اس تنازعے نے بااثر شخصیات اور ماضی کے تعلقات پر ایک بار پھر سوالات اٹھا دیے ہیں، اور اس کے اثرات واشنگٹن سے یورپ اور عالمی اداروں تک پھیلتے جا رہے ہیں۔
جیفری ایپسٹین کے جرائم سے پیدا ہونے والا سیاسی ردِعمل مسلسل شدت اختیار کر رہا ہے۔
جو معاملہ ایک سرمایہ کار کے خلاف فوجداری تحقیقات کے طور پر شروع ہوا تھا، وہ اب ایک عالمی احتساب میں بدل چکا ہے، جس کی زد میں صدور، سابق وزرائے اعظم اور بڑے بین الاقوامی ادارے آ چکے ہیں۔
واشنگٹن میں سیاسی رہنما ایپسٹین کی تحقیقاتی فائلوں کے اجرا پر آمنے سامنے ہیں، جبکہ نیویارک میں سابق وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن سے حلف کے تحت سوالات کیے گئے۔
ان کی پیشی سے قبل، ہاؤس اوور سائٹ کمیٹی کے چیئرمین جیمز کومر نے کہا کہ سینئر شخصیات کو بیان دینے پر مجبور کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ تحقیقات سنجیدہ ہیں۔





