وینزویلا کی نئی عبوری رہنما، ڈیلسی((ڈی ل سی)) روڈریگیز، نے نکولاس مادورو کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے، جب کہ امریکی فورسز نے ہفتے کی صبح کے اوقات میں کاراکاس پر حملہ کیا، فوجی اہداف کو بمباری کا نشانہ بنایا اور صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کر لیا۔
ملک کی سپریم کورٹ نے اتوار کو ایک فیصلے میں محترمہ روڈریگیز کو 90 دن کے لئے عبوری صدر مقرر کیا ہے۔ وینزویلا کی سرکاری ٹی وی پر نشر کی گئی تقریر میں، محترمہ روڈریگیز نے مادورو کی گرفتاری کو ظالمانہ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ملک کے دفاعی کونسل کو فعال کر دیا گیا ہے اور وینزویلا باضابطہ طور پر جواب دے گا۔
دنیا بھر کے رہنماؤں نے امریکی فوجی کارروائی پر مختلف ردعمل دیا ہے، کچھ نے مذمت کی جبکہ کچھ نے حمایت کی ہے۔
اسرائیل، ایکواڈور اور ارجنٹینا ان ممالک میں شامل ہیں جنہوں نے صدر ٹرمپ کو اس کارروائی پر مبارکباد دی ہے، جبکہ چین، روس، برازیل، چلی، میکسیکو اور اسپین نے دیگر ممالک کے ساتھ مل کر اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے کہ امریکہ بین الاقوامی قانون کی پابندی کرنے میں ناکام رہا ہے۔
اقوام متحدہ کا منشور کسی بھی ریاست کی علاقائی سالمیت یا سیاسی خودمختاری کے خلاف طاقت کے استعمال کو ممنوع قرار دیتا ہے۔














