آج کے آسٹریلیا میں کامیاب کیریئر کے لیے صرف ڈگری کافی ہے یا اس کے ساتھ Leadership، Networking اور عملی تجربہ بھی ضروری ہے؟ اسی اہم سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے ہم نے بلال احمد سے خصوصی گفتگو کی، جو Swinburne University میں طلبہ کی نمائندگی اور قیادت کے حوالے سے سرگرم نوجوان ہیں۔ بلال نے اس گفتگو میں نوجوانوں کے لیے قیادت کے مواقع، یونیورسٹی کی زندگی اور مستقبل کے حوالے سے اپنے تجربات اور خیالات کا اظہار کیا۔
بلال احمد کے مطابق حقیقی قیادت کسی عہدے یا منصب سے نہیں بلکہ ذمہ داری قبول کرنے، دوسروں کی بات سننے اور مثبت تبدیلی کے لیے عملی قدم اٹھانے سے جنم لیتی ہے۔
نوجوان اگر اپنی جامعہ کی مختلف سرگرمیوں میں حصہ لیں، دوسروں کے ساتھ مل کر کام کریں اور اجتماعی مسائل کے حل میں اپنا کردار ادا کریں تو ان میں اعتماد، فیصلہ سازی اور رہنمائی جیسی صلاحیتیں قدرتی طور پر پروان چڑھتی ہیں۔ بلال احمد کا کہنا ہے کہ نوجوانوں کو مواقع کے انتظار میں نہیں رہنا چاہیے بلکہ انہیں خود آگے بڑھ کر دستیاب مواقع تلاش کرنے چاہییں۔
آسٹریلیا میں پیشہ ورانہ زندگی کے سفر میں لوگوں سے مثبت اور بامقصد تعلقات قائم کرنا بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ بلال کے مطابق نوجوانوں کو اپنے اردگرد موجود لوگوں سے سیکھنے، تجربات بانٹنے اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد سے رابطہ قائم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ایک اچھا تعلق بعض اوقات ایسے دروازے کھول دیتا ہے جن تک صرف تعلیمی قابلیت کے ذریعے پہنچنا ممکن نہیں ہوتا۔
بلال احمد کی گفتگو کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ کامیابی ایک مسلسل سفر ہے۔ اس سفر میں تعلیم بنیاد فراہم کرتی ہے، عملی تجربہ اعتماد پیدا کرتا ہے، مسلسل سیکھنے کی عادت انسان کو آگے بڑھاتی ہے اور قیادت اسے معاشرے میں مثبت کردار ادا کرنے کے قابل بناتی ہے۔
آسٹریلیا میں اپنے مستقبل کی تعمیر کرنے والے نوجوانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی صلاحیتوں پر اعتماد کریں، دستیاب مواقع سے فائدہ اٹھائیں اور اپنی منزل کے حصول کے لیے مستقل مزاجی کے ساتھ محنت کریں۔
___________________________
جانئے کس طرح ایس بی ایس اردو کے مرکزی صفحے کو بُک مارک کریں
ہر بدھ اور جمعہ کا پورا پروگرام اس لنک پرسنئے, اردو پرگرام سننے کے دیگر طریقے, “SBS Audio” کےنام سےموجود ہماری موبائیل ایپ ایپیل (آئی فون) یااینڈرائیڈ , ڈیوائیسزپرانسٹال کیجئے۔




