حکومت کا تیل کی فراہمی بڑھانے کے لئے پٹرول کے معیار میں نرمی کا اعلان مگر اس کا مطلب کیا ہے؟

Fuel Prices Rise In Australia As Iran Conflict Continues

Fuel standards are being relaxed for 60 days to increase Australia's supply. Source: Getty / George Chan/Getty Images

آسٹریلیا کی مقامی مارکیٹ میں ایندھن کی فراہمی بڑھانے کے لیے دو ماہ کے لیے ایندھن کے معیار کو نرم کیا جا رہا ہے۔ وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ اس تبدیلی سے ہر ماہ آسٹریلیا کی سپلائی میں اضافی 100 ملین لیٹر پیٹرول شامل ہو جائے گا۔


مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کے تناظر میں حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ تیل کی فراہمی بڑھانے کے لئے پٹرول کے معیار میں نرمی کرہی ہے۔ اس کی تفصیل بتاتے ہئے توانائی کے وزیر کرس بوون کا کہنا ہے کہ زیادہ سلفر والا ایندھن، جس پر چند سال پہلے پابندی عائد کی گئی تھی، اب اگلے 60 دن کے لیے دوبارہ آسٹریلین سپلائی میں شامل کرنے کی اجازت ہوگی، اور اسے برآمد کرنے کے بجائے مقامی مارکیٹ میں استعمال کیا جائے گا۔

وزیرِ توانائی کرس بووَن کا کہنا ہے کہ مقامی سپلائی بڑھانے کے لیے ایندھن کے معیار کو 60 دن کے لیے نرم کیا جرہا ہے۔

مسٹر بووَن کا کہنا ہے کہ خاص طور پر علاقائی آسٹریلیا میں فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔ اس تبدیلی سے برسبین میں ایمپول کی ریفائنری مقامی مارکیٹ کو سپلائی فراہم کر سکے گی،

گزشتہ رات بین الاقوامی توانائی ایجنسی، جس کا آسٹریلیا بھی رکن ہے، نے ایندھن کی مستحکم فراہمی برقرار رکھنے اور قیمتوں میں مزید اضافے کو روکنے کے لیے غیر معمولی طور پر 400 ملین بیرل تیل جاری کرنے پر اتفاق کیا۔

وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ آسٹریلیا کو تیل کی فراہمی جاری ہے اور ملک کے ذخائر تقریباً 30 دن کے برابر ہیں—اگرچہ یہ مقدار آئی ای اے کی اس توقع سے کم ہے کہ رکن ممالک کم از کم 90 دن کے ایندھن کے ذخائر رکھیں۔

اس وقت آسٹریلیا کے پاس پیٹرول کا تقریباً 36 دن، جیٹ فیول کا 29 دن اور ڈیزل کا 32 دن کا ذخیرہ موجود ہے۔

آئی ای اے کی اس کوشش میں آسٹریلیا کی رضاکارانہ شراکت کا تعین کیا جا رہا ہے۔

آزاد رکنِ پارلیمنٹ مونیک رائن نے حکومت کے ردعمل پر تنقید کی ہے اور اسے پیش گوئی کے مطابق ہونے والے قیمتوں کے اضافے کو روکنے کے لئے ناکافی قرار دیا ہے۔ ڈاکٹر رائن کا کہنا ہے کہ اس سے ڈرائیوروں اور کسانوں کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ان کا مؤقف ہے کہ ڈاکٹر چالمرز کی صنعت کے ساتھ نجی بات چیت قیمتوں میں اضافے کو روکنے میں ناکام رہی ہے اور اے سی سی سی کو زیادہ سخت اقدامات کرنے چاہئیں۔

شیڈو وزیرِ دفاع جیمز پیٹرسن کا کہنا ہے کہ ایندھن کا بحران دراصل حکومت کی اپنی پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ پیٹرول کمپنیاں اے سی سی سی کو نظر انداز کر رہی ہیں کیونکہ حکومت اپنے پاس موجود مداخلت کے اختیارات استعمال نہیں کر رہی۔

انہوں نے قیمتوں میں اضافے کی ذمہ داری براہِ راست وزیرِ اعظم انتھونی البانیزی پر عائد کی ہے۔

سینیٹر پیٹرسن کا کہنا ہے کہ جب لیبر پارٹی نے ماضی میں مورِسن حکومت کو ایندھن کی بلند قیمتوں پر ذمہ دار ٹھہرایا تھا تو اب مسٹر البانیزی کو بھی موجودہ بحران کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔

خزانچی جم چالمرز کا کہنا ہے کہ اے سی سی سی ایندھن کی مارکیٹ کی نگرانی کے دوران قیمتوں میں غیر منصفانہ اضافے کی قانونی تعریف طے کرے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت پیٹرول فروخت کرنے والوں کو خبردار کر رہی ہے کہ وہ تنازع کو موقع بنا کر صارفین کا استحصال نہ کریں۔

نیشنل پارٹی کے نئے رہنما میٹ کیناوان نے اے سی سی سی کی تازہ کارروائی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ مزید تحقیقات فوری ایندھن کی قلت کا حل نہیں ہیں۔مسٹر کیناوان کا کہنا ہے کہ صرف نگرانی کے بجائے حکومت کو ان خطرات کی ضمانت دینی چاہیے جن کی وجہ سے غیر ملکی کمپنیاں سپلائی روک رہی ہیں۔نائن کے پروگرام ٹوڈے شو میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ توجہ کاغذی کارروائی کے بجائے اس بات پر ہونی چاہیے کہ ایندھن ان لوگوں تک پہنچے جنہیں اس کی فوری ضرورت ہے۔

_______________
جانئے کس طرح ایس بی ایس اردو کے مرکزی صفحے کو بُک مارک کریں ہر بدھ اور جمعہ کا پورا پروگرام اس لنک پرسنئے, اردو پرگرام سننے کے دیگر طریقے, SBS Audio”کےنام سےموجود ہماری موبائیل ایپ ایپیل (آئی فون) یااینڈرائیڈ , ڈیوائیسزپرانسٹال کیجئے

شئیر

Follow SBS Urdu

Download our apps

Watch on SBS

Urdu News

Watch now