(یہ تحریر نومبر ۲۰۲۱ میں پہلی بار شائع ہوئی اور قارئین کی دلچسپی کے لئے دوبارہ پوسٹ کی جا رہی ہے)
پاکستانی ٹیم میں نوآموز کھلاڑیوں کے ساتھ کچھ تجربہ کار کھلاڑی شامل ہیں اور امید کی جاسکتی ہے کہ نئے کھلاڑی اپنی مستقل جگہ بنانے کے لئے جی جان سے کھیلنے میدان میں اتریں گے۔ محمد موسیٰ، عثمان قادر، خوشدل شاہ، کاشف بھٹی اور نسیم شاہ پہلی بار ٹیم میں شامل ہوئے ہیں نسیم شاہ صرف سولہ برسکے جبکہ محمد موسی انیس برس کے ہیں۔ ان دونوں کی تیز رفتار بالنگ سے اور عثمان قادر کی آسٹریلیا میں اسپین بالنگ کے تجربے سے امیدیں وابستہ کی جا سکتی ہیں بابراعظم ٹیم کے ایسے مایہ ناز بلے باز ہیں جن پر بھروسہ کیا جا سکتا ہے مگر ابھی ان کی کپتانی کا امتحان ہونا باقی ہے۔مگر ماضی اور حال پر نظر ڈالنے سےزمینی حقائیق کو جاننے میں مدد مل سکتی ہے۔
۔سابق آسٹریلین کپتان اور کمنٹیٹر آئین چیپیل نے دو ہزار سترہ کے پاکستای ٹیم کے ناکام دورہ آسٹریلیا کے بعد کہا تھا کہ پاکستانی ٹیم کو آئیندہ اس وقت تک آسٹریلیا کے دورے پر نہیں بلانا چاہئے جب تک پاکستانی اپنی کرکٹ کو اتنا بہتر نہیں کر لیتے کہ وہ یک طرفہ مقابلوں کے بجائے چیلینج کرنے والی ہم پلہ ٹیم نہ بن جائیں۔ ظاہر ہے ان کے اس بیان کو پاکستانیوں نے آڑے ہاتھوں لیا تھا اور آسٹریلیا ہی میں اپنی ٹیم کے عالمی کپ اٹھانے کے مناظر، تصاویر، میمز اور ویڈیوز دکھا دکھا کر آئین چیپیل اور ان کے ہم نوائوں کوچڑاتے رہےتھے۔

’میں نہ مانوں‘ جیسی سرشت رکھنے والی پاکستانی ٹیم آئین چیپیل کے مشورے کے برخلاف اب ایک بار پھرخم ٹھوک کر آسٹریلیا کے دورے پر ہے اور یہاں رہنے والے پاکستانی کرکٹ کے شائیقین مہینوں پہلے میچز کے ٹکٹ لے کر لڈیاں ڈالنے کے منصوبے بنا چکے تھے مگر یہی شائیقین اس وقت عجب گو مگو کا شکار ہیں۔
عالمی کپ جتانے والا کپتان تو ’مہان‘ بن چکا مگر ٹی ٹونٹی کا عالمی کپ جتانے والے کپتان کو ٹیم تک میں جگہ نہ ملی۔
ادھر آسٹریلیا پہنچ کر مصباح الحق نے سڈنی میں اخباری کانفرنس میں کہا کہ آسٹریلیا کی کنڈیشنز کا مقابلہ آسان نہیں ہے۔ گرچہ آسٹریلیا نے متحدہ عرب امارات کی کنڈیشن میں پاکستان کو ہرایا اور بھارتی ٹیم پچھلے سال اسی طرح کی کنڈیشنز میں آسٹریلیاکو ٹیسٹ سیریز میں چِت کر کے جاچکی ہے۔
پچھلے مہینے سری لنکا کی نا تجربہ کار ٹیم کا پاکستان کا دورہ ختم ہونے کے بعد پاکستانی شائقینِ کرکٹ ون ڈے سیریز کی جیت بھُلا کر ٹی ٹونٹی کی ہار کے سناٹے میں آگئے۔ طوفان سے پہلے جیسا عارضی سناٹا اس وقت دوبارہ طوفان میں بدل گیا جب بیک وقت دو ٹوپیاں پہننے والے سابق کپتان مصباح الحق نے بالنگ کوچ کے ساتھ مل کر سب کو ٹوپی پہنائی اور کپتان اور وکٹ کیپر کو بائے بائے کیا اور آسٹریلیا بھیجنے کے لئے سری لنکا کی نقل کرتے ہوئے نو آموز کھلاڑیوں کا انتخاب کیا۔ یہ تو وقت ہی بتائے گا کہ واقعی جونئیرز پر مبنی یہ پاکستانی ٹیم اسُی طرح کے کرشمے اور چمتکار دکھا سکتی ہے یا نہیں جیسے سری لنکن ٹیم نے پاکستان کی ہوم سیریز میں دکھائے لیکن تازہ خبر یہ ہے کہ اس وقت وہی پاکستان سے جیتنے والی سری لنکن ٹیم آسٹریلیا سے کھیل رہی ہے اور آسٹریلیا کے ہاتھوں یکے بعد دیگرے ہار ہار کے دھوبی پاٹ کھانے میں مصروف ہے۔
ادھرآسٹریلین کپتان اورین فنچ نے سری لنکا کو ٹی ٹونٹی میں ہرانے کے بعد کہا ہے کہ ان کی ٹیم ٹی ٹونٹی میں چوتھے سے پہلے نمبر کی ٹیم بننے کی راہ پرگامزن ہے ۔ بریسبین کے ٹی ۲۰ میں سری لنکا کی دوبارہ نو وکٹ کی شکست کے تناظر میں کمینٹیٹر نے کچھ ویسے ہی تبصرے کئے جیسے آئین چیپیل نے دو ہزار سترہ کے پاکستای ٹیم کے ناکام دورہ آسٹریلیا کے بعد کئے تھے اور کہا کہ صرف ایسی ٹیموں کو آسٹریلیا بلائیں جو اچھا مقابلہ کر سکیں کیوں کہ یک طرفہ مقابلوں کے باعث شایقین کرکٹ سے دور بھاگ رہیں ہیں۔اب سری لنکا کے دورے کے خاتمے کے بعد پاکستان کی سیریز شروع ہو گی۔

لیجئےاب اونٹ آیا ہے پہاڑ کے نیچے ۔ کم از کم ہم جیسے گناہگاروں نے پچھلی دو دہائیوں میں آسٹریلیا کی سر زمین پر پاکستان کوآسٹریلیا میں ٹسٹ سیریز جیتتے نہیں دیکھا۔ ہاں سڈنی کے پاکستانی شائیقین کی طرح ہمیں بھی ورلڈ کپ ۲۰۱۵ کا وہ ایک وارم اپ میچ ہی یادگار لگتا ہے جس میں پاکستان نے انگلینڈ کے خلاف جیت حاصل کی تو سڈنی کرکٹ گراونڈ میں موجود لگ بھگ سات ہزار پاکستانی شائقین خوشی سے ایسے دیوانے ہوئے جیسے عالمی کپ اٹھا لیا ہو اور اس کی واحد وجہ ترسنے والے پاکستانیوں کی جیت کی پیاس تھی جو آج بھی برقرار ہے۔
پاکستانی کرکٹ شائیقین کی آسٹریلیا کے حوالے سے یادیں کچھ زیادہ اچھی نہیں ہیں اور اسی لئے اس نو آموز ٹیم پر کوئی بولی لگانے پر تیار نہیں۔ ٹی ٹونٹی کی نمبر ایک ٹیم کے مداح فی الحال سانس روکے ٹیم میں شامل نئے مہروں کی کارکردگی سے آس لگائے بیٹھے ہیں۔

پاکستانی ٹیم کے سنہ دو ہزار دس کے آسٹریلیا کے دورے کو عمراکمل کے (مبینہ طور پر) جان بوجھ کر چار کیچ گرانے اور اس کے نتیجے میں ہار کے باعث یاد کیا جاتا ہے بعد میں اس میچ فکسنگ کا اعتراف مظہر مجید نے برطانوی اخبار کی ایک خفیہ ویڈیو میں بھی کیا۔ پھر پرتھ کے ٹی ٹونٹی میچ میں قائیم مقام کپتان شاہد آفریدی پر دانتوں سے بال چبانے کا منظر ٹی وی کیمرے نے دنیا کو دکھایا تو ان پر دو ٹی ٹونٹی کی پابندی لگی جب کہ ایک روزہ سیریز پاکستان پانچ ۔ صفر سے ہارا۔اور دور کیوں جائیے اس سال آسٹریلیا کی ٹیم پاکستانی ہوم سیریز کھیلنے متحدہ عرب امارات پہنچی تو ڈیوڈ وارنر اور اسٹیو اسمتھ کی غیر موجودگی میں قدرے کمزور ٹیم تھی اور پاکستان کے پاس اس سیریز کو جیت کر آین چیپیل کے بیان کا حساب برابر کرنے کا اچھا موقع تھا مگر اس وقت پھر کارکردگی تجربات کی نظر ہو گئی جب پاکستانی ٹیم کے چھ سینیرز کو ریسٹ کے نام پربٹھال دیا گیا۔
شعیب ملک کی قیادت میں دوسرے درجے کی ٹیم میدان میں اتاری گئی جس نے پھر ساری امیدوں پر پانی پھیر دیا اور آسٹریلیا سے پرانے حساب چکانے کا نادر موقع گنوا کر ہار کو گلے لگایا۔ پھر جس ورلڈ کپ کی تیاری کے لئیے یہ سینئیرز بٹھائے گئے تھے وہ کھلاڑی پریکٹیکس اور موریل دونوں ہی سے دور ہو گئے جس کے بعد ارڈ کپ میں ٹیم کی کارکردگی کیا رہی اس کی تفصیل میں جا کر دل جلانا اور صفحے سیاہ کرنا فضول ہے۔

ادھر ٹیم میں نیا خون لے کر آنے والے مصباح نے عثمان قادر کو آزمانے کا فیصلہ کر کے عبدلقادر کے اس بیٹے کو بھی مشکل میں ڈال دیا کیونکہ عثمان، فواد احمد کی طرح آسٹریلیا کی شہریت لے کر ٹی ٹونٹی عالمی کپ میں آسٹریلین اسکواڈ میں شامل ہونے کو اپنے ترجیح قرار دے چکے تھے۔ اس سے پہلے مصباح کی قیادت میں نیوزی لینڈ جانے والی پاکستانی ٹیم میں عثمان قادر کا نام موجود تھا مگر بوجوہ دیگر عثمان اس دورے میں نہیں بھیجے گئے جس سے دلبرداشتہ ہو کرانہوں نے دو سال کرکٹ چھوڑ دی اور بعد میں آسٹریلیا میں پرتھ اسکروچرز کی طرف سے بگِ بیش کھیلتے رہے اور اس وقت بھی سڈنی کے ہاکسبری کرکٹ کلب کی طرف سے کھیلتے ہیں۔
خدا کرے ان کا آسٹریلیا میں کھیلنے کا تجربہ ہی پاکستان کے کچھ کام آجائے اور وہ ایسی کارکردگی دکھا سکیں جس سےاگر وہ آسٹریلین سلیکٹیرز کی نظر میں بھی آ گئے تو پھر ان کے لئیے ان کے لئے فیصلہ مشکل ہو گا کہ پاکستانی اور آسٹریلین ٹیم میں سے کس کا انتخاب کریں۔ ادھر اس بار کرکٹ کے کرتا دھرتا تجربوں کے لئے آسٹریلیا کی سر زمیں کا انتخاب کر بیٹھے ہیں اور آسٹریلیا میں معیاری کرکٹ مقابلوں کے لئے میلبورن کرکٹ گراونڈ کو تاریخی اہمیت حاصل ہے جہاں پاکستان نے عالمی کپ جیتا تھا مگر اس بار اسٹیڈیم کی گنجائیش اور بھی ذیادہ ہے اور منتظمیں شائید رسک نہیں لینا چاہتے اس لئیے پاکستان کا کوئی میچ ایم سی جی کے تاریخی گراونڈ میں نہیں۔۔۔ بہر حال نتیجہ کچھ بھی ہو، اسٹیڈیم جانے والے کئی پاکستانی شایقین اس شش و پنج میں ہیں کہ روایتی ہری جرسی پہن کر جانے پر کہیں ان کی طبعیت ہی ہری نہ ہو جائے۔ مگر تمام تر اندیشوں وسوسوں اور خدشات کے باوجود پاکستانی ٹیم کا آسٹریلیا منتظر ہےگر چہ ماضی کے دورہ آسٹریلیا کے پس منظر میں پاکستانی شائیقین کےزخم پرانے ہیں اور اگر بھرے تو بھرتے بھرتے ہی بھریں گے۔
پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان تین ٹی 20 اور دو ٹیسٹ میچز کھیلے جائیں گے۔ پہلا ٹی ٹوئنٹی میچ تین نومبر کو سڈنی میں، دوسرا پانچ نومبر کو کینبرا میں اور سیریز کا آخری میچ آٹھ نومبر کو پرتھ میں کھیلا جائے گا۔جبکہ پہلا ٹیسٹ برسبین میں 21 نومبر کو اور دوسرا اور آخری ٹیسٹ 29 نومبر سے تین دسمبر تک ایڈیلیٹ میں کھیلا جائے گا۔
____________
کس طرح ایس بی ایس اردو کے مرکزی صفحے کو بُک مارک بنائیں یا
ایس بی ایس اردو کو اپنا ہوم پیج بنائیں۔
ہر بدھ اور جمعہ کا پورا پروگرام اس لنک پرسنئے
“SBS Audio” کے نام سے موجود ہماری موبائیل ایپ انسٹال کیجئے
ایپیل (آئی فون)یا اینڈرائیڈ ڈیوائیسز پر انسٹال کیجئے
پوڈکاسٹ کو سننے کے لئے نیچے دئے اپنے پسندیدہ پوڈ کاسٹ پلیٹ فارم سے سنئے:
