وفاقی حکومت فلاحی کاروباری اداروں معاشرتی تنظیموں کو 22 اقسام کی مختلف گرانٹس دے رہی ہے ۔ یہ امدادی منصوبہ اس 11 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کا حصہ ہے جس کا مقصد طویل مدتی بے روزگاری اور امتیازی سلوک جیسے مسائل سے نمٹنا ہے۔
رویا معین نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ وہ کسی مشہور ریستورنٹ کی ہیڈ شیف بنیں گی۔
وہ افغانستان سے بھاگ کر وہ 2014 میں آسٹریلیا آئی تھیں۔ بنیادی طور پر ان کا کام کرنے کا تجربہ اپنے خاندان کے لیے گھریلو خاتون کے طور پر تھا۔ لیکن پھر، تین سال پہلے، انہیں کابل سوشل میں کام کرنے کا موقع ملا۔
اب وہ ایک خیراتی باورچی خانےمیں ایک ہیڈ شیف کے طور پر کام کرتی ہیں جس کا مقصد پسماندہ افراد کو بااختیار بنانا ہے۔
اس کچن کی آمدنی سے سڈنی اور افغانستان میں ضرورت مندوں کی مدد کی جاتی ہے
اس قسم کے اقدام کو وفاقی حکومت کی حمایت حاصل ہے اور اب ایسے فلاحی پروگرامز کو 120,000$ کی گرانٹ مل رہی ہے۔ سماجی خدمات کی وزیر تانیا پلائبرسیک نے خود افغان کھانوں کا تجربہ کیا۔
شان کرسٹی چار ریستورانٹ چلانے کے ساتھ پلیٹ اٹ فارورڈ ہاسپٹلٹی کے سی ای او ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ یہ پلیٹ اٹ فارورڈ کے کام کو آگے بڑھانے کا ایک موقع ہے۔





