امریکہ اور ایران کے مابین جھڑپیں جاری ہیں جبکہ امریکہ کی جانب سے مزید حملوں کے بعد ایران نے متنبہ کیا ہے کہ اگر ایرانی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا تو ایران خیلجی ممالک میں جوابی کاروائی کرے گا۔
ایران کہتا ہے کہ آبنائے ہرمز ایک 'سرخ لکیر' ہے، اور خبردار کرتا ہے کہ اگر امریکہ انفراسٹرکچر پر حملے کی دھمکیاں دیتا ہے تو وہ خلیجی خطے میں انفراسٹرکچر کو نشانہ بنا دے گا
ایرانی فوج کے مرکزی کمانڈ کے ترجمان ابراہیم ذوالفقار کے مطابق، ایران کسی بھی صورت میں امریکہ کو آبنائے ہرمز میں مداخلت کی اجازت نہیں دے گا۔
پانچویں رات کے حملوں میں، امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے متعدد مقامات پر چھ گھنٹے کی حملوں کی لہر مسلط کی تاکہ "ایران کی بے گناہ ملاحوں کو دھمکانے کی صلاحیت کو کمزور کیا جا سکے"۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ کہتی ہیں کہ وہ سمجھتی ہیں کہ ایران معاہدہ کرنے کے لیے بے تاب ہے۔




