آسٹریلوی ادارہِ صحت کے مطابق کووڈ ۔ انیس کی علامات سانس کی بیماری کی علامات سے ملتی جلتی ہیں اور ان میں بخار، حلق کی بیماری، تھکن اور سانس لینے میں دشواری شامل ہیں۔
خود ساختہ تنہائی کیا ہے اور گھر پر گھر والوں کے ساتھ اکیلے کیسے رہا جائے؟
ادارہِ صحت کا کہنا ہے کہ آسٹریلیا آنے والے تمام مسافروں کو چودہ دن خود ساختہ تنہائی میں گزارنے ہوںگے۔ بین القوامی مسافر اگر اندرونِ ملک سفر کررہے ہیں تو سفر مکمل کرنے کے بعد یہ عمل شروع کریں۔
آسٹریلیا میں جی پی ڈاکٹر افشاں میاں کا کہنا ہے کہ اگر آپ کو شبہ ہے کہ آپ کسی ایسے شخص سے رابطے میں آئے ہیں جسے وائرس ہے یا ان کو لگ رہا ہے کہ وہ خود بیمار ہیں تو فوری طور پر ہیلپ لائن کے ذریعے امدادی سروس سے رابطہ کریں۔
"ایسے لوگ جنہیں دل کی بیماری ہے یا جن کی عمر زیادہ ہے، انھیں عام لوگوں کے مقابلے میں زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔
اب تک اس کا کوئی علاج سامنے نہیں آیا ہے، قرنطینہ کے ذریعے ہی اسے روکا جارہا ہے۔"

اگر میں بیمار ہوجاؤں یا بیماری کا خدشہ ہو تو کیا کروں؟
- بیماری کی صورت میں اپنے گھر یا ہوٹل میں ہی رہیں
- خود کو دوسرے افراد سے الگ رکھیں اور علاحدگی اختیار کریں
- الگ باتھ رُوم کا استعمال کریں
- جب لوگوں کے نزدیک جائیں تو سرجیکل ماسک کا استعمال کریں
- اگر ماسک نہیں ہے تو اپنے منہ کو ڈھانپ کر کھانسیں یا چھینکیں
- ہاتھوں کو صابن سے کثرت سے دھوئیں
- ڈاکٹر سے رابطہ کریں اور اپنی سفری تفصیلا ت سے آگاہ کریں
- لوگوں سے ڈیڑھ میٹر کا فاصلہ رکھیں

ڈاکٹر افشاں میاں کا کہنا ہے کہ گھر میں خود ساختہ تنہائی کا عمل ایک مشکل مرحلہ ہے۔
"آپ کو لوگوں کے ساتھ ملنا ہے، ان کے ساتھ کھانا ہے۔
اب گھر میں تو کسی کو نہیں کہہ سکتے کہ پرے ہٹ جاؤ۔
"لیکن گھر میں ہی بہت سے اقدامات لینا ضروری ہے۔
"کسی کی تولیہ استعمال نہ کریں۔ اگر گھر میں ایک سے زائد باتھ روم ہیں تو ایک فرد ایک باتھ روم کا استعمال کرے۔
ڈاکٹر افشاں کا کہنا ہے کہ اگر گھر پر کوئی ملنے آتا ہے تو اس کے ساتھ بھی احتیاط کریں۔
قومی کرونا وائرس ہیلپ لائن:
1800 020 080
