آسٹریلیا میں وفاقی انتخابات میں مائی گریشن ایک اہم موضوع ہے اور ہر پارٹی اس سے منسلک حکمتِ عملی کا ذور و شور سے پرچار کر رہی ہے۔
بارڈر سیکورٹی اور پناہ گزین
تقریباً ایک مہینے پہلے حکومتی اتحاد انتخابات میں بارڈر پالیسی کو سب سے بڑے مسئلے کے طور پر لے کر چل رہا تھا اور پناہ گزینوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو ایک خطرہ ظاہر کیا جارہا تھا۔
کئی حکومتی وزیروں نے یہ تاثر دیا تھا کہ مانوس آئی لینڈ اور ںارو سے آنے والوں کے ذریعے جرم پیشہ افراد بھی آسٹریلیا میں داخل ہوجائیں گے، جب لیبر اور کراس بینچ کے اراکین نے ڈاکٹروں کو طبّی وجوہات کی بنا پر زیادہ اختیارات کا بِل پاس کرایا تھا۔
مارچ میں جو کرسمس آئی لینڈ کا ڈیٹینشن سینٹر جسے وزیر اعظم نے خود دوبارہ کھولا تھا، اب جولائی میں اسے بند کرنے کا عندیہ دیا جارہا ہے۔
اس پورے اقدام کی لاگت ایک سو پچاسی ملین ڈالر بتائی جارہی ہے۔
اور جب سے وفاقی انتخابات کے لیئے سرگرمیاں شروع ہوئی ہیں تب سے اب تک بارڈر سیکورٹی پر گفتگو ہی نہیں ہوئی ہے۔

دوسری جانب لیبر کا اپنی پالیسی میں کہنا ہے کہ انسانی حقوق کے باعث آسٹریلیا میں آنے والوں کی حد ستائیس ہزار تک رکھی جائی گی۔
جس پر حکومتی اتحاد کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے ملک کو چھے ارب ڈالر کا خرچہ آئے گا۔
لیبر نے حکومتی دعوے کو غلط قرار دے دیا۔
"آف شور ڈیٹینشن" کی سب سے زیادہ مخالفت گرینز نے کی ہے۔ پارٹی کا موقف ہے کہ تمام پناہ گزینوں کو آسٹریلیا کی سرزمین پر ہی رکھا جائے اور حراست میں رکھنے کی حد بھی صرف سات دنوں تک محدود کی جائے۔

مائی گریشن اور آبادی کا دباؤ
حکومت کی جانب سے یہ نعرہ لگایا جارہے ہے کہ ملک کے بڑے شہروں، سڈنی اور میلبورن میں آبادی کے بڑھتے ہوئے دباؤ کی وجہ مائی گریشن سے آنے والے تارکینِ وطن ہیں۔ حکومت کی کوشش ہے کہ شہروں میں اس دباؤ کی روک تھام کی جائے۔
کرائسٹ چرچ حملے کے بعد وزیرِاعظم اسکاٹ موریسن نے مستقل مائی گریشن کی حد ایک لاکھ نوّے ہزار سے کم کرکے ایک لاکھ ساٹھ ہزار کردی ہے۔
"اگرچہ میلبورن میں رہنے والے ٹریفک جام اور شہر کی زندگی پر پریشان ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ مائی گریشن کے خلاف یا نسل پرست ہیں۔" وزیرِ اعظم اسکاٹ موریسن
لیبر پارٹی کی مائی گریشن کی حد میں کٹوتی کی حمایت حکومتی اتحاد کے لئے فائدہ مند ثابت ہوئی۔
گرینز پارٹی نے وفاقی ملٹی کلچرل ایکٹ بنانے کا اعلان کیا ہے۔ اس کے علاوہ نسل پرستی کے خلاف مہم چلانے کا بھی کہا ہے۔

ویزا پالیسی
ایک طرف مستقل مائی گریشن کو روکنے کے لئے حکومت کی جانب سے کوششیش کی جارہی ہیں، تو دوسری طرف عارضی ویزوں میں کافی اضافہ ہوا ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ کاروباری طبقے کو چاہیئے کہ وہ آسٹریلین ورکر ہی کو کام فراہم کرے۔ لیبر کی کمی کو پورا کرنے کے لئے "ویزا پراسیسنگ" کے اوقات میں بہتری لانے کے لئےحکومت اقدامات لے رہی ہے۔
حال ہی میں والدین کے لئے نئے عارضی ویزا کے اعلان پر مائی گرنٹ کمیونٹی نے سخت ردِ عمل کا اظہار کیا ہے۔
لوگوں نے اعتراض اٹھایا ہے کہ ویزا فیس بہت زیادہ ہے جبکہ کچھ شرائط پر عمل کرنا کافی مشکل ہے۔
لیبر پارٹی کا کہنا ہے کہ ان کے دور میں ویزا فیس میں کمی اور شرائط میں نرمی لائے جائے گی۔
۔ایس بی ایس اردو کوفیس بک اور ٹوئٹر پرفالو کیجئے۔
اور ایس بی ایس اردو ریڈیو پروگرام کو بدھ اور اتوار کی شام رات چھے بجے سنیئے۔
