نادیہ خان ایک پروفیشنل شیف ہیں اور اب اپنا کھانا پکانے کا کام کر رہی ہیں۔ نادیہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے تعلیم اور فنی تربیت (ٹریننگ) کو اولیت دی ہے، ان کا کہنا ہے کہ وقت پر آڈر کی فراہمی، معیار پر سمجھوتہ نہ کرنا اور ذائقہ کے ساتھ اپنی خاص تراکیب ، یہ سب ان کی انفرادی پہچان ہیں۔
سنئے نادیہ خان کی باتیں اس پوڈ کاسٹ میں:
نادیہ نے کہا ہے کہ یہ تمام ہنر کامیاب فوڈ کیٹرنگ بزنس بنیادی جزو ہیں۔ نادیہ نے ایس بی ایس اردو کو بتایا کہ آسٹریلیا آنے سے پہلے انہیں کھانا پکانے کا کوئی شوق اور تجربہ نہیں تھا۔ انہوں نے یہاں آکر کوکنگ کا سرٹیفیکیشن کیا، نئے نئے کھانے پکانا سیکھے۔ تعریف ہوئی تو حوصلہ بڑھا۔
انہوں نے ایس بی ایس نیوز اورکو بتایا کہ ان کی دادی نے انہیں بریانی بنانی سکھائی۔ نادیہ کے مطابق کہ پاکستان میں بچوں سے لے کر بزرگ تک ہر عمر کے لوگ بریانی سے محبت کرتے ہیں۔
بعض اوقات اگر نادیہ کو کسی خاص کھانے کی ترکیب سمجھنے میں کوئی پریشانی ہوتی ہے تو، وہ اپنی دادی کو فون کرتی ہیں
میری دادی حیات ہیں۔ لہذا، یہ میری بڑی خوش قسمتی ہے کہ میں جب چاہوں ان سے ترکیبیں معلوم کرسکتی ہوں

نادیہ خان کا کہنا ہے کہ ان کے لئے آسٹریلیا میں اپنا کاروبار چلانا پاکستان کے ساحلی شہر کراچی کی طرزِِ زندگی سے ایک الگ اورنیا تجربہ ہے۔

نادیہ کہتی ہیں کہ پاکستان میں خواتین کی اکثریت گھر سے باہر کام نہیں کرتی، یا تعلیم بھی مکمل نہیں کرتی ہے، کیونکہ کچھ خاندان اس کی اجازت نہیں دیتے ہیں۔

نادیہ نے کئی کیفیز اور کچنز میں کام کر کے مزید پروفیشنل تجربہ حاصل کیا اور اب نادیہ خود اپنا کیٹیرنگ کا کام کر رہی ہیں۔نادیہ خان کا اپنا کاروباری کچن ہے۔
نادیہ خان کے لئے، ان کے شوہر سید محمد علی کی حمایت سب سے اہم ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ ان کے شوہر ایک بہت اچھے اور محبت کرنے والے شخص ہیں۔انہوں نے نادیہ کو اچھے کھانے پکانے پر حوصلہ دیا۔

نادیہ چاہتی ہیں کہ ان کا کیٹرینگ کا کام اتنا بڑھے کے پورے آسٹریلیا بلکہ میں پوری دنیا میں ان کی شاخیں ہوں اور لوگ کہیں نادیہ کے ہاتھ میں کیا مزہ ہے۔
