آسٹریلیا پر زور دیا گیا ہے کہ وہ عارضی نقل مکانی کی ایک بڑی اصلاح کے حصے کے طور پر 88 دن کے بیک پیکر "غلام" اصول کو ختم کرے۔
سینیٹ کی ایک کمیٹی نے بدھ کو 40 سفارشات پیش کیں جن کا مقصد نظام کو ٹھیک کرنا ہے۔
دو سالہ انکوائری میں 131 گذارشات موصول ہوئیں اور ان شعبوں میں اجرت چوری اور استحصال کے اہم شواہد سامنے آئے جن میں عارضی تارکین وطن مزدور زیادہ تھے۔

سفارشات کے تحت ، بیک پییکرز کے دوسرے سال کے ویزے کے اہل ہونے کے لیے 88 دن کے کام کی شرط ختم کردی جائے گی۔ آسٹریلیا نے آزاد تجارتی معاہدے کے حصے کے طور پر برطانوی بیک پیکرز کی ضرورت کو ختم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ لیبر سینیٹر اور کمیٹی کے چیئر راف سیکون نے کہا کہ "غلام" اقدام کو پورے آسٹریلیا میں ختم کیا جانا چاہیے۔
وہ چاہتے ہیں کہ ورکنگ ہالیڈے ویزا مزدوری کے بجائے ثقافتی تبادلے کے لیے بحال ہو۔
سینیٹر سِکون نے پارلیمنٹ کو بتایا ، "جن لوگوں نے ہماری کمیٹی سے بات کی وہ ہمیں بتایا کہ وہ رپورٹ کے بعد رپورٹ ، بینڈ ایڈ سلوشنز اور نظامی بہتری کی کمی سے تنگ آچکے ہیں۔"

رپورٹ میں محکمہ امور داخلہ کے لیے فنڈنگ میں اضافے کا مطالبہ کیا گیا ہے تاکہ ویزے کے مزید بروقت فیصلوں کو یقینی بنایا جا سکے۔
موسمی کارکنوں کے لیے آسٹریلیا کی قرنطینہ کی گنجائش میں اضافہ کیا جائے گا اور دو پیسفک لیبر سکیموں میں بہتری لائی جائے گی تاکہ فارم لیبر کی کمی کو دور کیا جا سکے۔
مزدوروں کا استحصال کرنے والوں پر عارضی تارک وطن کو ملازمت دینے کی پابندی لگائیں گے۔
تنخواہوں کی چوری سے نمٹنے کے لیے ایک چھوٹا کلیم ٹربیونل قائم کیا جائے گا اور جب تک کہ معاملات حل نہیں ہوتے ویزوں میں توسیع کی جائے گی ۔
اس رپورٹ میں فیئر ورک محتسب اور گھریلو امور کے مابین قانونی طور پرفائر وال کی سفارش بھی کی گئی ہے تاکہ استحصال کی اطلاع دینے والے اور عارضی تارکین وطن کی حفاظت کی جاسکے۔

سینیٹر سکون نے کہا کہ انکوائری نے زندگی کے تجربات کے وسیع میدان سے کہانیاں جمع کیں۔
انہوں نے کہا ، "ایک کہانی ہے جو ان میں سے تقریبا ہر ایک کے ذریعے سچ ثابت ہوتی ہے اور وہ ایک ٹوٹے ہوئے نظام کی کہانی ہے جو ان لوگوں کو انصاف فراہم کرنے میں ناکام ہو رہا ہے جن کو اس کی ضرورت ہے۔"
انہوں نے کہا کہ عارضی ویزا ورکر کا استحصال ، اجرت کی چوری ، جسمانی استحصال اور جنسی ہراسانی کی انکوائری کے دوران دستاویز کی گئی ہے۔

فارم لیبر کی قلت ، ویزا کی منظوری میں سالوں کا عرصہ اور علاقائی کمیونٹیز کو عارضی افرادی قوت کے اثرات سے دوچاررکھنا بھی اس انکوائری میں سامنے لایا گیا ہے۔
سینیٹر سکون نے کہا کہ سفارشات متعصبانہ نہیں تھیں اور حکومت پر زور دیا کہ وہ ایسے اقدامات پر سنجیدگی سے غور کرے جو مستقبل کی خوشحالی کے ضامن ہوں۔
رپورٹ میں حکومت ، صنعت اور یونینوں کی ایک نئی باڈی کی بھی سفارش کی گئی ہے تاکہ مہارت کی کمی(سکل شارٹیج) کی نشاندہی اور اس سے نمٹا جا سکے۔
یونینز کو ان کاروباری اداروں کے آڈٹ کرنے کا اختیار دیا جائے گا جن پر کارکنوں کے استحصال کا شبہ ہے۔
- پوڈ کاسٹ سننے کے لئے نیچے دئے اپنے پسندیدہ پوڈ کاسٹ پلیٹ فارم سے سنئے Spotify Podcast, Apple Podcasts, Google Podcast, Stitcher Podcast
- کس طرح ایس بی ایس اردو کے مرکزی صفحے کو بُک مارک بنائیں یا ایس بی ایس اردو کو اپنا ہوم پیج بنائیں
- اردو پروگرام ہر بدھ اور اتوار کو شام 6 بجے (آسٹریلین شرقی ٹائیم) پر نشر کیا جاتا ہے
- اردو پروگرام سننے کے طریقے
