آسٹریلوی وفاقی بجٹ 2026 میں ہنرمند تارکینِ وطن اور بین الاقوامی طلبہ کے لیے نئی ترجیحات سامنے آئی ہیں۔ حکومت نے اسکلڈ مائیگریشن کو معیشت کی ضروریات سے ہم آہنگ کرنے جبکہ اسٹوڈنٹ ویزا درخواستوں کی جانچ مزید سخت کرنے کے اشارے دیے ہیں۔ سینئر مائیگریشن ماہر شکیل احمد نے ایس بی ایس اردو سے گفتگو میں ان تبدیلیوں کے ممکنہ اثرات پر روشنی ڈالی۔
آسٹریلوی حکومت نے وفاقی بجٹ 2026 میں مائیگریشن پالیسی کو معیشت کی ضروریات کے مطابق ڈھالنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ بجٹ میں خاص طور پر اسکلڈ مائیگریشن پروگرام کو ترجیح دینے، ورک فورس کی کمی کا سامنا کرنے والے شعبوں میں ہنرمند افراد کو متوجہ کرنے، اور بین الاقوامی طلبہ کے ویزا نظام کی نگرانی مزید سخت کرنے کے اشارے دیے گئے ہیں۔
سینئر مائیگریشن ماہر شکیل احمد کے مطابق حکومت کا فوکس اب ایسی مائیگریشن پالیسی پر ہے جو آسٹریلیا کی لیبر مارکیٹ کی ضروریات کو براہِ راست سپورٹ کرے۔ ان کا کہنا ہے کہ صحت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، تعمیرات اور علاقائی آسٹریلیا جیسے شعبوں میں ہنرمند افراد کی طلب برقرار رہنے کا امکان ہے۔
دوسری جانب، حکومت نے اسٹوڈنٹ ویزا درخواستوں کی جانچ کے عمل کو مزید مؤثر اور سخت بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ شکیل احمد کے مطابق حقیقی طلبہ کے لیے مواقع بدستور موجود رہیں گے، تاہم درخواستوں میں مالی حیثیت، تعلیمی پس منظر اور آسٹریلیا میں تعلیم حاصل کرنے کے حقیقی ارادے کو پہلے سے زیادہ اہمیت دی جا سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ نئی پالیسی ترجیحات سے جنوبی ایشیائی کمیونٹی سمیت وہ افراد متاثر ہو سکتے ہیں جو مستقبل میں آسٹریلیا ہجرت یا تعلیم کے لیے آنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔





