ کو ان الزامات پر اسرائیل کا جواب سنی گی۔
اسرائیلی وزیر اعظم بینجامن نیتانیاہو نے غزہ میں اسرائیل کے خلاف جنوبی افریقہ کے نسل کشی کے مقدمے کو “منافقت اور جھوٹ” قرار دیا ہے أ یہ مقدمہ ایسے وقت شروع ہوا ہے جب غزہ کے کچھ شہری شمالی غزہ واپس آئے ہیں جہاں مکمل تباہی کے مناظر دیکھنے کو ملے ہیں۔ اسرائیلی افواج شمالی غزہ سے واپس لوٹ رہی ہیں۔
تین ماہ کی اسرائیلی بم باری سے ساحلی حصہ تباہ ہو چکا ہے۔غزہ میں 23 ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے اور تقریبا 2.3 ملین فلسطینیوں کی پوری آبادی کو ان کے گھروں سے نکال دیا گیا ہے۔ اسرائیلی ناکہ بندی نے کھانے، ایندھن اور دوائیوں کی فراہمی کو فوری طور پر محدود کردیا ہے، جسے اقوام متحدہ نے اسے انسانی تباہی کے طور پر بیان کیا ہے۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ اپنا دفاع کرنے کا واحد ذریعہ غزا پر حکمرانی کرنے والے اسلام پسند گروہ حماس کو ختم کرنا ہے، جس کے جنگجوؤں نے 7 اکتوبر کو اسرائیلی برادریوں پر حملہ کیا تھا جس میں 1200 افراد ہلاک اور 240 اغوا کرلئے گئے تھے۔ اسرائیل فلسطینی شہریوں کی تکالیف اور تمام نقصانات کے لئے حماس کو موردِ الزام ٹھہراتا ہے۔
جنوبی افریقہ کے ذریعہ ہیگ میں بین الاقوامی عدالت آف جسٹس (آئی سی جے) کے مقدمے میں اسرائیل پر الزام عائید کیا گیا ہے کہ اسنے ہالوکاسٹ میں یہودیوں کے بڑے پیمانے پر قتل کے بعد بننے والے 1948 کے عالمی نسل کشی کے کنونشن کی خلاف ورزی کی ہے۔
جنوبی افریقہ کی ہائی کورٹ کی وکیل ٹیمبیکا نگکوکیٹوبی نے ہیگ کی عدالت کو بتایا، “اسرائیل کا غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف نسل کشی کا ارادہ ہے۔”
“ اسرائیل کی طرف سے اعلی سطح پر غزا کو تباہ کرنے کی پالیسی کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔”

جنوبی افریقہ نے عدالت سے ابتدائی حکم کا مطالبہ کیا تاکہ اسرائیل کوفوری جنگ بندی کا فیصلہ سنایا جائے مگر عدالت آنے والے مہینوں میں اس معاملے کی مکمل شنوائی کرے گی۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتانیاہو نے ایک سخت جواب میں کہا کہ “جنوبی افریقہ کی منافقت نمایاں ہے۔”
“ہم دہشت گردوں سے لڑ رہے ہیں، ہم جھوٹ سے لڑ رہے ہیں.۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل پر نسل کشی کا الزام ہے جبکہ وہ نسل کشی کے خلاف لڑ رہا ہے۔

فلسطینیوں نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ عدالت جنگ کو روک دے گی۔
جنوبی غزہ کے رفہ کے علاقے میں، جہاں رات گئے اسرائیلی حملے میں الارجانی خاندان کے افراد کی لاشوں کو تدفین سے قبل باہر رکھی گئی تھی،خاندان کے پڑوسی خمیس کیلاب نے تین بچوں میں سے سب سے چھوٹے کی لاش کو اٹھا کر اپنے بازوؤں میں ڈال دیا۔
“آئی سی جے کو نے سوال کیا کہ اس بچے کی کیا غلطی ہے؟ اس بچّی نے کیا کیا؟ اس نے کیا جرم کیا ہے؟ کیا وہ دہشت گرد تھی؟ کیا اس بچے نے راکٹ فائر کیا؟”
“یہ بچّی ایک خیمے کے اندر تھی، ٹھنڈک سردی میں، اسے حملہ کرکے مارا گیا، اوریہ دوسرا بچہ صرف چند دن کا ہے۔

غزہ جنگ نے عالمی رائے عامہ کو وسیع طور پر تقسیم کردیا ہے۔
حماس حملوں کی بے رحمی کے پیش نظر کئی یورپی ممالک اسرائیل کے خلاف نسل کشی کے الزامات کو ناجائز قرار دینے میں امریکہ کے ساتھ شامل ہوگئےہیں۔
لیکن برازیل سمیت کچھ ترقی پذیر ریاستوں نے جنوبی افریقہ کی حمایت کی۔جنوبی افریقہ کے صدر سیرل رامافوسا نے کہا کہ ان کا ملک “غزا کے عوام کے جاری قتل” اور جنوبی افریقہ کی اپنی نسل پرستانہ تاریخ کی وجہ سے اس مقدمے کو دائیر کرنے پر مجبور ہے۔
نئے سال کے بعد سے، اسرائیل نے جنگ میں ایک نئے مرحلے میں غزہ پٹی کے شمالی نصف حصے میں فورسز کو اتارنا شروع کیا جہاں اس کا جارحانہ عمل شروع ہوا تھا۔ اس کے باوجود، لڑائی جنوبی غزہ میں میں تیز ہوئی ہے۔
شمال اسوقت نسبتاً پرسکون ہے اور رہائشیوں کی واپسی کی خبریں ہیں ۔
ایک آزادانہ صحافی یوسف فارس نے اپنے آپ کو ٹوٹے پھوٹے مکانات اور کھنڈروں سے گھیرے ہوئے خاک میں چلتے ہوئے فلمایا جو کبھی غزا شہر کا ایک حصہ تھا، جس میں تقریبا ایک لاکھ افراد رہتے تھے۔ کچھ شہری چلتے نظر آرہے ہیں مگر انہوں نے بتایا کہ مکانات مکمل طور پر یا جزوی طور پر تباہ ہوگئے ہیں۔
_________
کس طرح ایس بی ایس اردو کے مرکزی صفحے کو بُک مارک بنائیں یا ایس بی ایس اردو کو اپنا ہوم پیج بنائیں۔
ہر بدھ اور جمعہ کا پورا پروگرام اس لنک پرسنئے
“SBS Audio” کے نام سے موجود ہماری موبائیل ایپ انسٹال کیجئے
ایپیل (آئی فون)یا اینڈرائیڈ ڈیوائیسز پر انسٹال کیجئے
پوڈکاسٹ کو سننے کے لئے نیچے دئے اپنے پسندیدہ پوڈ کاسٹ پلیٹ فارم سے سنئے:
